ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

پاکستان نے پچھلے دو ماہ میں سیاسی، سفارتی او رڈپلومیسی کے محاذ پر مسئلہ کشمیر کے تناظرمیں بہت کچھ حاصل کیا ہے او ربالخصوص جس انداز سے مسئلہ کشمیر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

وزیر اعظم عمران خان نے خود کو واقعی مسئلہ کشمیر پر ایک بڑے سفارت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کا اعتراف پاکستان اور  دنیا میں بھی کیا جارہا ہے او ربالخصوص وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر اور 70 سے زیادہ مختلف میٹنگز نے مسئلہ کشمیر کی عالم گیر حیثیت کو بحال کیا ہے۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ  دنیا کے میڈیا، تھنک ٹینک، انسانی حقوق سے جڑے ادارے اور رائے عامہ تشکیل دینے والے عالمی اداروں نے بھارت کے موقف کے مقابلے میں پاکستان کے موقف کو قبول کرکے ہمارے لیے سفارتی محاذ پر نئے راستے کھولے ہیں۔

اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگرچہ عالمی دنیا کے حکمران طبقات میں بھار ت کی حیثیت ہمارے مقابلے میں کافی مضبوط ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں بڑا دبا ؤ بھی اس وقت بھارت پر ہے۔ خود بھارت میں نریندر مودی کے خلاف مزاحمت موجود ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نریندر مودی کے اقدامات نے عالمی سطح پر بھار ت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔پاکستان میں میڈیا اور حکمران طبقہ کی سطح پر  وزیر اعظم کی تقریر کے بعد کافی جوش  ہے۔پرجوش ہونا اور سفارتی کامیابی پر خوش ہونا اچھی بات ہے، مگر یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ابھی یہ کامیابی بھی ابتدائی سطح کی ہے۔ ابھی سیاسی اور سفارتی محاذ پر ایک بڑی جنگ درکار ہے۔

اصل اور بڑا چیلنج یہ ہی ہے کہ ہم نے حالیہ ماہ میں جس انداز سے مسئلہ کشمیر کی پرجوش کو بیدار کیا ہے اسے کیسے برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ اس مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنا او رعالمی دنیا کی توجہ، حمایت او رمدد حاصل کرنا ہی بڑی حکمت کا تقاضہ کرتا ہے۔بڑا چیلنج یہ نہیں کہ پاکستان میں مسئلہ کشمیر پر کیا موقف رکھتا ہے بلکہ اس سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ  دنیا کا مسئلہ کشمیر پر کیا موقف ہے او راسے اپنی حمایت میں کیسے تبدیل کرسکتے ہیں۔  دنیا اس وقت تین بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ اول حکمران طبقہ، دوئم عالمی میڈیا اور رائے عامہ تشکیل دینے والے ادارے اور سوئم عوام۔ اس وقت ہم نے عالمی میڈیا اور  دنیا  کے عوام کی تو کافی حمایت حاصل کی ہے، مگر حکمران طبقات جن کے مالی مفادات اہم ہیں   اس پر بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا بنیادی نکتہ کہ  دنیا اور بڑی طاقتوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اسے سوا ارب کی منڈی درکار ہے یا اسے انسانیت کی اہمیت زیادہ ہے۔ پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ  دنیا کی بیداری اور عوامی حمایت میں ایک بڑا بنیادی نکتہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہے۔ مغرب کا میڈیا اور عوام اس مسئلہ پر حساسیت رکھتی ہے او را س کو بنیاد بنا کر ہم بھارت پر اپنا بڑا دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔لیکن اس کے لیے ہمیں محض جذباتی ہونے کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر اپنے اندر تحقیقی عمل کو آگے بڑھانا ہوگا اور شواہد کی بنیاد پر انسانی حقوق کے مسئلہ کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ پاکستان سفارتی سطح پر کچھ بڑے ممالک میں مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کے تناظر میں بڑی کانفرنسز کرے اور  دنیا کی حکومتوں اور انسانی حقوق سے جڑے اداروں کو اس بحث مباحثہ کا حصہ بنائے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیا کچھ کررہا ہے۔اسی طرح اسلام آباد میں ایک بڑ ی عالمی کانفرنس کشمیر کے تناظر میں ہونی چاہیے جس میں عالمی قیادت کو بھی مدعو کیا جائے او رایک مشترکہ اعلامیہ کی مدد سے بھار ت پر دباؤ بڑھایا جائے۔

بھارت اس وقت تک مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کچھ نہیں کرے گا جب تک اس پر داخلی اور خارجی محاذ سے کوئی دباؤ نہیں بڑھے گا۔ہمیں بھارت کے اندر سے بھی اور  دنیا کو اپنے ساتھ جوڑ کر بھارت کو باور کروانا ہوگا کہ اس کی موجودہ کشمیر پالیسی سے صرف مسئلہ کشمیر ہی بگاڑکا شکار نہیں ہوگا بلکہ پاک بھارت تعلقات اور خطہ کی مجموعی سیاست پر بھی اس کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ایک کام پاکستان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ پاک بھارت تعلقات او رمسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایک ”سفارتی ایمرجنسی“ کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ کیونکہ ہمیں عملی طور پر دنیا میں موجود اپنے سفارت کاروں، سفارت خانوں کو بہت زیادہ متحرک کرنا ہوگا اور اس پر  سرمایہ کاری کرکے اسے فعال کرنا ہوگا تاکہ اس عمل کی مدد سے ہم عالمی دنیا میں اپنا مقدمہ بہتر طور پر پیش کرسکیں۔

پاکستان کے پاس اچھے سابق سفارت کار او رڈپلومیٹ موجود ہیں ہمیں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے او را س کے لیے ایک  تھنک ٹینک قائم کرنا چاہیے جو ہمیں سفارتی محاذ پر علمی و فکری مدد فراہم کرسکے۔کیونکہ ہمارے پاس عملی طو رپر پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کے تناظر میں کوئی بڑا تھنک ٹینک موجود نہیں اور ہمیں ان سابق سفارت کاروں کو عالمی سطح پر باہر بھیجنا چاہیے تاکہ یہ لوگ اپنے تجربے  اور رابطوں کی مدد سے قومی ذمہ داری کا حق ادا کرسکیں۔اس کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو پہل کرکے سابق سفارت کاروں پر مبنی ایک گول میز کانفرنس طلب کرنی چاہیے او ران کی تجاویز کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے۔کیونکہ جب پاکستان نے عملی طور پر یہ طے کرلیا ہے کہ اس نے پاک بھارت او رمسئلہ کشمیر کا مقدمہ سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنا ہے تو ہمیں اسی محاذ کو بہت زیادہ مضبوط اور فعال کرنا ہوگا۔

اسی طرح ہمیں کشمیری قیادت کو بھی اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا ہوگا او ران کے نکتہ نظر کو بنیادی فوقیت دینی ہوگی کہ وہ عملی طور پر وہ کیا چاہتے ہیں  او ران کی تحریک کو ہر سطح پر سیاسی اور سفارتی مدد کرنی ہوگی۔ خاص طور پر پاکستان کو اس پہلو سے بچنا ہوگا کہ ہم وہاں کسی بھی سطح کی جدوجہد میں مسلح جدوجہد کی حمایت کریں یا اس میں کودیں۔ خود کشمیر قیادت کو بھی یہ باو رکروانا ہوگا کہ ان کی حالیہ کامیابی کا بنیادی نکتہ پرامن سیاسی جدوجہد سے جڑا ہے او رمسلح جدوجہد ان کی تحریک کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔کیونکہ  دنیا کی نظریں پوری طرح پاکستان پر مرکوز ہیں اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہماری حمایت کس طرز کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جو باتیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کی ہیں ان کو عملی طو رپر سچ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم امن کے داعی ہیں او رامن کو بنیاد بنا کر ہی اپنا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں جو لو گ پاک بھارت اور کشمیر کے تناظر میں جنگی ماحول کو شدت دینا چاہتے ہیں ان کو ہر سطح پر روکنا ہوگا کیونکہ یہ حکمت عملی ہمارے مفاد میں نہیں ہوگی او راس کا فائدہ بھارت کو  ہوگا جو ہمیں دہشت گرد کے طور پر دنیا میں پیش کرتا ہے۔

ایک مسئلہ حکومت او رحزب اختلاف کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم قومی مسائل پر بھی تقسیم میں نظر آتے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف میں جو بھی مسائل ہیں وہ اپنی جگہ لیکن کشمیر کے مسئلہ پر ہمیں ایک بڑے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ اور فکر پیش کرنا جیسے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے کشمیر کا سود ا کرلیا ہے ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ اس پر  وزیر اعظم عمران خان کو اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ فخر امام اور وزیر خارجہ کو حزب اختلاف کو جوڑ کر آگے بڑھنے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔کیونکہ کشمیر کے تناظر میں یہ تقسیم کہ حکومت اور حزب اختلاف تقسیم ہے یہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گی۔اسی طرح آزاد کشمیر کی قیادت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور ان کی رائے کو بھی ہر سطح پر اہمیت دینی ہوگی تاکہ سب فریقین یکجا نظر آئیں۔

ہمیں کشمیر پالیسی میں ایک بڑ ے تسلسل کی ضرورت ہے او رمحض ردعمل کی سیاست سے گریز کرکے ہمیں شارٹ ٹرم، مڈٹرم او رلانگ ٹرم سطح پر پالیسی درکار ہے او راس پر ایک  اتفاق رائے پیدا کرکے  دنیا کو اپنے قریب لانا ہوگا۔میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنا کر اسے کشمیر کاز کے حق میں استعمال کرنے کی حکمت عملی درکار ہے۔کیونکہ اب جنگیں جنگی میدانوں کے مقابلے میں میڈیا کے محاذ پر لڑی جارہی ہیں او راس میں ہمیں اپنے میڈیا کے محاذ کو ایک نئی جدت دینی ہوگی جو پاکستان او رکشمیر کا مقدمہ درست انداز میں عالمی دنیا کے سامنے پیش کرسکے جو ہماری کامیابی کی بنیاد بن سکے۔

loading...