سپریم کورٹ نے قاسم سوری کو ڈپٹی اسپیکر کے طور پر بحال کردیا

  • سوموار 07 / اکتوبر / 2019
  • 360

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی انتخابی کامیابی کالعدم قرار دینے سے متعلق الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔ درخواست پر حتمی فیصلہ ہونے تک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کی اسمبلی رکنیت بحال کردی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف قاسم سوری کی اپیل پر سماعت کی اور اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ واضح رہے کہ قاسم سوری نے الیکشن ٹریبونل کی جانب سے انتخابات میں ان کی کامیابی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف ایڈووکیٹ نعیم بخاری کے توسط سے عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی تھی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن ٹریبونل نے شواہد کا جائزہ نہیں لیا جبکہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ان کے موکل کی ذمہ داری نہیں ہوسکتیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

دوران سماعت جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ سوال یہ ہے ہم نے آپ کو حکم امتناع دینا ہے یا نہیں۔ وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ دیا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہوگیا ہے یا نہیں؟

وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ ابھی ضمنی انتخاب نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قاسم سوری نے انتخابات میں 25 ہزار 973 ووٹ لیے تھے جبکہ لشکر رئیسانی نے 20 ہزار 84 ووٹ حاصل کیے تھے اس طرح قاسم سوری نے لشکر رئیسانی سے 5585 زیادہ ووٹ لئے تھے۔ جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ 49 ہزار 40 فنگرپرنٹس درست نہیں ہیں اور52 ہزار فنگرپرنٹس کی کوالٹی درست نہیں تھی۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کی نظرثانی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کافیصلہ معطل کردیا اور الیکشن کمیشن کوضمنی انتخاب کروانے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ درخواست پر فیصلے تک ضمنی انتخاب نہ کرایاجائے۔ فیصلے کے بعد قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر دوبارہ بحال ہوگئے ہیں۔

27 ستمبر کو الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے کامیاب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ قاسم سوری کی انتخابی کامیابی کو نوابزادہ لشکری رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ لشکری رئیسانی ان 5 امیدواروں میں سے ایک تھے جنہوں نے این اے 265 سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن انہیں قاسم سوری سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

الیکشن ٹریبونل نے این اے 265 کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا تھا اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم بھی جاری کردیا تھا۔

loading...