اینٹی سوشل میڈیا

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اُسے بگڑا ہوا آوا کہنا نا مناسب یا غلط نہیں ہوگا۔ ہماری روز مرہ گفتگو میں ماں بہن کی غلیظ جنسی فحاشی پر مبنی گالی گلوچ معمول کی بات ہے ۔ ہمارا گالی دینے اور کھانے کا سٹائل ایسا ہے گویا ہم دہی بڑے یا گول گپّے کھا اور کھلا رہے ہوں۔

 اور ہماری منافقت کا یہ عالم ہے کہ ہم ماں کے قدموں تلے جنت تلاش کرتے ہیں اور مونہہ زبانی ایک دوسرے کی ماں کی عصمت دری کرنے میں ذرا سا تامل نہیں کرتے ۔ ہمارا یہ زبانی تشدد ہمارے باطن میں چھپے تشدد کا لسانی اظہار ہے بالکل اسی طرح جیسے ہمارے شہروں میں جگہ جگہ پڑا ٹنوں کوڑا کرکٹ ہماری باطنی غلاظت کا گواہ ہے ۔ چنانچہ گالی ہو یا گولی ، اس کا دارومدار توفیق پر ہے ۔ جو گالی دینے کی توفیق رکھتا ہے وہ بلا تکلف  لگی لپٹی رکھے بغیر گالیوں کی بارش کرتا ہے  اور جس کو پستول ، بندوق یا کوئی سا بھی آتشیں اسلحہ رکھنے کی توفیق ہے وہ گالی کے بجائے گولی چلاتا ہے اور اس توفیق اور استطاعت کا مظاہر ہ ہمیں اپنے اطراف و جوانب میں روز دیکھنے کو ملتا ہے ْاور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اب یہ رویہ ہمارا اجتماعی قومی مزاج بن چکا ہے ۔

اب پاکستان کو وجود میں آئے بہتر برس ہو چکے ہیں ، اور میں جو عمر میں پاکستان سے بڑا ہوں ، غلیظ گالی گلوچ کو پاکستان کے گلی کوچوں سے لے کر پولیس فورس کے تھانوں اور چوکیوں سے لے کر سکولوں کالجوں کی کینٹینوں اور گلی محلوں کے تھڑوں تک یکساں ذوق و شوق سے لوگوں کے ہونٹوں پر پھلتا پھولتا اور نمو پاتا دیکھتا آیا ہوں۔ یہاں تک کہ بعض بزرگوں اور دانشمندوں کا تکیہ کلام ہی ماں کی گالی رہی ہے ۔ اور لگتا ہے کہ پون صدی میں اب یہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے ۔ہمارے اس رویے نے پاکستان کو اسلامی معاشرے کی بنیادوں پر استوار ہونے نہیں دیا ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ من حیث القوم اور من حیث المعاشرت ہم بڑے غیر ذمہ دار لوگ ہیں کیونکہ ہمارے اسلام کی تعلیم دینے والے ادارے اپنے تبلیغی طریقِ کار کو تربیتی نوعیت کا مشن نہیں بنا سکے جو روح اور قلب کی تطہیر کر کے معاشرے کی اخلاقی کایا کلپ کر سکے ۔

میں نے بارہا مسلمانوں کے  گھروں میں دیکھا ہے کہ نشست کے کمرے میں طاق پر قرآنِ کریم کے نسخے سجے ہیں جن میں لکھا ہے : لا تفسدو فی الارض کہ اللہ کی زمین پر فساد مت کرو ، مگر اُسی قرآن کے سامنے بیٹھ کر رشتہ دار ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ کر فساد برپا کر رہے ہوتے ہیں ۔ صرف اسی پر بس نہیں ، وہ اللہ کے اس حکم کی بھی پاسداری نہیں کر رہے ہوتے جس میں کہا گیا ہے کہ : (قولو للناسِ حسنا) لوگوں سے حُسنِ اخلاق سے بات کرو اور وہ بھانت بھانت کی گالیوں سے طوفانِ بد تمیزی برپا کر رہے ہوتے ہیں ۔ یعنی وہ خدا کی کتاب کا احترام بھی نہیں کرتے ۔ اور اب یہ ایسا زمانہ ہے جس میں بعض علمائ صورت لوگ گالی کو خطبات و مواعظ میں بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اُن کی یہ گالیاں مجمعے کو سبحان اللہ کہنے سے باز نہیں رکھ سکتیں ۔ یعنی واہ سبحان اللہ کیا گالی ہے ۔

اب یہ رویہ سیاست ، صحافت اور الیکٹرانک میڈیا سے ہوتا ہوا سوشل میڈیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور بہت مقبولِ عام ہے ۔ اچھے بھلے خواندہ لوگ جو خود کو دانش ور اور سیاسی مفکر سمجھتے ہیں ، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے ، ایک دوسرے کی ناقابلِ بیان اسمائ سے تواضع کرنے کو کارِ ثواب سمجھتے ہیں بلکہ ہمارے ایک شناسا کے بیان کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی عزتیں لُوٹتے ہیں اور اس پر مذہبی پولیس اور اخلاقی نیب کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ سوشل میڈیا کے ان جنگجوؤں میں ایک طرف نون لیگی ، پی پی کے پپو اور جوئی کے باریش بزرگ ہیں اور دوسری طرف پی ٹی آئی والے جنہیں مخالفین یوتھیے لکھتے ہیں مگر بھلا ہو کہ کہ یوتھیے کے لفظ کا آغاز چ سے نہیں کرتے اگرچہ کہنا وہ یہی چاہتے ہیں ۔

وہ ایک دوسرے کے خلاف غیر مصدقہ خبریں بالعموم انتہائی مکروہ انداز میں شائع کرتے ہیں جن کے مصدقہ ہونے کا کوئی حوالہ درج نہیں ہوتا لیکن جس طرح مزے لے لے کر ایک دوسرے کے لیڈروں کے خاکے اور پرزے اُڑائے جاتے ہیں اُس سے مختلف سیاسی جماعتوں کے مبلغِ اخلاق کا پتہ چلتا ہے لیکن وہ اپنی جماعتوں کی فکری حمایت کے نشے میں اتنے مست ہوتے ہیں کہ اُنہیں اپنی دریدہ دہنی ، ژاژ خائی اور بد گوئی کا احساس تک نہیں ہوتا جب کہ یہ بیانیے اُن کے اخلاقی دیوالیہ پن کا واشگاف اظہار ہوتے ہیں ۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ لوگ اپنی عزتِ نفس کا تحفظ بھی نہیں کرتے ۔ وہ اپنے ذہن کو طرح طرح کے غلیظ اور منفی خیالات سے آلودہ رکھتے ہیں اور پھر اپنے اندر کی نجاست کو سوشل میڈیا پر چھڑک کر اچھے بھلے سوشل میڈیا کو اینٹی سوشل میڈیا میں بدل دیتے ہیں ۔

یہ صورتِ حال دیکھ کر ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر ہم ہیں کیا چیز ۔کیا ہم سچ مچ مسلمان ہیں ؟ اگر ہیں تو کیا مسلمان اتنا بد اخلاق بھی ہوسکتا ہے ؟ ایک طرف تو ہم نبی  آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے ماں باپ تک قربان کرنے کے دعوے کرتے ہیں ، درود شریف کے ورد کرتے ہیں مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیمات کو درخُورِ اعتنا نہیں سمجھتے ۔ اب ایسے لوگ جو غائت درجہ بد اخلاق ، عادی دشنام طراز ،بہتان تراش اور غیبت گو ہوں ، وہ کس مونہہ سے خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کہتے ہیں ۔ شرم نہیں آتی اُن کو ؟ شاید بالکل بھی نہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے بارے میں تو یہ تک کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ہزار بار بھی مشک و گلاب سے اپنا مونہہ دھوئے ، پھر بھی آپؐ کا نام لینا اُس کے لیےبے ادبی ہے ۔ اور ہمارے ہاں ایسے ایسے بے ادب ہیں جو ایک تسبیح بدبودار گالیوں کی کرتے ہیں اور اس کے بعد مسجد میں جا گھستے ہیں اور بالکل بھی نہیں سوچتے کہ اُن کے ایسے رویوں سے اسلامی معاشرت کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں ، لیکن شاید ہم اتنی ذہنی صلاحیت کے حامل ہیں ہی نہیں کہ اپنی بے ادبیوں کا اندازہ لگا سکیں کیونکہ آئینہ دیکھنا ہمیں پسند نہیں اور اگر ہوتا تو ہم اپنی باچھوں سے لٹکتی گالیوں کو دیکھ پاتے ۔ اے کاش ۔ ۔ ۔

loading...