مولانا فضل الرحمان کا آزاد ی مارچ: شاہ محمود کا مشورہ اور حکومت کی بدحواسی

وزیر اعظم عمران خان   کے علاوہ وزیر داخلہ  سید اعجاز شاہ اور  مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمان    کی طرف سے 27 اکتوبر کو   آزادی مارچ  کا آغاز کرنے کے اعلان  کا استقبال  طعنوں، دھمکیوں اور فوج بلانے کے انتباہ سے دیا ہے۔        

مولانا کو آزادی مارچ سے باز  رکھنے کی سب سے کامیاب کوشش البتہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی ہے۔ انہوں نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو باور کروایا ہے کہ 27 اکتوبر  1947 کو بھارتی  فوج سری نگر میں اتری تھی اور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا گیا تھا۔ اس لئے  کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر  مناتے ہیں۔ انہوں نے مولانا کو مشورہ دیا کہ وہ کشمیر کاز کی وجہ سے  27 اکتوبر کو  احتجاج نہ کریں بلکہ یہ کام   کسی دوسرے روز کرلیں تاکہ  کشمیریوں کے ساتھ  اظہار یک جہتی کا مقصد بھی پورا ہوجائے اور  مولانا احتجاج کرنے کا اپنا جمہوری حق اور شوق  بھی پورا کرلیں۔

شاہ محمود قریشی گھاگ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں ۔ اس لئے انہوں نے کشمیر کا جذباتی حربہ استعمال کرنے کے علاوہ ریشمی لفظوں میں لپٹی یہ دھمکی بھی مولانا فضل الرحمان تک پہنچائی ہے کہ ’دو روز قبل کشمیر سیل میں اجلاس ہؤا تھا۔ اس میں وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت اہم رہنما موجود تھے اور متفقہ فیصلہ کیا  گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے گزارش کی جائے  کہ اس سال 27 اکتوبر 2019 کو یوم سیاہ کے طور منایا جائے‘۔ یعنی  شاہ محمود قریشی  مولانا کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں  کہ ایک طرف آپ نام نہاد ’آزادی مارچ ‘ لے کر نکلیں گے تو دوسری طرف حکومت کا اعلان کردہ کشمیر یوں کے ساتھ اظہار یکجہتی  کا’یوم  سیاہ‘ سرکاری طور سے منایا جارہا ہوگا۔ اس طرح مولانا کی بھی سبکی ہوگی اور پوری قوم حیران ہوکر دیکھے گی کہ جب ساری قوم کشمیر کے لئے احتجاج کررہی ہے تو یہ مولوی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی  علیحدہ مسجد بنانے پر کیوں بضد ہیں۔

تاہم لگتا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے  یا تو مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس غور سے  سنی  نہیں  یا وہ  مولانا کو روکنے کے بہانے  کسی طرح اپنی حکومت سے ’خود مختارانہ‘ پالیسی  پر چلنے اور اپنی دور اندیشی  ومصلحت کوشی  کی عملی  تصویر سامنے لانے کے لئے یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بدخواہ تو پہلے ہی اشاروں کنایوں اور جھوٹی قیاس آرائیوں کے ذریعے ملتان کے شاہ صاحب کو متبادل وزیر اعظم  کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں حالانکہ شاہ محمود نے ہر موقع پر اپنے قائد کی وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔

 اب آزادی مارچ کے حوالے سے صورت حال کا  جائزہ لیا جائے  تو جانا جاسکتا ہے کہ اگر شاہ صاحب  کشمیر دلیل کے بل بوتے پر مولانا فضل الرحمان کو حکومت کے  خلاف سڑکوں پر نکلنے سے باز رکھنے کی کوشش نہ کرتے تو حکومت دشمن عناصر وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور مشیر اطلاعات کے بیانات کی روشنی میں  یہی سمجھتے کہ حکومت احتجاج کے  اعلان سے ڈر گئی ہے  اور  اس کا  اعلان ہوتے ہی دھمکیوں ، گرفتاریوں اور  طعنوں  پر اتر آئی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان نے  اس صورت حال پر غور کرنے کے لئے اپنے میڈیا ترجمانوں کا اجلاس طلب کیا اور انہیں  بتایا کہ ’ فضل الرحمان  اس مارچ کے ذریعے اپنی عدم مقبولیت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکومت مدرسوں میں اصلاحات نافذ کرنے والی ہے جس کی وجہ سے مولانا پریشان ہوگئے ہیں۔ ان اصلاحات کے بعد مدرسوں کے طالب علموں کو اس قسم کے کاموں میں استعمال نہیں کیا جاسکے گا‘۔

وزیر اعظم  کی بات کو درست اور جائز ثابت کرنے کے لئے فردوس عاشق اعوان نے  ایک ٹوئٹ میں   واضح  کیا کہ ’مدرسوں کے بچوں کو ڈھال بناکر باہر نکلنا   جمہوریت  نہیں ہے‘۔  انہوں نے  یہ  مشورہ بھی  دیا کہ مولانا صاحب کو ملک لوٹنے والوں کی حمایت میں احتجاج نہیں کرنا چاہئے۔ کیوں کہ عمران خان کے خلاف احتجاج کا مقصد کرپشن کا لائسنس جاری کرنا ہے۔ وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ   ایک روز قبل یہ انکشاف کرچکے ہیں  کہ نواز شریف کو ان کے چند مصاحبین نے گمراہ کیا  ہے۔ اگر وہ چوہدری نثار علی خان کے مشوروں پر کان دھرتے تو وہ چوتھی بار بھی  ملک کے وزیر اعظم ہوتے۔  اس طرح   اطلاعات کی مشیر نے کرپشن کے  جس غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کی ہے ، اعجاز شاہ اپنے ’دبنگ بیان‘ کے ذریعے اس غبارے میں پہلے ہی سوراخ کرچکے تھے۔

وزیر داخلہ نے البتہ مولانا فضل الرحمان کو متنبہ  کیا ہے کہ ’حکومت مظاہرین کو توڑ پھوڑ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر ضرورت پڑی تو فوج کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ حکومت صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام آباد کے ریڈزون میں دفعہ 144 نافذ کی جائے گی اور داخلے کے سارے راستے بلاک کردیے جائیں گے‘۔  یہ ایک ایسے وزیر اعظم  کے وزیر داخلہ کا بیان ہے جو  تھوڑا عرصہ پہلے تک  اپوزیشن کو دعوت دیتے تھے کہ ’آؤ ۔  ڈی گراؤنڈ میں  دھرنا دو۔ کنٹینر ہم فراہم کردیں گے‘۔ بلکہ عمران خان تو مظاہرین کے کھانے پینے  کا بند و بست کرنے کی بات بھی کرتے رہے ہیں کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن کسی صورت ان کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکے گی۔

یہ صورت حال شاہ محمود قریشی کی  جہاندیدہ نگاہوں کے سامنے رونما ہورہی تھی۔ وہ بھی عام پاکستانیوں کی  طرح احتجاج کا باقاعدہ اعلان  ہوتے ہی حکومت کی بدحواسی کا مشاہدہ کررہے تھے۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ  ان  کے قائد اور  کابینہ کے رفقا نے جس طرح مولانا کے احتجاج پر سنجیدگی سے تبصرے شروع کئے ہیں ، اس سے یہ تاثر قائم ہوگا کہ حکومت ڈر گئی ہے یا وہ سیاسی کارکنوں کو احتجاج کرنے کا جمہوری حق نہیں دینا چاہتی۔ اسی لئے انہوں  نے حکومت کو اس بحران سے نکالنے کے لئے معاملہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مولانا کو یاد دلایا ہے کہ  اس روز تو دشمن نے کشمیر پر قبضہ کیا  تھا ۔ کیا وہ اس  یوم سیاہ کو  حکومت کے خلاف احتجاج کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کریں گے؟ انہیں تو اس معاملہ کی حساسیت کا خوب اندازہ ہونا چاہئے ۔ وہ تو خود کشمیر کمیٹی کے چئیرمین رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان  احتجاج  کا اعلان کرچکے ہیں۔ ایک طرف انہیں  اپنی ہمسفر  دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے اس اصرار کا احساس ہے کہ اس احتجاج کو مذہبی نہ بنایا جائے تو دوسری طرف انہیں مذہبی حلقوں میں اپنی  پہنچ اور ان کی توقعات کا بھی اندازہ ہے۔ انہوں نے  اپنے احتجاج  کو آزادی مارچ   کا نام دے کر  عمران خان کے استعفے، حکومت کی برطرفی، نئے انتخابات کے انعقاد  تک محدود کیا ہے۔ اب شاہ محمود قریشی کشمیر  کو بیچ میں لے آئے ہیں۔  شاہ محمود قریشی اگر تجربہ کار سیاست دان اور گدی نشین پیر ہیں تو مولانا  فضل الرحمان بھی  گرگ باراں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ  دینی و سیاسی رہنما ہیں۔ انہوں نے  27 مارچ کو احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  حکومت پر ’کشمیر فروخت ‘ کرنے  کا الزام  بھی لگایا تھا  اور کہا تھا کہ  وہ اس معاملہ پر اپنا تفصیلی بیان جاری کریں گے اور بتائیں گے کہ حکومت نے کس طرح کشمیریوں  کے ساتھ دغا کی ہے۔

حکومت اور وزیر اعظم نے اگر شاہ محمود قریشی کی یہ تجویز مان لی کہ 27 اکتوبر کو کشمیر پر بھارتی فوج کے قبضہ کی  برسی منانے کے لئے یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا جائے تو  سوچنا چاہئے  کہ کیا اس روز حکومت سرکاری طور پر جمیعت علمائے اسلام کے احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کر بیٹھے گی؟ مولانا تو اپنا احتجاج  اسی اعلان کے تحت شروع کرنے والے ہیں کہ حکومت معیشت، سیاست، خارجہ امور اور کشمیر کے سوال پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔  جب  مولانا اپنے ساتھیوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے اور حکومت انہیں روکنے کے لئے اپنا زور بازو آزما رہی ہوگی تو ’یوم سیاہ‘ کے اعلان کا کیا بنے گا؟ کیا یہ  کشمیریوں سے اظہار یک جہتی ہوگا یا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان  مسئلہ کشمیر  پر حق ملکیت کا  جھگڑا ہو گا جس کا فیصلہ سڑکوں پر کیا جائے گا؟

شاہ محمود قریشی نے  اگرچہ سیاسی مہارت سے آزادی مارچ کے بارے میں  حکومت کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ کشمیر کا معاملہ بیچ میں لا کر  ایسی سیاسی تکنیکی ٹھوکر کھا بیٹھے ہیں ، جس کا خسارہ  مولانا فضل الرحمان سے زیادہ خود حکومت کو ہوسکتا ہے۔ یا شاہ صاحب اپنی حکومت کے غیر جمہوری  طرز عمل کی اصلاح  اور  مولانا فضل الرحمان کے حق احتجاج کے لئے سر  پرکفن  باندھ کر  میدان میں نکلے ہیں؟

معاملہ کچھ بھی ہو مولانا فضل الرحمان   کے  اعلان  نے اقتدار  کے ایوانوں میں زلزلہ تو طاری کیا ہے۔ اور ابھی تو کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہؤا ہے۔ پنجہ آزمائی تو تین ہفتے بعد ہوگی۔

loading...