کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکی سیاستدانوں اور میڈیا کی بڑھتی تشویش

  • جمعہ 04 / اکتوبر / 2019
  • 340

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد تقریبًا دو ماہ سے جاری کرفیو سمیت مختلف پابندیوں اور قدغنوں میں لاکھوں افراد جکڑے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ وادی کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹیلیفون سمیت مواصلاتی نظام کی بھی بندش سے عام شہریوں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ حالات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ کے متعدد سیاست دان اور ذرائع ابلاغ ان پابندیوں پر انڈین حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور متعدد اخباروں اور ٹی وی نیوز چینلز پر خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں۔ اس ضمن میں امریکی کانگریس میں ایوان نمائندگان کی ایشیا پر ذیلی کمیٹی کا اجلاس اِسی ماہ طلب کیا گیا ہے جس میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

امریکہ کے ایوان زیریں یا ایوان نمائندگان کی ایشیا پر ذیلی کمیٹی کی سربراہ بریڈ شرمن نے اعلان کیا ہے کہ 22 اکتوبر کو جنوبی ایشیا کے بارے میں سماعت کی جائے گی جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اجلاس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق خارجہ امور کی قائم مقام نائب سیکرٹری ایلس ویلز، امریکہ کے بین الاقوامی آزادی مذہب کے سفیر سام براؤن بیک اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی طلب کیا جائے گا۔

کانگریس کی اس کمیٹی کے اجلاس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہریوں کی گرفتاریوں سمیت وہاں عائد پابندیوں کے باعث لوگوں کو درپیش مسائل، اشیائے خورو نوش کی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور مواصلاتی نظام کی بندش پر بھی غور کیا جائے گا۔  کمیٹی کے چیرمین بریڈ شرمن نے اس بارے میں ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے کچھ کشمیری نژاد افراد سے ملاقات بھی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے وادی سان فرنینڈو میں اپنے ساتھی رکن کانگرس اینڈرے کارسن کے ہمراہ متعدد کشمیری نژاد امریکیوں سے ملنے کا موقع ملا۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں گفتگو میں انہوں نے اپنے رشتہ داروں کی سلامتی کے بارے میں پریشانی کا اظہار کیا۔ میں کمیٹی کے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفضیلات حاصل کروں گا۔'

کانگریس کی کمیٹی کے اس اجلاس میں کشمیر کے علاوہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔  امریکہ کے ایوان نمائندگان کے کئی ممبران نے اپنے بیانات میں کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر مودی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی اس سلسلہ میں خطوط لکھ چکے ہیں۔

مینیسوٹا کی مسلمان رکن کانگریس الہان عمر نے بھی چھ اراکین کانگریس کے ساتھ مل کر امریکہ کے پاکستان اور انڈیا میں سفیروں کو خطوط لکھ کر اپیل کی ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انڈین نژاد رکن کانگریس پرمیلا جیاپال نے الہان عمر اور 12 دیگر اراکین کانگریس کے ساتھ مل کر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مودی حکومت کشمیر میں حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کرے اور وہاں انٹرنیٹ اور ٹیلیفون پر عائد بندش ختم کی جائے۔

بیان میں اس بات پر بھی انڈین حکومت پر تنقید کی گئی کہ وہ اپنے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کو مسجدوں میں نماز پڑھنے پر عائد پابندی ختم کرے کیونکہ وہاں کے شہریوں کو بھی انڈیا کے دیگر شہریوں کے طرح حقوق حاصل ہیں۔  امریکہ میں 'ہندو فار ہیومن رائٹس' نامی ایک تنظیم کی سنیتا وشواناتھن کہتی ہیں کہ وہ خوش ہیں کہ ہندو اور انڈین نژاد رکن کانگریس نے کشمیریوں کے حالات پر آواز اٹھائی ہے۔  سنیتا کا کہنا ہے کہ 'میں سمجھتی ہوں کہ امریکی اراکین کانگریس کشمیر کے معاملے میں سوالات کر رہے ہیں تو اس کا اثر تو پڑے گا۔ میں خصوصاً اس لیے بھی خوش ہوں کہ کچھ ہندو اور انڈین نژاد اراکین کانگریس بھی کشمیریوں کے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔'

اس سے قبل امریکہ کے چار اہم سینیٹروں نے بھی کشمیر میں کشیدہ حالات کے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ انڈین حکومت پر دباؤ ڈالے۔ اس میں سینیٹر لنڈزی گراہم بھی شامل ہیں۔  اس کے علاوہ ٹوئٹر پر بھی بیانات میں کئی اراکین کانگریس کشمیر کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

نیویارک سے منتخب امریکی کانگریس کی خاتون رکن الیگزینڈرا اوکاسیو کورٹیز نے کشمیر کے بارے میں ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں محصور عام شہریوں کے لیے پیغام میں لکھا 'ہم کشمیر سمیت دنیا بھر میں امن اور انصاف کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ کشمیر میں محصور خاندانوں کے ساتھ ہم سب کی دعائیں اور حمایت ہے۔'  کورٹیز نے ٹویٹ کے ذریعے بھی کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا اور انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کو بحال کیا جائے۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'ہم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت، برابری اور سب کے انسانی حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تشدد کی جو خبریں آ رہی ہیں وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ مواصلاتی نظام کی بندش ختم کی جائے اور جان بچانے والی ضروری ادویات تک رسائی بحال کی جائے۔'

امریکی ریاست مینسوٹا سے رکن کانگریس الہان عمر نے اپنی ٹویٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا معائنہ کرنے کے لیے وہاں جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔' اس سے قبل اگست کے مہینے میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی شہر ہیوسٹن میں امریکی مسلمانوں کے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر میں حالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔

برنی سینڈرز نے کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا 'کشمیر میں انڈین حکومت کے اقدامات قابل قبول نہیں ہیں، وہاں گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی آزادی رائے سمیت طبی سہولیات تک رسائی پر بھی پابندی عائد ہے۔ مواصلاتی نظام سمیت دیگر پابندیوں کو فوراً ہٹایا جائے۔'  سینڈرز کا کہنا تھا کہ 'امریکی حکومت انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرے اور مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کے ذریعے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پرامن حل نکالنے کی حمایت کرے۔'

گزشتہ ماہ برنی سینڈرز نے امریکی شہر ہوسٹن کے ایک مقامی اخبار 'ہیوسٹن کرونیکلز' میں اپنے کالم میں بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر اسی ہفتے کے دوران کیا تھا جب امریکی صدر ٹرمپ انڈیا کے وزیر اعظم کے 'ہاؤڈی مودی' نامی عوامی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

متعدد امریکی اخبارت میں بھی اس بارے میں خبریں شائع کی گئیں ہیں جن میں نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور ایل اے ٹائمز نمایاں ہیں۔ ان اخبارات نے تفصیلی خبروں کے علاوہ وہاں کی کشیدہ صورتحال کی تصاویری جھلکیاں بھی شائع کی ہیں جن میں وادی کشمیر میں کرفیو، عائد پابندیوں اور قدغنوں میں رہنے والے کشمیری عوام کی مشکلات کی عکاسی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے گھروں میں چھاپے مار کر عام شہریوں کی گرفتاریوں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔  امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ کے ایسے 20 افراد کا ذکر بھی کیا جنہوں نے انڈین سکیورٹی حکام کی جانب سے انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔  انڈین سکیورٹی فورسز نے واشنگٹن پوسٹ میں بیان کیے گئے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

نیویارک ٹائمز  نے بھی اپنے صفحہ اول پر ایک ایسے کشمیری خاندان کی تصویر شائع کی تھی جن کے خاندان کے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔  نیویارک ٹائمز نےدو اکتوبر کو شائع ہونے والے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اب اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔  اخبار نے لکھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ کشمیر پر انڈیا کے وزیر اعظم کے سخت شکنجے والے تسلط کی مخالفت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان عالمی برادری سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی ٹی وی چینلز پر بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق متعدد بار تفصیلی رپورٹس نشر کی گئیں ہیں۔ ان میں سی این این، ایم ایس این بی سی، سی بی ایس اور اے بی ایس جیسے مقبول ٹی وی نیٹ ورک شامل ہیں جو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عائد پابندیوں کے علاوہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کا بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ کی جنوبی ایشیا کے امور کی قائم مقام نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا انڈین حکومت کشمیر میں حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کرے اور جلد از جلد وہاں عائد پابندیوں کو ختم کرے۔  ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر میں سیاسی عمل کا آغاز ہو اور وہاں لوگوں کو پرامن مظاہرے اور اجتماع کی اجازت ہونی چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے شرط ہے کہ پہلے دونوں ممالک اس پر آمادہ ہوں۔ بھارت کشمیر کے مسئلے کو  اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی ثالثی کی پیشکش کو رد کرتا ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...