افغانستان: طالبان کے حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک

  • منگل 01 / اکتوبر / 2019
  • 440

افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان منیر احمد فرہاد نے بتایا ہے کہ حملے کا آغاز پیر کی کی صبح کو ہوا اور شورتیپہ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں تاحال فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ جنگجوؤں نے ضلع شورتیپہ پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ منیر احمد فرہاد نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔  ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ شورتیپہ کے علاقے میں مزید نفری بھیجی جارہی ہے۔

دوسری جانب بلخ میں صوبائی کونسل کے سربراہ محمد افضل حدید نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مزید نفری کو فوری طور پر نہ بھیجا گیا تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ضلع شورتیپہ ایک دور دراز علاقے میں واقع ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخاب کے لیے 2019 کے پہلے مرحلے کا عمل سخت سیکیورٹی میں مکمل ہوا تھا۔  تاہم انتخابی مہم پر حملوں اور طالبان کی دھمکیوں کے زیر اثر صدارتی انتخاب میں ماضی کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح انتہائی کم رہی تھی۔

نگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ غویانی نے بتایا تھا کہ جلال آباد میں پولنگ اسٹیشن کے قریب بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 2 افراد زخمی ہوئے۔ قندھار میں ہسپتال کے ڈائریکٹر نے مقامی صحافی کو بتایا تھا کہ ’قندھار کے پولنگ اسٹیشن میں بم دھماکے سے 16 افراد زخمی ہوئے‘۔ کابل، کندوز، ننگرہار، بامیان اور قندھار سمیت متعدد صوبوں سے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

امریکا کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی وجہ سے صدارتی انتخاب دو مرتبہ تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔ چند دن قبل ہی مذاکرات کی ناکامی کے بعد طالبان نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے حملوں کی دھمکی دی تھی۔

اس سے قبل 18 ستمبر کو کابل اور افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب طالبان نے علیحدہ علیحدہ حملے کیے تھے جس میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

loading...