پاکستان سعودی فوج کی تربیت جاری رکھے گا: آرمی چیف

  • منگل 01 / اکتوبر / 2019
  • 470

پاکستان نے سعودی فوج کی استعداد کار بڑھانے اور تربیت دینے کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔

سعودی عرب کی شاہی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ محمد ال مطیر نے راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یقین دلایا کہ سعودی فوج کی استعداد کار بڑھانے اور ان کی عسکری تربیت کےلیے پاک فوج کا تعاون جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط عسکری تعلقات ہیں اور اسلام آباد ریاض کو روایتی ہتھیار بھی فروخت کرتا ہے۔  سعودی عرب کے تحفظ کے لیے پاکستان کے فوجی دستوں کی تعیناتی کا آغاز 1960 سے ہوا تھا۔

دونوں ممالک کے مابین دفاعی نوعیت کا معادہ معاہدہ 1982 میں ہوا، جس میں مشترکہ عسکری تربیت، سعودی فوجی دستوں کی عسکری تربیت اور ڈیفنس پروڈکشن جیسے امور شامل ہیں۔

سعودی عرب میں مجموعی طور پر 16 سو پاک فوج کے جوان تعینات ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میں دونوں رہنماؤں کے مابین دوطرفہ دلچسپی اور پیشہ ورانہ امور سمیت خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال ہؤا۔  شاہی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ محمد ال مطیر نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور علاقائی استحکام کے لیے کاوشوں کی تعریف کی۔

خیال رہےکہ گزشتہ برس فروری میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کی جانب سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ پاک فوج کے دستوں کو 'ٹریننگ اور ایڈوائزری مشن' پر تعینات کیا جائے گا۔ تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے تعینات کیے جانے والے جوانوں کی تعداد نہیں بتائی گی تھی۔

پاکستان، سعودی عرب کی سربراہی میں گزشتہ سال بننے والے اسلامی فوجی اتحاد کے 41 اراکین میں شامل ہے جس کی سربراہی سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کررہے ہیں۔

اسلامی فوجی اتحاد کا افتتاح گزشتہ برس سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کیا تھا۔

loading...