کون ہو تم؟

کشمیر دوزخ نظیر ۔۔۔ ایک جیل ہے جس میں مسلمان کشمیری عوام قید ہیں ۔ اس پرستان آثار سرزمین کو ٹارچر کیمپ بنادیا گیا ہے جہاں ہر عمر کے کشمیری مسلمان ( بچے ، بوڑھے ، عورتیں ، مرد ، جوان اور شیرخوار)تشدد اور ظُلم سہ رہے ہیں ۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

 کشمیر کے اس قضیے کی عمر اُتنی ہی ہے جتنی برِ صغیر کی تقسیم کی ۔ اس تقسیم نے مسلمانوں کی ملی وحدت کو تین ٹُکڑوں میں بانٹا  یعنی پاکستانی مسلمان ، بھارتی مسلمان اور کشمیری مسلمان اور پھر پاکستان کا اکثریتی حصہ بنگلہ دیش بن گیا ۔ ہمارا سیاسی اسلام مشرقی اور مغربی پاکستان کو باہم مربوط نہ رکھ سکا ۔ ہمارے اُس وقت کے حکمران فیلڈ مارشل کی جادو کی چھڑی بنگالی عوام پر نہ چل سکی اور دو قومی نطریہ نے یو ٹرن لیا اور تاریخ نے گواہی دی کہ پاکستان میں بھی دو قومیں ہی آباد ہیں : مغربی پاکستانی اور بنگالی جو ایک ساتھ اس لیے نہیں رہ سکتے کیونکہ اُن کا پٹ سن کلچر ، رہن سہن ، مچھلی چاول الگ ہے ۔

 یہ ایک اعتبار سے اُس دو قومی نطریے کی نئی تعبیر تھی ، ایک طرح کی مزید  توسیع تھی جسے کل ہند مسلم لیگ کے سیاسی نظریہ سازوں نے مرتب کیا تھا  ، جس کی وکالت محمد علی جناح المعروف قائد اعظم نے کی تھی ۔ لیکن جس طرح نظریے سے نظریہ جنم لیتا ہے ، چراغ سے چراغ جلتا ہے ، اسی طرح پاکستان نے بھی دوقومی نظریہ ہی  کی بنیاد پر ایک قوم  کو دو قوموں میں تقسیم کردیا ۔  لیکن 1971 کے بعد جو نیا پاکستان وجود میں آیا تھا اُس پر بھی دوقومی جھرلو چلا اور ملک پھر دوقوموں میں تقسیم ہوگیا ۔ اب کی تقسیم کی نوعیت منفرد قسم کی تھی ۔ اس نئی توجیہ کے مطابق  بھی ملک میں دوقومیں آباد تھیں ۔ حاکم خاندانوں کی قوم اور محکوم عوام کی قوم ۔

 اور نیا پاکستان بننے کے بعد بھی حاکم اور محکوم قومیں ایک دوسرے کے ساتھ امن و امان اور مساوات کی فضا میں نہ تو سانس لے سکی ہیں اور نہ ہی لے سکیں گی  کیونکہ ملکی وسائل چند اداروں اور خاندانوں کی  ناجائز ملکیت ہیں اور سیاست ایک باقاعدہ کاروباری ادارہ بن چکی ہے، جس میں منافع خوری ، ملاوٹ ، ٹیکس چوری اور عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا دور دورہ ہے ۔ اور جب سیاست عبادت کے بجائے تجارت بن جائے تو مذہب سے لے کر میڈیا انڈسٹری تک ، فوج سے بیوروکریسی تک ، مقننہ سے عدلیہ تک اور پولیس سے لے کر تعلیم تک سب تجارتی ادارے بن جاتے ہیں جن کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے : منافع خوری ، ناجائز منافع خوری بلکہ لُوٹ مار کی حد تک منافع خوری۔

تجارت کسی معاشرے میں شجرِ ممنوعہ نہیں بلکہ  معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر جس طرح ہر شعبہ  زندگی کے کچھ اصول ، قواعد و ضوابط اور قوانین ہوتے ہیں اور مروجہ قانون پر چلنا قانون کو عمل سے زندہ کرنا ہوتا ہے ۔ قانون حکم ہوتا ہے جو تعمیل سے نافذ  ہوتا ہے لیکن ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب سے لے کر سیاست تک ہر شعبے میں قوانین تو بنا رکھے ہیں مگر اُن کی حیثیت زیادہ تر کاغذی لاشوں کی سی ہے جنہوں نے کبھی عمل کا مونہہ نہیں دیکھا ۔ اور ہم  من حیث القوم یہ کاغذی میتیں اُٹھائے لاقانونیت کے جنگل میں اُن کے دفن کے بہانے ڈھونڈرہے ہیں ۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو ہماری قومی زندگی کے مسائل حل نہیں کرپاتا تو ہم مزید قوانین بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ قانون جن پر ہم نے کبھی عمل نہیں کرنا ہوتا مگر قانون کو ہاتھ میں لینا ہمارا قومی مشغلہ ٹھہرتا ہے  ۔

چنانچہ پولیس اپنی من مانی کو قانون کہتی ہے ، بیوروکریسی اپنی غلط کاریوں کو قانون کہتی ہے ، جج اور وکیل اپنی دکانداری کو قانون کہتے ہیں اور میڈیا اپنے مالی مفادات کے تحفظ کو قانون کا نام دیتا ہے ۔ لگتا ہے یہ قوم لاقانونیت کے ایسے گنبدِ بے در میں رہتی ہے جس سے باہر نکلنے اور نجات پانے کا کوئی راستہ نہیں  کیونکہ ہم سب عالمی حالات کے رحم و کرم پر ہیں ۔ اپنے طور پر  کچھ کر سکنے کی نہ تو ہم میں استطاعت ہے اور نہ ہی ہمت ، اس لیے ہمارے ساتھ سب کچھ اسی طرح ہوتا ہے جیسے زلزلہ آتا ہے ۔ اس کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں ، مگر سب کچھ ہم پر بیت جاتا ہے کیونکہ ہم بڑی طاقتوں کے مفادات کے غلام ہیں اور اپنی لاقانونیت کو دوام بخشوانے اور اپنے لا نظام کو باقاعدہ نظام کی عزت و توقیر دلانے کے لیے دن رات عالمی طاقتوں اور اُن کے ڈپو ہولڈروں ، گماشتوں اور علاقائی ایجنٹوں کی کاسہ لیسی کرتے ہیں ۔ ایسے میں ہمارے حکمران اداروں  کو اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ ملک کے غریب عوام پر کیا بیت رہی ہے ۔ وہ بڑے آرام سے چین کی بانسری بجاتے رہتے ہیں کیونکہ وہ اور اُن کے حاشیہ بردار صرف اور صرف اپنے مفادات کے غُلام ہیں اور ان کے اس طرزِ حکومت کو بیڈ گورننس کہا جاتا ہے ۔ یہ بیڈ گورننس بڑی طاقتوں کی غُلامی کی بد ترین شکل ہے ۔

ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ بہتر سال سے ہمارے حُکمران کشمیر کے موضوع پر مونہہ میں گھونگنیاں ڈالے بیٹھے تھے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے  فرضی کشمیر کمیٹیاں بنا کر اُس کے نام پر قومی فنڈز کھا رہے تھے لیکن اُس کمیٹی کی کارکردگی کیا رہی ہے ، پاکستانی عوام نہیں جانتے ۔ اور یہی لوگ اب واویلا مچا رہے کہ عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کا مقدمہ درست انداز میں پیش نہیں کیا مگر کوئی ان سے پوچھے کہ تم پچھلے بہتر سال تک حکمرانی کے آرکسٹرا پر کشمیر کی آزادی کی جو سمفنی بجاتے رہے ہو اُس کا ماحصل کیا ہے ؟  اگر تم کسی لائق ہوتے ، اہل ہوتے ، اہلِ بصیرت ہوتے ، تمہارے دل میں کشمیریوں کا سچا درد ہوتا تو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے یہ بہتر سال کافی تھےمگر تم جو صرف اور صرف اپنے مالی مفادات کے بے دام غُلام ہو ، کیا جانو کہ عوام سے محبت کیا ہوتی ہے۔ تم بھی تو  جمہوریت کے نام پر پرچی آمریت کے منتخب آمر رہے ہو اور اسے منتخب حکومت کا نام دیتے رہے ہو حالانکہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے سوا تمہیں آتا ہی کیا ہے ؟

 آخر تم ہو کون ؟

loading...