انیس احمد کا ناول ’نکا‘: روہی کی تہذیب کا قصہ

’ کبھی دریااورہوائیں بھی بکتی ہیں،انہیں تو اللہ سائیں چلاتا ہے‘ (صفحہ 414)

’نکا‘ انیس احمد کا دوسرا ناول ہے ۔ انیس احمد ادیب ، صحافی اور براڈکاسٹر ہیں۔ آج کل ناروے میں مقیم ہیں۔  ’نکا‘ دریائے ستلج کے کنارے آباد غریب لوگوں کی بستیوں کی کہانی ہے۔ اس کہانی کامنظر نامہ تقسیم ہند سے پہلے سے لیکر تقسیم ہند کے کچھ عرصہ بعد تک پھیلا ہوا ہے۔دنیا کی بڑی بڑی تہذیبیں دریاﺅں کے کناروں پر آباد ہوئیں ۔پانی بنیادی ضرورت ہی نہیں بلکہ زندگی ہے۔ دریاان تمام ضرورتوں کوپورا کرتا ہے۔

روہی دریائے ستلج سے ذرا ہٹ کرہے۔ روہی میں رہنے والے صرف معاشی طورپر ہی نہیں ۔ذات پات کے حوالے سے بھی نیچ ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس بستی میں ہندو مسلمان دونوں رہتے ہیں۔ ہندوﺅں کی نیچ ذاتیں دلت، کاس بیلیا جوشودر سے بھی نیچ سمجھے جاتے ہیں ،اور بھیل رہتے ہیں۔ غربت ان کا مقدر ہے۔ زمین کے جس جس ٹکڑے پر وہ آباد ہیں وہ کسی نہ کسی وڈیرے کی ملکیت ہے اوران کی حیثیت متعلقہ وڈیرے کے غلاموں کی سی ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام کرکے روزی روٹی کماتے ہیں۔ انسانی تعلقات کے دکھ اپنے اپنے سینوں میں چھپائے جیتے ہیں۔ 

اس علاقے کی اس دور کی رہتل کی منظرکشی بہت عمیق مشاہدے کا نتیجہ ہے۔یہ ناول افتادگان خاک کی ثقافت کامنظر نامہ ہے جس کی عکاسی میں باریک بینی سے کام لیاگیا ہے۔ اسلوب اور مکالمے ایسے ہیں کہ سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ انیس احمد کی اسلوب بیان، کہانی کے واقعات اور کرداروں کے مکالموں پر اتنی گرفت ہے کہ قاری کی توجہ ہٹتی نہیں اور ایسی دلچسپی ہے کہ قاری پڑھے بغیر نہیں رہتا۔ ہرمکالمہ اس کی تشنگی کوبڑھا دیتا ہے۔

اس ناول میں بہت سے کردار ہیں۔ مگر نکا مرکزی کردارہے۔  ’نکا‘ سلامو لکڑہارے کا بیٹا ہے جسے اس کی ماں امیرمائی نے پیرسائیں کی دعاﺅں سے حاصل کیا ۔”نکا“اسی بستی میں پروان چڑھتا ہے اس کامعصوم ذہن بہت سے واقعات اورمناظر کو سمجھنے سے قاصرہے۔ جن کے بارے میں وہ بچوں کی طرح حیرانی کااظہار کرتا ہے۔ وہ پہیے سے کھیلتا رہتا ہے ۔اسے چلاتااور دوڑتاہے۔ نکے کی زندگی میں کئی لڑکیاں آتی ہیں۔ چنداں مائی، رانو، نازو، نجمہ اور روبینہ ۔ لیکن نکا نازو سے محبت کرتا ہے اورزندگی بھر اس کی تلاش میں رہتا ہے۔

نکا بہت ذہین ہے۔ نازو کی خواہش ہے کہ وہ ولایت سے پڑھ کرآئے۔ نکا شہر میں پڑھنے جاتا ہے اور وہاں جمال زادہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ وہ تعلیم کے لیے آرکیالوجی کامضمون منتخب کرتا ہے۔ آرکیالوجی کے اس انتخاب سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں صحرا میں چھپے ہوئے خزانوں کو جاننے کی خواہش کتنی مضبوط ہے۔ ریسرچ کے لیے بھی اس نے آرکیالوجی کا انتخاب کیا۔ روبینہ اس کی کلاس فیلو تھی اور ریسرچ میں بھی ا س کے ساتھ تھی۔ روبینہ نے جمال زادہ (نکے)سے شادی کا فیصلہ کرلیا۔اور شادی کے بعد ولایت جانے کا پروگرام بنایا۔ روبینہ کے باپ جو ایک بڑے سرکاری آفیسر تھے، سے ملاقات کے دوران جمال زادہ (نکے) نے اپنی اصل کہانی سنادی جس پر روبینہ کے باپ کو طیش آگیا اور اسے کوٹھی سے نکال دیاگیا۔

اب نکابستی واپس جانے کی بجائے جوگیوں کے ٹھکانے کی طرف نکال جاتا ہے ۔چند دن وہاں قیام کے بعدٹلہ چلاجاتا ہے جو جوگیوں کی مشہورجگہ ہے۔ یہاں بہت سے جوگی رہتے ہیں۔اس طرح 50سال گزرجاتے ہیں۔ نکا جب بستی سے واپس آتا ہے تو بستی کی ہرچیز بدل چکی ہوتی ہے ۔کچھ لوگ شہر جا کر آباد ہوگئے۔ کچھ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اچانک دینوسے ملاقات ہوجاتی ہے۔دینو بہت بوڑھا ہوچکا ہے ۔نکے کو مشکل سے پہچانتا ہے۔ اس سے مل کر بہت خوش ہوجاتا ہے۔ نکا اپنے جھگے کی طرف جانے لگتا ہے تو دینو اسے کہتا ہے وہاں کچھ بھی نہیں۔دینو کہتا ہے ”اورمیں تجھے بتاﺅں تیرا دریا بھی بک چکا ہے اب دھول اڑتی ہے۔ وہاں “ نکا یہ سن کر اچھل پڑا ،بے یقینی سے بولا، کیابات کرتا ہے دینو کاکا، کبھی دریا اورہوائیں بھی بکتی ہیں ،انہیں تو اللہ سائیں چلاتا ہے “۔نازو سے بھی ملاقات ہوتی ہے جوبہت بوڑھی ہوچکی ہے اوربال بچوں والی ہے۔ نازواور نکے کی گفتگو نہایت ملال انگیز ہے ۔اس ملاقات کے بعدنکا بستی کو چھوڑنے کافیصلہ کرلیتا ہے ۔

انیس احمد کایہ ناول تہذیبی ناول ہے جوایک دم توڑتی تہذیب کی کہانی ہے۔ انسانی زندگی کے ڈرامے میں عورت اور مرد دوکردار ہیں ۔ دونوں میں ایک دوسرے کے لیے کشش ہے۔ اس کشش سے وہ دکھ اور المیہ جنم لیتا ہے جوبعض اوقات انسان کوجوگی بنادیتا ہے۔جوگی کا سراپا نکے کے شعور میں بچپن ہی سے جاگزین ہے ۔ نکے کی دادی نے کیلاش پربت دیکھاہے جس کااس نے نکے سے ذکر کیاتھا۔اب نکا بستی سے نکلتے ہی تبت کی طرف چل پڑتا ہے۔ناول میں وڈیروں کے مظالم کابھی تذکرہ ہے۔ یہ ناول کئی اعتبار سے اہمیت کاحامل ہے۔ اگراس کا انگریزی میں ترجمہ ہوجائے تواس کی شہرت میں بہت اضافہ ہوگا۔انیس احمد کا یہ ناول ستلج کے کنارے دم توڑتی تہذیب کی داستان ہے جواس ناول کی شکل میں محفوظ ہوگئی۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)

loading...