کشمیریوں کو حق خود اختیاری نہ ملا تو بڑی تباہی آسکتی ہے: عمران خان

  • ہفتہ 28 / ستمبر / 2019
  • 350

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑیں گے اور اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چار اہم معاملات موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، منی لانڈرنگ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورت حال پر گفتگو کی۔  وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم بھرپور انداز میں اٹھایا اور بھارت کے اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جناب صدر! میں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورت حال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے۔ دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جس طرح ہم فروری میں آئے تھے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ اسی  لیے 1945 میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں۔ اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے سات گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے۔ یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور ہم لڑیں گے اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتائج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے نتائج دنیا پر ہوتے ہیں'۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ 'میں خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں ہے، یہ خوف ، پریشانی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ یہی بتانےمیں یہاں اقوام متحدہ میں ہوں کیونکہ صرف آپ ہیں جو کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت کی ضمانت دے سکتے ہیں جس کے لیے وہ مشکلات کا شکار ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ یہی موقع ہے عمل کا، پہلا قدم یہ ہے کہ بھارت کرفیو کو ہٹادے جو 52 روز سے نافذ ہے۔  تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور خاص کر ان 13 ہزار نوجوانوں کو جنہیں اٹھایا گیا ہے اور ان کے والدین کو ان کی خبر نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دلائے'۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت کے پاس اور کوئی بیانیہ نہیں رہا، جیسے ہی وہ کرفیو ہٹائیں گے جو کچھ ہوگا، وہ اس کا الزام پاکستان پر لگائیں گے اور ایک اور پلواما کا خطرہ موجود ہے۔ بمبار دوبارہ آسکتے ہیں جس سے نیا چکر شروع ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'مودی کو سمجھ ہے کہ 18 کروڑ مسلمان بھارت میں اس وقت کیا سوچ رہے ہیں۔ کیا وہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری 55 روز سے محصور ہیں۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو اکسایا جائے گا۔ میں 180 ملین لوگوں کی بات کررہا ہوں، جب وہ شدت اختیار کریں گے تو پھر پاکستان پر الزام آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ جناب صدر! ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو اس چیز کو دیکھ رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں یہ صرف کشمیر میں ہورہا ہے کیونکہ کشمیری مسلمان ہیں۔ کشمیری ہندوؤں کے ساتھ ایسا نہیں ہورہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ مذہب کی وجہ سے یہ ہورہا ہے تو پھر وہ کیا سوچتے ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں 80 لاکھ کو بھول جائیں؟ اگر 8 ہزار یہودی اس طرح محصور ہوں تو یہودی برادری کیا سوچے گی۔ یورپی کیا سوچیں گے۔ اگر کسی برادری کے لوگ اس طرح محصور ہوں تو وہ کیا کریں گے کیا انہیں درد نہیں ہوگا۔

اقوام متحدہ کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھر اس کے بعد کیا ہوگا۔ میں بتاتا ہوں، ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی ہتھیار اٹھائے گا، میں مغربی فلموں میں دیکھ چکا ہوں جس میں ایک سمجھدار لڑکے کو انصاف نہیں ملتا ہے اور وہ بندوق اٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے اور انصاف کی تلاش شروع کرتا ہے۔ نیویارک کی مشہور فلم ڈیتھ وش میں ڈاکو ایک لڑکے کی بیوی یا اہل خانہ کو مارتے ہیں اور اس کو انصاف نہیں ملتا اور وہ بندوق اٹھاتا ہے۔ اور ڈاکوؤں کو مارنے نکلتا ہے پھر پورا سنیما تالیاں بجاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'تو آپ کیا سمجھتے ہیں مسلمان اس وقت کیا سوچتے ہیں، اگر کوئی خون ریزی ہوئی تو مسلمان شدت پسند ہوں گے وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک روہنگیا مسلمان ہیں، میانمار سے تقریباً 10 لاکھ مسلمان باہر ہیں اور وہ شدت پسندی کا شکار ہیں، اس پر عالمی برادری کا کیا جواب تھا تو آپ کیا سجھتے ہیں کہ ایک ارب 30 کروڑ مسلمان کیا سوچتے ہوں گے'۔

وزیراعظم عمران خان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'میں خود کو مثال بناتا ہوں، میں کشمیر میں ہوں اور مجھے 55 روز سے محصور کیاگیا ہے، میں سنتا ہوں ریپ کے حوالے سے، بھارتی فوج گھروں میں گھس رہی ہے تو کیا میں اس ذلت میں رہنا چاہوں گا، کیا میں اس طرح رہنا چاہوں گا، میں ہتھیار اٹھاؤں گا۔ آپ لوگوں کو انتہاپسندی کے لیے مجبور کررہے ہیں، جب لوگ امید کھو دیتے ہیں'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اگر آپ انسانوں کے ساتھ ایسا کرسکتے ہیں تو درحقیقت آپ لوگوں کو انتہا پسند بنارہے ہیں'۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ مجھے خوشی ہے آج ہم یہاں مسائل پر بات کرنے کے لیے جمع ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سب سے پہلے موسمیاتی تبدیلی سے اپنے خطاب کا آغاز کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 5ہزار گلیشیئر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ دی تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔ جب ہماری جماعت خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو ہم نے ایک ارب درخت لگائے لیکن ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ اور دنیا کے امیر ممالک کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسرا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ ہر سال غریب ملکوں سے اربوں ڈالر نکل کر امیر ملکوں کے بینکوں میں پہنچ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک تباہ ہو رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پیسے امیر ملکوں سے نکل کر امیر ملکوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل ہمارے قرضے گزشتہ 60سال میں لیے گئے قرضوں کے مقابلے میں 4گنا بڑھ گئے تھے اور ایسے میں ہم کیسے 22کروڑ لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں چند خاندان حکمران تھے جو کرپشن کرکے اپنے پیسے باہر بھیج دیتے تھے۔

اپنے خطاب کے تیسرے حصے میں انہوں نے کہا کہ یہ اسلاموفوبیا ہے جو نائن الیون کے بعد بڑھا اس حوالے سے عالمی برادری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک میں حجاب کو ہتھیار سمجھا جاتا ہے یہ اس لیے کیونکہ اسلاموفوبیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اسلامو فوبیا سے تقسیم ہو رہی ہے، خواتین حجاب پہن رہی ہیں لیکن چند ملکوں میں اس پر پابندی ہے اور انہیں اس سے مسئلہ ہے۔ کچھ ملکوں میں کپڑے اتارنے کی تو اجازت ہے لیکن پہننے کی نہیں۔ اس اسلاموفوبیا کا آغاز 9/11 کے بعد ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ریڈیکل اسلام نہیں۔ اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں، صرف ایک اسلام ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ چند مغربی ممالک کے رہنما اس حوالے سے متضاد باتیں کرتے ہیں جس سے غلط فہمیاں بڑھ جاتی ہیں حالانکہ اسلام صرف ایک ہے اس میں کوئی درجے نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے اسلامو فوبیا متعدد رہنماؤں کی وجہ سے پھیل رہا اور اس کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی ہے اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد چند وجوہات کے باعث دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا گیا حالانکہ نائن الیون سے قبل اکثر خود کش حملوں کا تعلق تامل ٹائیگرز کرتے تھے لیکن کسی نے اس کو ہندوؤں سے نہیں جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9/11 حملوں کے بعد یہ سمجھ لیا گیا کہ خودکش بمبار مسلمان ہوتے ہیں لیکن دنیا میں کسی نے بھی یہ تحقیق نہیں کی کہ خود کش حملے سری لنکا میں تامل نے کیے جن کا مذہب ہندو تھا لیکن اس کے لیے ہندو مذہب کو بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا اور  اسی طرح جنگ عظیم میں جاپان کے طیاروں نے خودکش حملے کیے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر کے دوران انگلینڈ میں وقت گزارا ہے اور مغربی ممالک ان معاملات کو نہیں سمجھتے۔ مغرب میں مذہب کو بالکل الگ نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ہمارے لیے مذہب کیا حیثیت رکھتا ہے لہٰذا جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی تو اس کا ردعمل سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں یہ تصور کر لیا گیا کہ اسلام عدم برداشت پر مبنی مذہب ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا میں پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد مدینہ میں ڈالی گئی جس میں کمزوروں کے حقوق کا خیال رکھا گیا اور امیروں پر ٹیکس عائد کرکے غریبوں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس مذہب میں سب برابر ہیں اور غلاموں نے بادشاہت کی۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تضحیک اور توہین کے لیے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

خطاب کے چوتھے اور آخری حصے میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ میرا اہم مقصد ہے لیکن پہلے میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ میں جنگ کے خلاف ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت دیگر ممالک نے کی جن میں خاص کر امریکا شامل ہے اور ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکا افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور معاشی حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ باہمی مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار تھے اور میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں لیکن بھارت ہم پر الزام لگا رہا ہے۔ ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ان گروپس کے خلاف کارروائی کی اور اب وہاں اس طرح کے کوئی گروپس نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی تھی۔ یہ دہشت گرد گروپس کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پاکستان سے ان پر حملے ہو رہے ہیں لیکن میں نے کہا کہ آپ کی سرزمین سے ہمارے بلوچستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جس کا ثبوت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مبقوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور 5 اگست سے مقبوضہ کشمیرمیں 80 لاکھ لوگوں کو محصور کردیاگیا ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نظریے کی حامی ہے اور مودی کی وزارت اعلیٰ کے دور میں گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ مودی آر ایس ایس کے تاحیات رکن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹالیا جائے گا اور لوگ باہر آئیں گے جہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں اس صورت میں خون ریزی کا خطرہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور کشمیر میں لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔

(روزنامہ ڈان)

loading...