قلم کا سپاہی

کہتے ہیں کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے لیکن جب قلم جہالت کی فوجِ ظفر موج پر علمی گولہ بارود سے فائرنگ کرنے کے بجائے خُوشامد ، چاپلوسی ، دروغ اور کاسی لیسی کے ڈونگرے برسا کر ہر سیاسی زیرو کو ہیرو بنانے لگے تو قلم کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔ اِنّا للہ واِنّا الیہ راجعون

چلو جنازہ پڑھاؤ ، قلم کو دفن کریں ۔

یوں بھی قلم اب اُتنا ہی پُرانا ہے جتنے ادریس علیہ السلام اور چونکہ ما قبلِ تاریخ کے زمانوں کو از سرِ نو زندہ نہیں کیا جا سکتا ، اس لیے خُدا ہی جانے کہ قلم شریف کی اصل تاریخ پیدائش کیا ہے ۔ کیا ہمارے ابوالآبا آدم قبلہ و کعبہ کو سرکنڈے کا قلم تراشنا آتا تھا ، کیا اُس وقت چاقو اور اُسترا ایجاد ہو چکا تھا ؟ شاید نہیں ۔ اِس لیے میں نہیں جانتا کہ تایا قابیل نے چچا ہابیل کو کیسے قتل کیا تھا ، آلہ قتل کس امریکی فیکٹری میں بنا تھا ، تاہم اتنا سراغ ضرور ملتا ہے کہ زمین پر قبر بنانے کا رواج کووں کے یہاں عام تھا ۔ چنانچہ اُستا د زاغ نے ہمارے آپ کے تایا جی کو قبر کھودنے کی ٹیکنیک سکھائی اور اپنا گناہ چھپانے کی تعلیم دی ۔

 واہ رے اُستاد زاغ ۔ تمہارے سیاہ پروں کی برکت سے زمین پر قبرستان کی بنیاد پڑی ۔ چنانچہ قبرستان زاغ شاہی کے کھنڈرات ہیں لیکن ابھی تک ان قبروں میں قلم دفنانے کا رسماً آغاز نہیں ہوا ۔ البتہ اس کا ایک دوسرا طریقہ علمائے ادب نے یہ ایجاد کیا کہ قلم کو لکھنے کے بجائے پاجامے ، شلوار اور جانگیے میں ازار بند ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔ قلم کی اِس بے حُرمتی کو دیکھ کر اہلِ مغرب کے سیانے کووں نے ٹائپ مشین ایجاد کی جس نے قلم کے رواج کو کم کیا اور پھر ہوتے ہوتے کی بورڈ یعنی کلیدی تختہ استعمال میں آنے لگا مگر اس کلیدی تختے میں خرابی یہ ہے کہ نہ تو اُسے کان پر قلم کی طرح رکھا جا سکتا ہے اور نہ کوئی غالب جالب کہہ سکتا ہے کہ :

کوئی لکھوائے اُن کو خط تو آ کر ہم سے لکھوائے

ہوئی صبح اور رکھ کر کان پر گھر سے قلم نکلے

لیکن اب کان پر قلم کے بجائے عینک کی کمانی ہوتی ہے اور ہاتھ میں موبائل  جو پستول سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہے ۔

مگر جب ستمبر 65 میں پاک بھارت جنگ کا طبل بجا تو اُس وقت قلم کی حکمرانی تھی  ۔ اور ہم نے پوری جنگ نیلی روشنائی والے قلم سے لڑی ۔ محاذ پر گولیاں چلاتے سپاہی سے بھی زیادہ لڑی اور دشمن کو ستانے اور نفسیاتی کچوکے دینے کے لیے چوڑیاں بھجوانے کا متبادل یہ نکالا کہ ہم نے ایک پنجابی رزمیہ ایجاد کیا جس کا ٹیپ کا مصرع تھا :

مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے ، جنگ کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی

پینسٹھ کے بعد ہم نے اکہتر کی جنگ لڑی اور مشرقی پاکستان کے محاذ پر پسپائی کی دیوی نے ہمیں قیدی بنالیا تو ہمارے شاعر عدیم ہاشمی نے کہا:

ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالے

حُسین تیرے بہتر سروں کو لاکھ سلام

جنگ داڑھی اور پگڑی والی زنانیوں نے جیت لی اور ہمارے پورے ایک  لاکھ فوجی ، سول افسر اور دفتری کارکن بھارت کی قید میں چلے گئے لیکن اِس کے باوجود ہم اپنی بہادری کے گیت لکھتے اور گاتے رہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان وجہِ نزاع کشمیر ہے۔ کشمیر جسے پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے ، بہتر سال سے پنجہ ہنود میں ہےلیکن ہم اپنی بہترین فوجی صلاحیتوں کے باوجود اپنی شہ رگ نہیں چھڑا سکے ، نہ ہی قائد اعظم کی طرح دلیل کی لڑائی لڑ سکے اور نہ ہی اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کی استصواب رائے کی قرارداد کو عملی جامہ ہی پہنوا سکے مگر یہ زبانی اعلان مسلسل کرتے رہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، بالکل اُس طرح جیسے سارے  حکمران پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ کھڑے تو  ہوتے ہیں مگر کھاتے اعلیٰ ریستورانوں ، اسمبلیوں کی کنٹینوں اور سرکاری دعوتوں میں  اور رہتے اپنے پرتکلف محلات میں ہیں ۔ ہم کشمیر کمیٹی بنا کر اُس کی سربراہی کسی شاطر مُلا کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر اُمید لگا لیتے ہیں کہ مُلا کی دعاؤں سے بیمار کشمیر کو آرام آ جائے گا۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ جمعیت العلمائے پاکستان نے اپنی جُڑواں بہن جمعیت العلمائے ہند سے کبھی نہیں پوچھا کہ اُنہوں نے کس آنکھ سے دیکھ کر  کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہا ہے ۔

لیکن اس وقت ہم پر یہ آفت ٹُوٹی ہے کہ مودی سرکار نے چپکے چپکے متنازعہ کشمیر کو نگل لیا ہے جس کے نتیجے میں کشمیر مقتل بن کر رہ گیا ہے ، گلی کوچوں میں خون کی ندیاں رواں ہیں  جہاں کشمیری مسلمان انتہائی کسمپرسی میں حیات و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ مگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں بدستور کرسی کی لڑائی لڑ رہی ہیں اور اپنی کرپشن اور منی لانڈرنگ کو اپنا حقِ حکمرانی سمجھ کر اُس کے تحفظ کی جنگ میں مصروف ہیں۔ جب کہ احتساب کو سیاسی انتقام کا نام دیا جا رہا ہے  ۔ سیاسی جماعتیں اقتدار کے ہُما کو دوبارہ شکار کرنے کے لیے پرانے شکاریوں کو یکجا کر رہی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس میں پاکستان کی بقا داؤ پر لگی ہے ۔ سندھو دیش کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ، پشتونستان کے گڑے مردے میں پھر سے انگڑائی کے آثار پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ بلوچستان جانے کب سے کلبھوشنوں کی سازشوں کا اکھاڑہ ہے ۔

اور ایسے میں کسی کو پاکستان میں بسنے والے غریب عوام کی فکر نہیں کیونکہ اُن سب کا ایک ہی ٹارگٹ ہے ، اقتدار کے تلور کا شکار ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی کی گائے اور عربوں کے اونٹ کس کروٹ بیٹھتے ہیں جبکہ ہمارے پاس لے دے کے گدھا رہ گیا جسے ہم گدھا گاڑی میں جوتتے ہیں ، سواری کرتے ہیں ، سامان ڈھوتے ہیں اور اُس کے گوشت کی حلال چانپیں بنا کر کھاتے ہیں ۔ یارلوگوں نے تحقیق کر رکھی ہے کہ گدھے کے گُردے کپورے نامرد کو مرد بناتے ہیں اور گدھے کی چانپوں سے ہڈیاں شریفوں کے سریے کی طرح مضبوط ہو جاتی ہیں جبکہ اب  مردانہ کمزور ی کو دور کرنے کے لیے مینڈک برگر بھی لاہور میں دستیاب ہے ۔ تاہم داؤ اس نکتے  پر لگا ہے کہ گدھا ہمیں زندگی کی ہر مشکل سے نجات دے گا کیونکہ اس میں گدا کے سارے حروف بھی موجود ہیں، اس لیے بیجنگ سے گوادر تک کے سفر کا بہترین ساتھی گدھا ہے ۔

اور اب تو مردِ ھل من مزید شیخ رشید نے ببانگِ دہل کشمیر کے محاذ پر اپنی شہادت کی پیش گوئی کر دی ہے ۔ ایسے میں بے چارے غریب عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ لیجیے اچانک ناصر کاظمی علیہ رحمت یاد آ گئے:

دائم آباد رہے گی دنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

اور قلم کے سپاہی اپنا قلم راہِ حق میں شہید کروانے میں شیخ رشید سے پیچھے نہیں رہیں گے ۔ قسم وحدہ لا شریک کی۔

loading...