پشتون تحفظ موومنٹ مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرے گی: محسن ڈاوڑ

  • اتوار 22 / ستمبر / 2019
  • 530

قومی اسمبلی کے رکن اور ہشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے کہا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ پی ٹی ایم مذاکرات کا طریقہ ہی اختیار کرے گی۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز جیل سے رہائی کے بعد بی بی سی بات کرتے ہوئے کہی۔

محسن داوڑ نے کہا  کہ عوام کے منتخب نمائندے ہونے کے باوجود ان کے ساتھ جیل میں دہشت گروں سے برا سلوک کیا گیا اور انہیں وہاں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا جہاں سے انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔  انہوں نے بتایا کہ شروع میں انہیں سینٹرل جیل پشاور میں رکھا گیا تھا جہاں ایک روز کچھ لوگ آئے اور ان کے سامان کی تلاشی لینے لگے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس چیز کی تلاشی لے رہے ہیں تو جیل کے عملے نے کہا کہ ان کے سامان میں کاغذ اور قلم تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ان پر کاغذ اور قلم رکھنے پر بھی پابندی عائد تھی۔

انہوں نے کہا کہ پشاور جیل سے انہیں ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا جو بنیادی طور پر دہشت گردوں کے لیے قائم کیا گیا ہے اور یہ زون سکیورٹی اہلکاروں اور جیل عملے کے زیر انتظام رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس زون سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور  اخبار اور ٹی وی کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ملاقات محدود تھی اور صرف خاندان کے لوگوں کو ہفتے میں ایک دن ملنے کی اجازت دی جاتی تھی۔  پشاور میں محسن داوڑ کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جن میں پختون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین، رکن قومی اسمبلی علی وزیر، ڈاکٹر سید عالم محسود اور دیگر رہنما شامل تھے۔

محسن داوڑ سے پوچھا گیا کہ کیا معاملات طے کرنے کے لیے جرگے نے بھی کوئی کردار ادا کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب سے پی ٹی ایم کا سلسلہ شروع ہوا ہے اداروں کے ساتھ رابطوں کے لیے جرگہ جاری رہا اور انتخابات سے پہلے اسی جرگے کی وجہ سے ہی رزمک کا جلسہ ملتوی کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات سے کبھی بھی انکار نہیں کیا۔ اور مذاکرات کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے دوسرا راستہ تو بندوق کا ہے جس سے انہیں نفرت ہے اور وہ آنے والی نسلوں کو عدم تشدد کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے تحفظ کے سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ان کے حقوق کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یہی سب کچھ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ برس ہا برس سے ہو رہا ہے لیکن اس مرتبہ کہانی کچھ مختلف تھی۔  محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ خڑ کمر کے مقام پر لوگ احتجاج کر رہے تھے تو ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ وہ وہاں جاتے اور لوگوں نے ویڈیوز میں دیکھا کہ فائرنگ کس نے کی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا ہوا ہے اور اگر ان پر ایک گولی بھی ثابت ہو جائے تو انہیں ڈی چوک پر پھانسی دی جائے کیونکہ انہیں تشدد سے نفرت ہے۔ یہاں لوگوں کو تشدد نے تباہ کیا ہے اور وہ اسی تشدد کے خلاف نکلے ہیں۔

محسن داوڑ اور علی وزیر کو گذشتہ رات گئے سینٹرل جیل ہری پور سے ضمانت پر رہا کیا گیا۔  پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ نے بدھ کو ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی۔ دونوں رہنماؤں کی رہائی جمعرات کو متوقع تھی جس کے لیے بڑی تعداد میں لوگ سینٹرل جیل ہری پور کے باہر موجود تھے۔ ان میں پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے علاوہ شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک خان مرجان بھی آئے تھے۔

ملک خان مرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم کے لوگ ان کے بچے ہیں، حکومت اور ریاست کو ان سے بات چیت کرنا ہوگی اور ان کے خدشات دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ محسن داوڑ کی رہائش گاہ کے باہر رکن قومی اسمبلی علی وزیر بھی موجود تھے۔ انہوں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں جو آپریشن ہو رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں تاہم وہ پہلے بھی تشدد کے خلاف تھے اور آج بھی تشدد کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت پارلیمینٹیرین جو حقوق انہیں حاصل تھے وہ پامال کیے گئے، ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اس کے باوجود وہ اپنے آئینی حقوق کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔  محسن داوڑ نے کہا کہ وہ میڈیا سے بات کر رہے ہیں اور جہاں تک مشروط ضمانت کی بات ہے اس بارے میں وہ اپنے وکلا سے مشاورت کریں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایوان میں آنے کے لیے سپیکر نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے تو انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے مشکور ہیں جنہوں نے ان کے لیے پارلیمان اور پارلیمان کے باہر آواز اٹھائی۔

جہاں تک پروڈکشن آرڈر کی بات ہے تو اس خطے میں رہنے والے لوگوں کو اپنی حیثیت معلوم ہو گئی ہے اور جو لوگ بات کرتے ہیں تو ان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہو جاتے ہیں۔ ’افسوس اس بات پر ہے کہ ایک پختون سپیکر بھی ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کر سکا۔‘

انہوں نے پشتو کا ایک شعر سناتے ہوئے کہا (جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے) بادشاہی کے تمغے تو پختونوں کو ملیں گے لیکن سب مشروط ہوں گے کیونکہ اپنی مٹی پر جو سانحے ہوں گے ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائے گا بلکہ مظلوم کی مذمت کریں گے۔

محسن داوڑ اور علی وزیر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کے بیانیے میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور وہ جس طرح پہلے اپنے حقوق اور عدم تشدد کی بات کر رہے تھے اب بھی اس پر قائم ہیں۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...