سعودی عرب میں امریکی فوج تعینات ہوگی

  • ہفتہ 21 / ستمبر / 2019
  • 830

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سعودی عرب کے میزائل شکن نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔

چند روز قبل سعودی عرب میں موجود دنیا کی سب سے بڑی تیل تنصیبات آرامکو پر میزائل حملے کیے گئے تھے۔ جس سے تیل کی پیداوار کم ہو گئی تھی۔ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔

پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں مناسب تعداد میں فوج بھیجی جا رہی ہے۔ یہ تعداد ہزاروں میں نہیں تاہم اس کا بنیادی مقصد دفاع ہے۔ اس سے قبل امریکہ، سعودی عرب میں اینٹی میزائل سسٹم، ڈرونز اور طیارہ بردار جنگی بیڑہ تعینات کرنے کا بھی عندیہ دے چکا ہے۔

امریکہ کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ سعودی عرب کی درخواست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج بھیجنے کی منظوری دی ہے۔ ان کے بقول فوج دفاعی نوعیت کے فرائض سرانجام دے گی اور اس کا بنیادی مقصد میزائل حملوں کا دفاع کرنا ہو گا۔

مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت کا عمل بھی تیز کر دے گا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔ جمعے کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کی ان کی پالیسی کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے قومی بینک پر پابندیاں لگائی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی ملک پر نافذ کی جانے والی سخت ترین پابندیاں ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ ایران میں 15 مختلف مقامات کو تباہ کر دیں لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا اعلان ایران کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔ جو اس سے قبل بھی خطے میں امریکی فوج کی موجودگی پر معترض رہا ہے۔ ایران، سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ حملوں کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی دو بڑی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور واشنگٹن  اور تہران ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال قبل اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جس کے بعد سے ان کی حکومت ایران پر اقتصادی پابندیاں سخت کرتی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ پابندیاں مزید سخت کرنے کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا اور  اسے سخت شرائط پر مشتمل  نئے جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکی پابندیوں کے ردِ عمل میں ایران بتدریج جوہری معاہدے میں طے کی جانے والی شرائط کی خلاف ورزیوں میں اضافہ کررہا ہے۔  تہران کا مؤقف ہے کہ اگر معاہدے میں شریک یورپی طاقتوں نے ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کردار ادا نہ کیا تو وہ جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد روک دے گی۔

loading...