امریکہ نے ایران کے مرکزی بینک پر پابندی عائد کردی

  • ہفتہ 21 / ستمبر / 2019
  • 410

امریکا نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور مالیاتی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی طرف سے عالمی معشیت کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کے بعد سعودی عرب پر حملہ کیا۔ یہ اقدام جارحانہ اور خطرناک منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے الزام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے باوجود ایران کے ملوث  ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے دنیا کی سب سے بڑی ریاستی دہشت گردی پر عائد تاریخی پابندیوں پو مزید اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ہم ان ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔

پابندیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ اور ایرنی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی عائد کردی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ  یہ ادارے ایرانی حکومت کی دہشت گردی اور دہشت گرد قرار دی گئی فوج پاسداران انقلاب کے ذریعے خطے میں جارحیت پھیلانے اور ایرانی حکومت کی بڑی پراکسی فورس قدس اور حزب اللہ کی مدد کرتے ہیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ دوسرے ممالک پر حملہ کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی قیمت ہوتی ہے اور ایران کی حکومت کو سفارتی تنہائی اور معاشی دباؤ کی صورت میں سزا دی جائے گی۔

ایران جب تک مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کو عدم استحکام کرنے کی پالیسی کو تبدیل نہیں کرتا اس وقت تک زیادہ سے زیادہ دباؤ کی  مہم جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تجارتی اور معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ معاہدے کے دیگر فریقین برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس اور چین نے ایران سے معاہدہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

loading...