پاکستانی استاد احمد سایا نے دنیا کے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ جیت لیا

  • ہفتہ 21 / ستمبر / 2019
  • 1040

کراچی سے تعلق رکھنے والے استاد احمد سایا نے دنیا کی معروف ترین کیمبرج یونیورسٹی کے ڈیڈیکیٹڈ (پرعزم ترین) ٹیچر 2019 کا ایواڈ جیت لیا ہے۔  

کیمبرج یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق احمد سایا طلبہ کی تعمیر و ترقی میں  کردار ادا کرنے والے سال 2019 کے بہترین استاد ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ جامعہ کے ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایوارڈ 2019 کے لیے دنیا بھر سے 4 ہزار اساتذہ کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 50 کو شارٹ لسٹ ہوئے تھے۔

آخری مرحلے میں  6 کے درمیان حتمی مقابلہ تھا جس میں سب سے زیادہ ووٹ پاکستانی استاد احمد سایا کو ملے۔ اس طرح وہ سال کے بہترین استاد کا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔  ان آخری 6 اساتذہ کا تعلق پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، سری لنکا، ملائیشیا اور فلپائین سے تھا۔

احمد سایا گزشتہ 18 سال سے تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے فاؤنڈیشن پبلک اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اکاؤنٹنگ اور ریاضی کے مضامین میں آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی برطانیہ سے اپلائیڈ اکاؤنٹنگ میں گریجویشن مکمل کیا۔ انہوں نے انسٹیٹی ٹیوٹ آف بزنس منیجمنٹ  سے ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔

احمد سایا اے لیول کے مختلف اسکول اور کالجز سے وابستہ ہیں۔ وہ اکاؤنٹنگ اور ریاضی کے استاد ہونے کے علاوہ او اینڈ اے لیول کے اساتذہ کے لیے ٹریننگ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔  وہ سائیکومیٹرک ٹیسٹنگ اور کاؤنسلنگ کے ادارے ’ریویل پاکستان‘ کے چیف آپریٹنگ افسر بھی ہیں جہاں وہ طلبا کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان کی کمزوریوں کو سامنے لانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ تاکہ وہ صحیح سمت میں اپنے کیریئر کا انتخاب کرسکیں۔

احمد سایا پسماندہ طالبعلموں کے لیے بنائے گئے ایک اسکول ’دی برج اسکول‘ سے بھی وابستہ ہیں۔  کیمبرج کے مطابق احمد سایا کو اسکول مکمل کرنے کے بعد اپنے طلبا کی زندگی سنوارنے کے اعزاز میں ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز کے لیے نامزد کیا گیا۔

احمد سایا کا کہنا ہے کہ ’پڑھانا ایک کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے جو کلاس کے اختتام کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔‘ انہوں نے کہا کہ میں اپنے طالب علموں کو صرف نصابی تعلیم نہیں دینا چاہتا، یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں اعلیٰ کردار، اخلاقیات اور حسن عمل کی تعلیم بھی دوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں روشن مستقبل ہر بچے کا حق ہے اور انہیں ان کے خواب پورے کروانے میں جو بھی کردار ادا کرسکتا ہوں اس پر میں خوش ہوں۔

احمد سایہ نے ایوارڈ جیتنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ان تمام طلبہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بارے میں سوچا، مجھے ان پر فخر ہے اور امید کرتا ہوں کہ میں ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لایا۔  انہوں نے کہا کہ ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایوارڈ جیتنے کے بعد میں اپنے آپ کو ایک بادشاہ کی طرح محسوس کر رہا ہوں۔

احمد سایا نے ڈیڈیکیٹڈ ٹیچرز ایواڈ کو اپنے ملک کے لیے ورلڈکپ جیتنے کے برابر قرار دیا۔

loading...