ایک انقلابی کی سیاسی توبہ

مژدہ ہو کہ بالآخر جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے ۔ لیکن کیا ؟ ہوا یہ ہے کہ شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری دامت برکاتہم عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اور اُنہوں ببانگِ دہل اس کا اعلان بھی کردیا ہے  کہ اُنہوں نے عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔

 اِسے کہتے ہیں جاہل قوم کے مونہہ پر کلمہ ء کرامت ۔ اب اس کرامت کے واقع ہونے کے بعد آپ " چوں بخلوت می روند " کے منصب پر فائز ہوں گے تو   کیا کریں گے یہ تو وہی جانیں یا اُن کے فرشتے تاہم اشارہ اُنہوں نے دے دیا ہے ۔  فرماتے ہیں کہ اب یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف کا کام کریں گے تاکہ اُن کا تخلیق کردہ علمی خزانہ آنے والی نسلوں کے کام آئے ۔ اور یہ بہت ضروری بھی ہے کیونکہ موجودہ نسلیں تو آپ کا پیغام سمجھ ہی نہیں سکیں ،  کیونکہ  اگرسمجھ گئی ہوتیں تو انقلاب نہ آ جاتا ۔ اس لیے وہ حسبِ ضرورت اپنی مطلقہ عوامی تحریک کو ہدایت تو دیتے رہیں گے  لیکن اصل کام تصنیف و تالیف ہی ہوگا۔

یہ بات اپنی جگہ بڑی اہم ہے مگر مجھے خدشہ ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے چودہ مقتولوں کی روحیں اُن کا تعاقب کریں گی اور وہ پوچھتی رہیں گی کہ جو انقلابی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق ملک میں روحانی انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے ، اپنا کام  درمیان میں چھوڑ کر  کیوں بھاگ کھڑا ہوا ہے ۔ لیکن دیوانہ بکار خویش ہُشیار ۔ عملی سیاست کو خیر باد کہہ دینے کے بعد اُن کے پاس ادارہ  منہاج القرآن کو مزید توسیع  دینے ، مزید برانچیں کھولنے اور اپنی تصانیف کو ان برانچوں کے ذریعے جمعہ بازاروں میں تھوک کے بھاؤ بیچنے کا منافع بخش کام کرنے کے لیے کھلا وقت ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں کے محفوظ اور خوشحال مستقبل کی ضمانت اللہ رب العزت سے بطورِ خاص حاصل کر سکیں گے ۔

سیاست ہو یا مذہب اب یہ دونوں شعبے موروثی ہیں ۔ اگر زرداری کا بیٹا بھٹو کے تخت پر بیٹھ سکتا ہے تو شیخ الاسلام کا بیٹا بھی امام غزالی کا جانشین ہو سکتا ہے لیکن اس عہد کے غزالی کا مرتبہ زرداری کے  جانشین بیٹے سے کم نہیں ہوگا ۔ حضرت قبلہ انقلاب القادری درویش آدمی ہیں ، فقیر منش ہیں لیکن یہ زمانہ اویس قرنی اور ابو ذر غفاری کا نہیں میاں منشا کا ہے ، اس لیے الفقر فخری کا سٹائل بھی ذرا جدید قسم کا ہونا ضروری ہے ، چنانچہ  حضرت  مولانا پاکستان میں واقع ماڈل ٹاؤن کے مقتل سے دور کینیڈا میں اپنی درویشی جاگیر میں اموی خلفاء کی طرح رہتے ہیں اور کفر کے خلاف بر سرِ پیکار رہتے ہیں  ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قادری صاحب اور آلِ قادری پر مہربان ہیں، چنانچہ  وہ  دنیوی زندگی کے روز مرہ دکھوں ، پاکستانی پولیس کے چھتروں اور بھتہ خوروں کی دست برد سے دور آرام و آسائش سے ہیں اور ایک ڈی لکس قسم کی ارضی جنت میں دودھ اور شہد کی نہروں کے کنارے خیمہ زن رہتے ہیں ۔

لیکن قادری صاحب کی اس روحانی ریٹائرمنٹ کو عام لوگ پاکستان عوامی تحریک سے بے وفائی قرار دے رہے ہیں اور اسے ایک جانکاہ سانحہ کہہ کر گریاں ہیں کہ جن عوام نے قادری صاحب کو قائدِ انقلاب مقرر کیا تھا آج وہ یتیم ہو گئے ہیں لیکن یہ کوئی معمولی واقعہ  نہیں بلکہ یہ عام مسلمانوں کی لا وارثی ، مسکینی اور یتیمی  کا  وہ سانحہ  ہے  جو پورے برِ صغیر پر محیط ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آج کا مسلمان سرحدوں کے دونوں طرف ایسے خوفناک مقتلوں میں رہ رہا ہے جہاں ظلم و ستم کا دورہ ہے ۔ آہ بے چارہ عام مسلمان جو  بھارت میں مودی کی بی جے پی ، آر ایس ایس اور بھارتی فوج کی سفاکیت کے ہاتھوں زخم زخم ہے اور بندوقوں کے چھروں کی غذا کھا کھا کر بسترِ اذیت پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے  اور سرحد کے اِس طرف عام مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو  پاکستانی پولیس ، نوکر شاہی اور شدت پسند درندوں کے ہاتھوں داؤ پر لگی ہے ۔ سڑکیں غیر محفوظ ہیں ۔ دن دیہاڑے مسلمان مسلمان کے ہاتھوں لُٹ رہا ہے ، بے آبرو ہو رہا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور بچیاں مسلمانوں کے ملبوس میں چھپے وحشی درندوں کی غذا بنے ہوئے ہیں ۔ شہروں کے گلی کوچے نجاست کے ڈپو ؤں میں تبدیل ہو گئے ہیں اور کوڑے کے اِن ڈھیروں سے اُٹھتا ہوا تعفن دمے کا روگ پھیلا رہا ہے ۔ سانس لینا دوبھر ہے ۔ عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتیں خواب بن کر رہ گئی ہیں اور پاکستان جو  بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ہاں گروی پڑا ہوا ہے ، ان سیاسی ملعونوں سے سوال کرتا ہے اگر ملک سنبھالنا اور چلانا تمہارے بس کا روگ نہیں تھا ، تو قیادت کا منصب کیوں سنبھالا تھا ۔

قائد اعظم کا پاکستان تو 1971 کے عسکری طوفان میں بہہ گیا تھا اور جو کچھ  باقی بچا تھا ، اُس کی حفاظت پر مامور دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فوج ، مہذب ترین مومن پولیس ، اعلیٰ تربیت یافتہ نوکر شاہی اور خُدا فرستادہ دانشوروں ، پروفیسروں ، ملاؤں ، شیخ الاسلاموں ، پیروں ، وزیروں ، مشیروں اور سیاسی مسیحاؤں نے کروڑوں کی ویاگرا کھا کر بھی مردانگی کا ثبوت نہیں دیا اور نہ ہی اس ملک کے عام شہری کو بنیادی ضرورتِ زندگی کی ضمانت ہی دی ہے ۔  متذکرہ اداروں کا ہر صاحبِ سطوت و اختیار  نہ صرف پاکستان کا نظریاتی منکر ہے ، بلکہ اسلام کا غدار بھی ہے کیونکہ اس معاشرے کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی معاشرہ بنانے کا کام وہ سب مل کر پون صدی میں بھی نہیں کر سکے ۔ ان حالات میں برِ صغیر  کی مسلمان جمعییت ایک عذابِ الیم سے گزر رہی ہے ۔ ان پر گزرنے والی ہر گھڑی قیامت کی گھڑی ہے  جو پکار پکار کر کہ رہی ہے :

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے

پیش کر غافل ، عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

مگر اس قوم کے  حاضر سروس رہنماؤں اور صاحبِ ثروت طبقوں کے اعمال کی زنبیل میں بھتہ خوری ، کرپشن ، منی لانڈرنگ ، لاقانونیت  ، انصاف کُشی ، بے رحمی اور سفاکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ اور کوڑے کے ڈھیروں پر بیٹھے ہوئے جعلی پیر  طفل تسلیاں بانٹ رہے ہیں اور لوگوں کو طرح طرح کی جھوٹی افواہوں کے فسانے سنا رہے ہیں کہ یہ ملک مسلمانوں کے لیے تا قیامت جنت نظیر بن کر رہے گا ۔ یقیناً رہے گا مگر ان کے ہاتھوں سے نہیں جو زبردستی اس ملک پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں بلکہ اللہ کا وعدہ اس طرح پورا ہوگا کہ یہ فتنہ پرداز  جو عوام کے غدار ہیں اور پاکستان کے سیاسی بد کار ہیں اپنے انجام کو پہنچیں گے اور اُن کی جگہ لینے خلقِ جدید آئے گی جو اس قافلے کی عنان سنبھالے گی۔ تو انقلاب کا سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور خدا کا وعدہ پورا ہوگا ۔ وما علینا البلاغ

loading...