کشمیر کی صورت حال عالمی امن کے لئے خطرہ ہے: صدر عارف علوی

  • جمعرات 12 / ستمبر / 2019
  • 290

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر دنیا نے کشمیر میں نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا۔

نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔  صدر مملکت کا خطاب شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف شدید نعرے بازی کی گئی لیکن پارلیمنٹ میں شور شرابے کے باوجود ڈاکٹر عارف علوی نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کی۔ اور کہا کہ اس چھت کے نیچے عوام کے منتخب نمائندوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر حکومت پاکستان اور عوام نےشدید رد عمل کا اظہار کیا۔ بھارت نے اپنے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدام سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کو اپنا بھرپور کرادار ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ مسئلہ عالمی امن کے لیے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے بھی 58 ممالک کی حمایت سے اس معاملے پر مشترکہ بیان جاری کیا جس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر سے تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب نہیں کرسکتا۔ بھارت کا سیکولرزم اور جمہوریت آر ایس ایس کی جنونیت کی نذر ہورہی ہے۔ بھارت کے ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے مقبوضہ کشمیر کو یرغمال بنایا ہے جیسے نازیوں نے جرمنی کو بنایا تھا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ کشمیر میں اپنے مبصرین بھیج کر وہاں مخدوش حالات کا صحیح تناظر واضح کرے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا اور اس سلسلے میں پوری قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ سفارتی، اخلاقی اعتبار سے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگر آج دنیا نے بھارت کی کشمیر میں نسل کشی کا نوٹس نہیں لیا تو خطے میں عدم استحکام بڑھے گا۔ بھارت کے اقدامات نے ایک مرتبہ پھر دو قومی نظریے کو اجاگر کردیا ہے۔ پاکستان کے حصول کا مقصد ایک ایسی مثالی ریاست کا قیام تھا جہاں انصاف، رواداری اور مساوات کے تحت ہر شہری کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔ ریاست مدینہ انہی اصولوں کا عملی نمونہ تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی بیان کرتے یوئے صدر مملکت نے کہا کہ ملک کی موجودہ حکومت روزِ اول سے ہی ملکی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے متعلق پالیسیاں تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ ایک برس کی قلیل مدت میں کابینہ کے 50 سے زائد اجلاس ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی میں فعال اور متحرک ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی اکانومی ، نالج اکانومی اور آئی ٹی اپنی پالیسیوں میں خاص جگہ دیں تاکہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب میں ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے‘۔  صدر عارف علوی نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ محصولات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں ادا ہوجاتا ہے اور ترقی کاموں کے لیے وسائل نہیں بچتے۔ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمد میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ و پاک بحریہ کے سربراہان، وزیراعظم آزاد کشمیر، وفاقی وزرا اور وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے۔

loading...