کپتان کو فارغ کرنے کے زیر غور طریقے

کپتان نے امریکہ جا کر دو وعدے یا دعوے کیے تھے ۔ طالبان کے پاس یرغمال دو پروفیسروں کی اڑتالیس گھنٹوں میں رہائی ۔ پاکستان پہنچ کر طالبان قیادت سے ملاقات اور انہیں راضی باضی کرنا ۔ دونوں کام نہیں ہوئے ۔ امریکہ میں اس وقت ایک پاکستانی ٹرمپ انتظامیہ کے کافی قریب ہیں ۔ انہیں کسی نے چھیڑنا ہو تو کپتان کے دورہ امریکہ کا پوچھ لے۔

وہ باقاعدہ چھڑ جاتے ہیں ۔ پوچھنے لگتے کہ جب کچھ کر نہیں سکتے تو کہتے کیوں ہو ۔ وہ وعدے کیوں کر لیتے ہو جس کا تم سے کسی نے مطالبہ تک نہیں کیا تھا۔ کس نے کہا تھا کہ کہہ کر آؤ کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے میننگ فل ( بامعنی) ڈائلاگ کا آغاز کریں گے۔ کیا ؟ نہیں ، تو کہنے کی کیا ضرورت تھی۔

اب یو این اسمبلی سے خطاب کرنے کے لیے ہمارے وزیراعظم امریکہ پہنچ رہے ہیں ۔ وہاں ان کے اعزاز میں نیویارک کے ایک جلسے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ٹرمپ امریکہ میں کپتان کی مقبولیت دیکھ کر ڈرے ، عبرت پکڑے اور نیواں نیواں ہو کر اسے کپتان جو کہے وہ کرتا رہے۔ امریکی انتظامیہ کپتان کے ان جلسوں کے آئیڈیا سے تقریبا چڑی بیٹھی ہے۔ وہاں اہم اہلکار پوچھتے ہیں کہ یہ شو آف پاور کس کو دکھانے کے لیے ہو رہا ہے۔ کپتان نے کہیں خدانخواستہ تبدیلی کو اب امریکہ تو نہیں پہنچانا ؟

امریکی بے چینی کو باقاعدہ نظرانداز کرتے ہوئے کسی بہت ہوشیار نے مودی کے امریکہ میں جلسے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا شاندار آئیڈیا دیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم بھی غالبا ہوسٹن میں اک جلسہ کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی طبعیت کے عین مطابق ان کے جلسے کے باہر کنٹینر رکھ کر اوئے اوئے مودی کہہ کر کشمیر لینے کا سوچا ہے۔

طالبان سے امریکہ کے مذاکرات ختم ہو چکے ہیں ۔ ایسے میں امریکی ہمیں صرف گھور نہیں رہے، ہم سے خصوصی شفقت فرمانے کا بھی سوچ رہے ہیں ۔ اک کارنامہ ہم نے بالکل تازہ سرانجام دیا ہے ۔ گوادر کی بندرگاہ پر اپنے دو دوست ملکوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے ۔ سعودی اور اماراتی گوادر کو آئیل سٹی بنانے کو تیار کر دیے ہیں ۔ چین کےساتھ اسی گوادر کو تجارتی بندرگاہ بنانے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ اب کبھی چینی دوڑے دوڑے اسلام آباد پہنچ رہے ہوتے ہیں ۔ کبھی سعودی اور اماراتی جوڑی بنا کر آتے ہیں۔

یہ چھوٹے موٹے مسائل ہم پاکستان جیسے طاقتور ملکوں کے ساتھ لگے رہتے ہیں ۔ ان کی اتنی ٹینشن کسی کو نہیں ، نہ ہونی چاہئے ۔ رولا یہ ہے کہ اس وقت معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ وزیراعظم جناب عمران خان سارا احتساب بھول بھال کر سیٹھوں کو بلا بلا کر ترلے کر رہے ہیں۔ میاں منشا تک سے انہوں نے ملاقات فرمائی ہے۔ پرانی باتوں کو بھول جانے کا کہا اور درخواست کی کہ کسی طرح معاشی سرگرمی کو کک سٹارٹ کریں۔ اس ملاقات میں کہتے ہیں میاں منشا نے پرانی باتیں ہی یاد کرائیں۔

کپتان کے نفسیاتی ( نظریاتی) کارکن اس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں ۔ کوئی حکومت کی کارکردگی کا پوچھے تو اسے گھر تک پہنچا کر آتے ہیں ۔ بلکہ وہ گھر داخل بھی ہو تو دروازے تک کو وٹے مارنے کو تیار رہتے ہیں۔ نفسیاتی کارکن پھر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جب بھی کریں جس سے بھی کریں سچا پیار ہی کرتے ہیں۔ ان کا پیار باقی امید ٹوٹی پڑی ہے اب بس اک حسرت ہے کہ کپتان کچھ کرے گا۔ یہ پیار ضرور باقی ہے لیکن کپتان کو لانے والوں کا بخار ضرور اتر چکا ہے۔ جو حلقے مل کر کپتان کو منجی پر چک کر اسلام آباد لائے تھے ۔ جو بتاتے تھے کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں ۔ اب وہ بولیں نہ بولیں سب کو دکھائی دے رہا کہ پیج پاٹ گیا ہے ۔

حالات کا پریشر ایسا ہے کہ محسوس کیا جا رہا کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے ہر صورت صورتحال کو نارمل کرنا ہو گا۔ سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنا ہو گا۔ بات آ گئی نہ پھر گھوم پھر کر سیاست پر ۔ تو جہاں مامتا وہاں ڈالڈا ۔ جب سیاست کی بات ہو گی تو نوازشریف بھی ہوں گے آصف زرداری بھی ہو نگے ، مولانا بھی ہوں گے ، اسفندیار خان بھی ہوں گے اور بلوچستان کی مقامی جماعتیں بھی ہوں گی۔

آصف زرداری کی طرف سے صاف جواب دیا گیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ تمہارے پاس مجھے دینے کے لیے ہے کیا ۔ سندھ حکومت تو پہلے ہی میرے پاس ہے ۔ اور کیا دو گے دل دو گے یا جان ؟ انہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ ان ہاؤس تبدیلی لے آئیں ۔ مرکز میں بڑا حصہ لے لیں۔ ان ہاؤس تبدیلی کسی بھی تبدیلی کے لیے سوچا تو جا سکتا لیکن ایسی کسی کوشش سے مسلم لیگ نون کو باہر نہیں رکھا جا سکتا۔

مسلم لیگ نون سے یہ کہا جا رہا کہ آپ پنجاب میں اپنا بندہ نامزد کریں وزیراعلی بنوا لیں ۔ مرکز میں اعتماد کا ووٹ دیں بھلے پھر بعد میں سائڈ پر بیٹھ جائیں۔ اس آفر پر مسلم لیگ نون کا ڈیل گروپ کافی حد تک راضی ہے۔ نوازشریف راضی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نئے الیکشن کراؤ،  ہم اس کا نتیجہ تسلیم کریں گے۔ مرکز اور صوبے میں ہماری حکومت تھی ہمیں وہی واپس ملنی چاہئے۔

اب اگر نوازشریف کی بات مانی جائے تو آصف زرداری کو کیا بتا کر کیسے سمجھایا جائے کہ نئے الیکشن ہوں گے ۔ دوبارہ آپ سندھ میں جیتیں گے پھر حکومت بنائیں گے اور اس کے بعد سکون کریں گے ۔ تو یہ سب تو اب بھی ان کے پاس ہے وہ کیوں راضی ہوں گے ۔ سندھ اسمبلی نہیں ٹوٹے گی تو الیکشن کیسے ہوں گے؟ اسی لیے ہم سندھ میں تبدیلی اور فاروڈ بلاک کی باتیں سنتے ہیں کہ اگر بات نوازشریف سے بنتی ہو تو پھر سندھ اسمبلی توڑنے کا بھی اعلی انتظام کیا جا سکے۔

قومی اسمبلی کا ٹوٹنا سب سے آسان بتایا جا رہا ہے ۔ مولانا کی تحریک سے متاثر ہو کر کسی بھی وقت  سارے لوٹوں کے ضمیر پھر جاگ سکتے ہیں ۔ ضمیر جاگنے کے بعد یہ مستعفی ہوں گے اپوزیشن کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی سے اور ایسی اسمبلی جس کی اکثریت مستعفی ہو چکی ہو کو توڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔

نئے الیکشن کی صورت میں سب انتظامات کرنے کے لیے آٹھ سے دس مہینے درکار ہیں ۔ اس وقت میں نگران حکومت سخت معاشی فیصلے بھی کر لے گی۔ نیب کے جاری کیسز سے بھی ریلیف دیا جا سکے گا ۔ صوبائی اسمبلیاں بھی کسی نہ کسی طرح ٹھکانے لگائی جا سکیں گی۔

ان ہاؤس تبدیلی اور نئے الیکشن ان دونوں ممکنہ سمجھوتوں میں ایک دیوار چین بھی حائل ہے۔ وہ یہ کہ ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہیں نوازشریف اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ملنے تک صورتحال یہی رہے گی۔ آپ یہ سب پڑھ کر بور ببر ہوئے اب فاضل لکھاری کی شان دل میں یا بول کر بڑھا رہے ہوں گے ۔ بڑھائیں بڑھائیں ۔ اسلام آبادی گپیں پھر ایسی ہی ہوتی ہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...