جمہوریت میں اختلاف رائے کا احترام اہم ہے: چیف جسٹس

  • بدھ 11 / ستمبر / 2019
  • 310

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ اس بارے میں اب آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ میں بخوبی آگاہ ہوں کہ سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہے۔ وہ طبقہ چند ماہ قبل جوڈیشل ایکٹیویزم پر تنقید کرتا تھا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ازخود نو ٹسز پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے۔ تاہم معاشرے کا مخصوص طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر ازخودنوٹس لینے کو سراہتا ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ’ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں، جسے سن کر فیصلہ ہوگا‘۔ازخود نوٹس کے اختیار کو قومی اہمیت کے معاملات میں استعمال کیا جائے گا کیونکہ جو کسی کے مطالبے پر لیا گیا ہو وہ ازخود نوٹس نہیں ہوتا۔ جب عدالت کسی معاملے پر ضرورت محسوس کرے گی تب ازخود نوٹس لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ از خود نوٹس کے استعمال سے متعلق آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک مسودہ تیار کر لیا جائے گا اور اس مسئلے کو بھی ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے آغاز پر ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 18 لاکھ 10 ہزار تھی۔ تاہم اب لا اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہوکر 17 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے۔  گزشتہ برس سپریم کورٹ میں 19 ہزار 7 سو 51 مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ عدالت عظمیٰ نے 57 ہزار 6 سو 84 مقدمات نمٹائے۔

دنیا بھر کی سپریم کورٹس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ای کورٹ کا نظام متعارف کروایا ہے۔ ای کورٹ کے نظام کے ذریعے عدالت عظمیٰ، پرنسپل سیٹ اور تمام رجسٹریاں ویڈیو لنک کے ذریعے منسلک ہوئیں۔  

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی کارروائی کو مشکل ترین کام قرار دے دیا۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دے۔  سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی۔ صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ عدالتی سال سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا پرائیویٹ درخواستوں کی تعداد 56 تھی جن میں مزید 102 کا اندراج ہوا جبکہ کونسل میں 149 شکایات نمٹائی گئیں اور اس وقت ایس جے سی میں 9 شکایات زیر التوا ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں۔ کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی۔  انہوں نے کہا کہ ’قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ بد اعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ جبکہ اختلاف کو برداشت نہ کرنے سے اختیاری نظام جنم لیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون ساز عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں لیکن بدقسمتی سے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ ادارہ جاتی مذاکرات کی تجویز پر بھی غور نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشتگردی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 376 اور 370 کی منسوخی کا اقدام غیر قانونی ہے، پاکستان اس مسئلے کو کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہا ہے۔  اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ ’بدقسمتی کے ساتھ بھارتی سپریم کورٹ بھی اس معاملے میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔‘

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل سید امجد شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ماتحت عدلیہ میں انصاف کی فراہمی کبھی تسلی بخش نہیں رہی یہاں کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔  ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو مقدمات کے فیصلوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واٹس آپ پر ججز کے تبادلے کے احکامات سے اجتناب کیا جائے۔ ماڈل کورٹس میں مقدمات کی کارروائی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جبکہ آئین کی بالادستی کے لیے ہر ادارہ اپنے حدود میں رہ کر کام کرے۔

سید امجد شاہ نے پاکستان کی 2 بڑی شخصیات کے خلاف کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم کے مقدمات کی سماعت جلدی میں کردی گئی جبکہ جس حکمران نے 2 مرتبہ آئین توڑا اس کا مقدمہ سالوں سے فیصلہ طلب ہے۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ ازخود نوٹس میں بھی اپیل کا حق دیا جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج ہوچکی ہے۔ ایس جے سی کے خلاف درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے۔

پولیس حراست میں ملزمان کی اموات کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی حراست میں لوگوں کی اموات کے واقعات تشویشناک ہیں۔ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ پولیس افسران آج بھی اپنے اعہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود وطن کے دفاع کے لیے ہم سب ایک ہیں۔  فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں تنقید کرنا آسان جبکہ عمل کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیر التوا مقدمات کے حتمی فیصلے تک میڈیا کو اس سے متعلق مواد نشر کرنے سے روکا جائے۔ کسی کو بھی معزز جج کی کردار کشی کا استحقاق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میڈیا عوام کی مشکلات سامنے لانے کے بجائے اشرافیہ کے مقدمات کو سامنے لاتا ہے۔

امان اللہ کنرانی نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت جن ججز کے خلاف شکایات ہیں ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

loading...