پاکستان پولیو پروگرام کی ناکامی دنیا کے لیے خطرہ ہے: عالمی ادارہ صحت

  • بدھ 11 / ستمبر / 2019
  • 600

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تحت کام کرنے والے ماہرین صحت نے پاکستان کے پولیو پروگرام کو ناکام  قرار دیتے ہوئے صورت حال کو دنیا کے لیے خطرناک بتایا ہے۔

عالمی انسداد پولیو اقدامات سے متعلق تنظیم (ٹیگ) کے ماہرین صحت سال میں دو مرتبہ ایسے ممالک کے پولیو پروگرام کا جائزہ لیتے ہیں جہاں تاحال اس مرض کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ اسلام آباد میں 29 اور 30 اگست کو ٹیک نے اپنے ششماہی اجلاس میں ایک بار پھر پاکستان کے پولیو پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ماہرین صحت کا یہ گروپ ان ممالک کو اس مرض کے تدارک کے لیے اپنی سفارشات بھی پیش کرتا ہے۔

پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 62 تک جا پہنچی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی پولیو کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ٹیگ کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں انسداد پولیو مہم ایسے موڑ پر کھڑی ہے جس کی ناکامی کا اثر بہت دور تک جا سکتا ہے۔

ماہرین صحت نے اجلاس کے اختتام پر اپنے مشاہدات اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ بھی مرتب کی ہے۔ وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی رپورٹ کی کاپی کے مطابق ماہرین نے پاکستان کی موجودہ انسداد پولیو پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکمت عملی کا فقدان قرار دیا ہے۔

ٹیگ نے 'ون ٹیم' کے آزمودہ فارمولے کو دوبارہ اپنانے کی تجویز دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ انسداد پولیو پروگرام پیچیدہ حکمت عملی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو رہا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور خیبر پختونخوا کے آپریشن سینٹرز بدانتظامی سے دوچار ہیں۔ ٹیگ کی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سیاسی قیادت کا متحرک کردار پولیو مہم میں بہتری لا سکتا ہے۔

ٹیگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ژوں مارک اولیویے کی زیر نگرانی مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ بنیادی طور پر پاکستان میں انسداد پولیو پروگرام چار وجوہات کی بنا پر ناکامی سے دوچار ہے۔ جس میں "ون ٹیم" پالیسی سے دوری، انسداد پولیو مہم کی صوبائی، ضلعی اور کونسل سطح پر انتظامی ناکامی بھی شامل ہے۔  ان کے بقول انسداد پولیو مہم کے اعلی معیار کو یقننی بنانے میں ناکامی اور کمیونیٹیز کے درمیان بھروسے کی فضا قائم نہ کرنے جیسے عوامل انسداد پولیو مہم کو ناکامی کی جانب لے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ٹیگ تجاویز پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیگ خود بھی انسداد پولیو مہم کا حصہ ہے لہذٰا صرف پاکستان کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نومبر سے حالات میں بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔

loading...