امریکا نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ اور متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دیا

  • بدھ 11 / ستمبر / 2019
  • 590

امریکا نے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سمیت متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا  ہے۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلان کے مطابق لبنان کی حزب اللہ، ایران کی پاسداران انقلاب، القاعدہ، فلسطین کی حماس، فلسطین اسلامک جہاد اور داعش سیمت دیگر تنظیموں سے وابستہ کئی افراد کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔  کالعدم ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ کے 2018 میں ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد مفتی نور ولی محسود کو کالعدم تنظیم کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

مفتی نور ولی محسود کی قیادت میں کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔  امریکا نے گزشتہ ماہ بلوچستان لبریشن آرمی  کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکا نے شام میں موجود القاعدہ کی ذیلی تنظیم ’حراس الدين‘ کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشتگرد فہرست میں شامل کیا ہے۔  اس کے علاوہ حزب اللہ، حماس، اسلامک جہاد، داعش، داعش (فلپائن)، داعش (مغربی افریقہ)، تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا گیا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے داعش، داعش (فلپائن)، داعش (خراساں)، القاعدہ، حماس اور ایران کی پاسداران انقلاب کی  قدس فورس کے 15 افراد پر اسی قانون کے تحت پابندی عائد کی ہے۔  امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد ان دہشت گردوں کو مزید کارروائیوں سے روکنا ہے۔

جن دہشت گردوں پر پابندی عائد کی گئی ان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر نور ولی محسود، اسلامک جہاد کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمد الہندی، حزب اللہ جہاد کونسل کے سینئر رہنما علی کاراکی، محمد حیدر، فعاد شکر اور ابراہیم عاقل، داعش (مغربی افریقہ) کے امیر ابو عبداللہ ابن عمر البرناوی، داعش (فلپائن) کے امیر حاتب حاجان سوادجان اور حراس الدین کے امیر فاروق السوری شامل ہیں۔

loading...