انصاف کی میزان اور قومی مفاد کا اعمال نامہ

ڈیل اور ڈھیل کے منظر نامہ میں  بالآخر    العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی اپیل کی سماعت آئندہ  بدھ کو  اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ کرے گا۔ اس بنچ کا  فیصلہ ملکی سیاست کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتا ہے ۔  تاہم اگر بنچ پر بیٹھے ہوئے ججوں نے  میرٹ کی بنیاد پر   اس معاملہ میں سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور  گزشتہ ماہ کے آخر میں  اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لیتے ہوئے ویسا ہی  کمزور اور ناقابل دفاع  مؤقف اختیار    کیا گیا  تو ملکی سیاست میں اٹھنے والا طوفان تو نہیں تھمے گا لیکن عدالتوں کی رہی سہی عزت بھی خاک میں  مل سکتی ہے۔

پاکستان اندرونی اور بیرونی لحاظ سے انتہائی مشکل  حالات کا سامنا کررہا ہے۔ بدقسمتی سے ان میں سے بیشترمشکلات پاکستانی رہنماؤں کی اپنی ہی پیدا کردہ ہیں۔  دنیا سے معاملات طے کرتے ہوئے اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو کسی  بہتر سمت میں گامزن کرنے کے لئے  بروقت معاملات کا ادراک نہیں  کیا گیا ۔اور یہ سمجھ  لیا گیا کہ وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہوجائیں  گے اور  تب سنبھال کر رکھے ہوئے ’اثاثے‘ کام آئیں گے۔   5 اگست  کو  مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل  کرکے  بھارتی حکومت نے  مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور سے بند کرنے کا   غیر انسانی رویہ اختیار کیا۔ لیکن اس وقت تک فناشل ٹاسک فورس کے ہاتھوں  مجبور ہو کر ہم اپنے  اثاثوں کو اپنے ہی ہاتھوں تلف کرنے پر مجبور ہوچکے تھے۔

 یہی وجہ ہے کہ اب پاکستانی قیادت مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والے ’طوفان‘ کا انتظار کررہی ہے   تاکہ  دنیا بھارت کی گوشمالی کے لئے آگے بڑھ سکے۔ اس دوران  ہمارے لیڈر  پر جوش بیان دے کر پاکستانی عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں  کہ  کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کے لئے  ہر ممکن کوشش کی جائے  گی۔ البتہ اب  یہ راز فاش ہوچکا ہے کہ پاکستان کی طرف سے اس مقصد کے لئے ہر حد تک جانے کا جو دعویٰ کیا جاتا ہے، اس  میں حد کا تعین پہلے ہی ہوچکا ہے۔  بھارت  کو بتایا جارہا ہے  کہ اگر حملہ کیا گیا تو آخری گولی اور آخری سپاہی تک مقابلہ کیا جائے گا۔ اس فقرے کی ساخت ہی اس کے ناقابل عمل ہونے کی  تصدیق کرتی ہے۔

اس دوران امریکہ سے حق خدمت کے طور پر بھارت    کو جارحیت سے باز رکھنے کی  درخواست گزاری جارہی ہے۔ یہ درخواست شاید اب براستہ واشنگٹن نئی دہلی تک پہنچ چکی ہے۔ شاید اسی لئے  امریکہ کے صدر ٹرمپ نے  صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ  پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تصادم کی وہ کیفیت نہیں ہے جو دو ہفتے پہلے تک موجود تھی۔

یہ خوشگوار  پیغام سننے کے لئے اسلام آباد اور راولپنڈی نے واشنگٹن سے کیا وعدے کئے ہیں اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کے تناظر میں  کون سی ایسی نئی ذمہ داریوں کا بوجھ پاکستان  پر ڈالا جارہا ہے  جس کے عوض امریکی صدر  بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعہ میں ’ثالث‘ بننے کے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں؟  بھارت کی ہٹ دھرمی اور  معاشی  و سفارتی قوت کی روشنی میں  یہ سمجھنا دشوار نہیں ہونا چاہئے کہ  پاکستان سے ایک تو مقبوضہ کشمیر کی کسی بھی تحریک میں کسی بھی قسم کی کوئی بھی عملی امداد  نہ کرنے کا وعدہ لیا جائے گا۔ دوسرے  طالبان کو خوفزدہ کرنے اور راہ راست پر لانے کے  لئے  پاکستان  کو پہلے سے بڑھ کر ذمہ داری نبھانا ہوگی ۔ تاکہ جب مستقبل میں  صدر ٹرمپ اپنا ایلچی طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے دوحہ بھیجیں تو    طالبان کا وفد سیز فائر    پر راضی ہونے کے  علاوہ کسی نہ کسی طرح افغان حکومت سے بات چیت   اور افغانستان کے آئین کو تسلیم کرنے پر بھی  آمادہ ہو۔  یہ  جوکھم کا کام ہے لیکن اس کا سارا بوجھ نئی صورت حال میں پاکستان پر ڈالا جائے گا۔

پاکستان   کشمیر اور افغانستان  میں موجودہ  حالات   میں  ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور  ہوچکا ہے جو اس کی گزشتہ دو دہائیوں کی کارگزاری اور طریقہ کار سے متضاد ہے۔ اس کے باوجود  حکومت کی کسی  سطح پر کوئی اس کی ذمہ داری قبول کرنے اور عوام  کے سامنے حقیقت حال کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں  ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ جن سیاسی لیڈروں کو   فیصلے کرنے والوں  کی حکمت پر سوال اٹھانے  کا موقع دیا گیا ہے ، وہ سوال  کی بجائے اطاعت کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔  اسی لئے جب جیل میں    بند  نواز شریف کی طرف سے پیغام دیا جاتا ہے  کہ وہ کسی ڈیل پر تیار نہیں ہیں۔ اب تو معاملات سیاسی طاقت کے ذریعے ہی طے ہوں گے  تو اس ناقابل  یقین مؤقف  سے نمٹنے کے لئے آپشنز پر نئے سرے سے غور شروع ہوجاتا ہے۔

   اس رویہ  سے پتہ چلتا ہے کہ جس طرح خارجہ محاذ پر اسی وقت  پالیسی تبدیل کی جاتی ہے جب آگے بڑھنے کا کوئی راستہ موجود نہ  ہو ، اسی طرح  داخلی محاذ پر بھی ’ آخری گولی آخری سپاہی ‘ کا انتظار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔  سیاسی طور سے البتہ  حکومت اور اس کے سرپرستوں کا اسلحہ خانہ کافی حد تک خالی ہو چکا ہے۔

بھارت  نے  کشمیر میں ایک ایسے وقت پاکستان کا بازو مروڑا ہے  جب  پوری دنیا دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان  کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کے علاوہ اس کی کڑی نگرانی   پر مامور تھی۔ اسی لئے  پاکستانی  لیڈروں کے پاس مقبوضہ کشمیر کی انتہائی المناک صورت حال پر غرانے، دھمکانے اور للکارنے کے سوا   کوئی  دوسرا راستہ نہیں   ہے۔ اس کا بھرپور مظاہرہ  شاہ محمود قریشی نے  آج جینوا میں  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل  کے 42 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کیا ہے۔  پاکستانی  لیڈروں نے یہ ساری باتیں  گزشتہ پانچ ہفتے کے دوران اس تواتر اور شدت کے ساتھ کی ہیں  کہ اب  ان کی   ’خبریت‘ بھی ختم ہو چکی ہے۔ اسے سننے والے پاکستان کی بے چینی سمجھ کر خاموش ہوجاتے ہیں اور ذبردست کا پرنالہ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے۔

سفارت ہو یا سیاست، معیشت ہو یا سلامتی کے امور پاکستان کے منہ زور طاقت کے مراکز جب تک اپنے گریبان میں نہیں جھانکیں گے اور  غلطیوں کو تسلیم کرکے سیاست  کو قومی مفاد کے جبر  کی غلامی سے آزاد نہیں کیا جائے گا، اس وقت  تک نہ عالمی سطح پر پاکستان کو وقار نصیب ہوگا اور نہ ہی  اندرون ملک بے چینی کا خاتمہ ہوگا۔   اب یہ   حقیقت  چڑھتے سورج کی طرح واضح ہوچکی ہے  کہ  اس ملک  میں   وسیع تر قومی مفاد کے نام پر اختیار کی گئی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔  جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکہ دینے والا نظام اب اپنی اہمیت و حیثیت کھو چکا ہے اور منتخب لیڈروں کو عسکری و عدالتی  اداروں کے ذریعے مجبور اور پابند کرنے کا طریقہ  اب ’خفیہ ہتھکنڈا‘ نہیں رہا۔  اس سچائی کو تسلیم کرنے میں جتنی دیر کی جائے گی، ملکی مفاد ہی نہیں اداروں کی صحت کے لئے بھی اتنا ہی  نقصان دہ  ہوگا۔

18 ستمبر کو  اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ جب  العزیزیہ  کیس میں دی گئی سزا کے خلاف  دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرے گا ، تو اسے بھی  سچائی کے ایسے  ہی  مرحلے  کا سامنا ہوگا۔ اسے ایک ایسے فیصلہ  کو پرکھنا ہے جسے صادر کرنے والے جج کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ملک کے تمام ججوں کے لئے شرمساری کا باعث قرار دے چکی ہے۔ ایسے جج کی طرف سے ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے  شخص کے خلاف سزا کو اگر میرٹ  کی خود ساختہ میزان پر پرکھنے کی کوشش کی گئی تو یہ انصاف کا منہ چڑانے اور قانون کو کھلواڑ بنانے والوں کی طاقت کو تسلیم کرنے کے مترادف  ہوگا۔  

اس ترازو میں صرف نواز شریف کی تقدیر کو  ہی  نہیں پرکھا   جائے گا بلکہ اس کے   ایک  پلڑے  میں  انصاف اور دوسرے میں  مصلحت و  ضد دھری ہوگی۔  ججوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالتے ہیں۔

loading...