ڈنمارک کی ریاست: جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا

ہم میں سے کون ہے جس نے شیکسپیئر کا شہرہ آفاق ڈرامہ ہیملٹ نہیں پڑھا۔ ڈنمارک اور ہمسایہ ملک ناروے کی ریاستوں میں جھگڑے کی ایک تاریخ چلی آ رہی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف خون بہانے کی روایت قائم ہو چکی ہے۔

کچھ مدت ہوئی، ناروے کا بادشاہ مارا گیا تھا اور حال ہی میں ڈنمارک کا تاجدار قتل ہوا ہے۔ قاتل نے مقتول کی بیوہ سے شادی کر لی ہے اور تخت پر قابض ہو گیا ہے۔ قتل ہونے والے کا وارث شہزادہ ہیملٹ اپنے حق میراث کی کھوج میں ہے، اس کی شب بیدار آنکھ مرنے والے کی روح سے فصیل شہر پر ہم کلام ہوتی ہے۔ پہلے ایکٹ کا چوتھا منظر آن لگا ہے۔ شہزادے کے خیر خواہ دبی دبی سرگوشیوں میں اسے بتاتے ہیں کہ ڈنمارک کی ریاست کے بھیتر میں کوئی روگ لاحق ہو گیا ہے۔ اس روگ کا احساس شہزادے سے بہتر کسے ہو سکتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ قاتل نے مقتول کی سیاسی طاقت ہتھیا لی ہے اور جسمانی اثاثے ورغلا لئے ہیں۔ قانون کی عمل داری بحال ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ میزان عدل میں برپا ہونے والا توازن کا بحران واضح کیا جائے۔

دیکھیے، اس قول زریں کی تصدیق ممکن نہیں کہ دولت کی فراوانی کی ہر داستاں کے پس پشت ایک جرم واقع ہوتا ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ جہاں بادشاہ قتل ہوتا ہے، وہاں ایک سازش ضرور کارفرما ہوتی ہے۔ سازشی ٹولے کے بوجھل ہیولے بھاری پردوں کی اوٹ میں لرزتے ہیں، قتل ہونے والوں کی روحیں پس ماندگان کے سینوں میں دھواں دیتی ہیں۔ حادثہ یک بیک نہیں ہوتا اور اس کا اندمال خراج لئے بغیر نہیں ٹلتا۔ اس اجمال کی کچھ تفصیل بیان کرنا ہے لیکن اس سے پہلے منیر نیازی کی بات سن لیں۔ منیر ایک ملامتی کردار تھا جو اپنی وارفتگی کی اوٹ میں شہر والوں کے سربستہ راز افشا کرتا تھا:

شہر کو تو دیکھنے کو اک تماشہ چاہئے

ہے یہ ان کی زندگی کے روگ کا کوئی علاج

ابتدا ہی سے ہے شاید شہر والوں کا مزاج

اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج

مارنے کے بعد اس کو دیر تک روتے ہیں وہ

اپنے کردہ جرم سے، ایسے رہا ہوتے ہیں وہ

صدر مملکت عارف علوی نے بارہ ستمبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے جہاں وہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ریاست کا احوال بیان کریں گے۔ پارلیمانی نظام میں صدر محترم آئین کے مطابق مملکت کے سربراہ ہیں اور حکومت کے سربراہ وزیر اعظم ہیں۔ گویا ریاست حکومت سے ہم کلام ہو گی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کی روایت 1985 کی آٹھویں ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاالحق نے قائم کی تھی۔ ضیاالحق انتقال اقتدار کی بجائے اشتراک اقتدار میں یقین رکھتے تھے۔ اس اشتراک میں ایک فریق تو عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومت تھی، فریق ثانی کون تھا، یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ البتہ معلوم ہے کہ ضیاالحق اگست 1998 میں انتقال کر گئے، اقتدار کا انتقال کبھی نہیں ہو سکا۔

اشتراک اور انتقال میں یہ کشمکش ہماری تاریخ کے گزشتہ تیس برس پر محیط ہے۔ پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا خطاب اپنی جگہ ایک تاریخ رقم کر چکا۔ کبھی غلام اسحاق خان کے خطاب میں بینظیر بھٹو نے گو بابا گو کے نعرے لگائے تو کبھی نواز شریف کے ساتھیوں نے ڈیسک پیٹ پیٹ کر اپنی ہتھیلیاں لال کر لیں۔ پرویز مشرف نے مفتوحہ پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد محصور حزب اختلاف کی طرف دو مکے لہرائے تھے۔ جمہوریت میں مکے لہرانا سیاسی عزم کا نشان ہوتا ہے۔ لیاقت علی خان نے بھارت سے مخاطب ہو کر مکہ دکھایا تھا۔ پھر چشم فلک نے یہ تماشا دیکھا کہ اپنی ہی قوم میں حرف انکار کی جسارت کرنے والوں کو مکے دکھائے گئے۔ سیاسی مکہ غنیم کو دکھایا گیا۔ آمریت اپنے ہی عوام سے زورآزمائی کا استعارہ ہے۔

نیا پارلیمانی سال شروع ہو رہا ہے۔ اک نجومی نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔ اہل نجوم کی روایت پر بھروسہ کرنے کی بجائے اس دنیا کی طرف دیکھنا چاہیے جو ستاروں پر کمند ڈال رہی ہے۔ شہرت بخاری نے کہا:

لوگوں نے کیا چاند کے صحراو ¿ں کو آباد

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

شہرت کے ہم عصر احمد فراز کشمیر کے محاذ پر داد شجاعت دے چکے تھے۔ احمد فراز کا طرز کلام مختلف تھا:

بستیاں چاند ستاروں پر بسانے والو

کرہ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

کشمیر کی جنت ارضی پر چراغوں کو بے نور ہوئے 35 روز گزر گئے۔ ضمیر عالم خاموش ہے۔ عمران خان کو شکوہ ہے کہ ضمیر عالم کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش کیوں ہے۔ قراقرم کے فلک بوس پہاڑوں سے آواز سنائی دیتی ہے کہ تین ماہ قبل ضمیر عالم نے سنکیانگ کے مسلمانوں پر ظلم کی دہائی دی تھی تو اس ظلم کے حق میں ہمارے سمیت 18 مسلمان ممالک نے گواہی دی تھی۔ ضمیر عالم سربزانو ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کا اسلام سنکیانگ کے مسلمانوں سے مختلف کیوں ہے۔ حرمیں شریفین کے دفاع میں مورچہ بند مجاہدوں کو یمن کے ہسپتالوں میں بلکتے مسلمان بچے کیوں نظر نہیں آتے۔ بغداد کی آگ کا دھواں شام کے بازار سے گزرا تو بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو جرمنی اور کینیڈا نے گلے لگایا، قبلہ رو ہو کر سجدہ ریز ہونے والوں کے لئے حرمین کے محافظوں نے اپنی آغوش وا کیوں نہیں کی؟

خداوندان ارضی کہیں انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہیں تو کہیں انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہیں۔ جس طرح نوع انسانی کو ٹکڑوں میں نہیں بانٹا جا سکتا، اسی  طرح انسانی حقوق بھی ناقابل تقسیم ہیں۔ میکسیکو کی سرحد پر پناہ گزین کیمپوں میں بچوں کو ماؤں سے جدا کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں دہشت گردی کا حوالہ دے کر مذاکرات منسوخ کر دیے۔ اس پر پاکستانی وزارت خارجہ کا ترجمان یاد دلاتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ قطر میں ایک سال سے جاری امن مذاکرات کے دوران طالبان نے افغانستان میں درجنوں حملے کئے، ضمیر عالم پر لازم تھا کہ طالبان کو بھی امن مذاکرات کے تقاضے سمجھائے جاتے۔

ضمیر عالم تو ایک تجریدی خیال ہے۔ ہمارے گھر کے معاملات کہیں زیادہ ٹھوس تجسیم رکھتے ہیں۔ خاتون پولیس اہل کار کو تھپڑ مارنے والا وکیل کہتا ہے کہ ایک عورت کو مجھے ہتھکڑی لگانے کی جرات کیسے ہوئی؟ خاتون کانسٹیبل کی جسارت واقعی قابل گرفت ہے لیکن اس محترم خاتون کی غلطی سے زیادہ بڑی نہیں جس نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایسے وکیل بیٹے کو جنم دیا جو عورت کو مرد سے کمتر سمجھتا ہے۔ ہمارا نظام عدل مشکل میں ہے کہ منصف کا ہاتھ نم آلود ہے اور وکیل ہتھ چھٹ۔

ایک منتخب وفاقی وزیر 2008 کے انتخابات میں مداخلت کی منصوبہ بندی جاننے کا اعتراف کرتا ہے۔ جس نے دس برس پہلے ووٹ کی تقدیس پامال ہونے پر احتجاج نہیں کیا، وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے خطاب سے کیا استفادہ کرے گا۔ باقی یہ کہ معیشت کے میزانیے میں خسارے کی لکیر پھیلتی جا رہی ہے اور ریاست کے بندوبست کا استحکام کیا پوچھتے ہو، کہ جیسے رسی سے ٹوٹا کواڑ باندھ دیا۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...