مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کو روندا جارہا ہے: شاہ محمود قریشی

  • منگل 10 / ستمبر / 2019
  • 610

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آیا ہوں۔ ان کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو بھارت روند رہا ہے۔ اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے بھارتی جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو ایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے گزشتہ 6 ہفتے سے عملاً قید کردیا گیا ہے۔

اس عرصے میں ظلم وبربریت کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کی تعداد بڑھ کر دس لاکھ تک پہنچا دی گئی ہے۔  وزیر خارجہ نے  کہا کہ ان حالات وواقعات نے ایک ملک کا اصل کردار بے نقاب کر دیا ہے جو خود کو جمہوریت، وفاقیت اور سکیولرازم کا گڑھ بتاتا  ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 6 ہفتوں سے بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کردیا ہے جہاں بنیادی اشیائے ضروریات اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں، دکانوں پرسامان فراہم نہ ہونے سے اشیا کی قلت ہوچکی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں کسی گزرے زمانے یا قرون اولیٰ کی بات نہیں کررہا بلکہ یہ ظلم و ستم آج کے دن ہورہا ہے۔ مجھے انسانی حقوق کونسل کو یہ یاد کروانے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب کچھ متعدد عالمی انسانی حقوق سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے جس پر بھارت نے بھی دستخط کررکھے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس ظلم و تباہی کی جڑ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے مسلسل انکار ہے۔ گزشتہ 7 دہائیوں سے چلا آنے والا یہ تنازعہ انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے مزید سنگین تر ہوگیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت بدترین صورتحال سے نبردآزما ہیں۔ کچھ نے کہا ہے کہ ’کشمیر قبرستان کی طرح خاموش ہے‘ اور کچھ کے مطابق یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔ مجھے وہاں نسل کشی کے بہیمانہ اورانسانیت سوز واقعات بیان کرتے ہوئے جھرجھری آرہی ہے لیکن اس کے باوجود میں مجبور ہوں کہ یہ حقائق لازماً آپ کی خدمت میں پیش کروں۔

loading...