بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

  • منگل 10 / ستمبر / 2019
  • 350

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تناؤ میں گزشتہ 2 ہفتے میں کمی آئی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر تنازع چل رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں 2 ہفتے پہلے دونوں ممالک میں جتنا تناؤ تھا اس میں کمی آئی ہے اور میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکا کے دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اگر دونوں ممالک چاہیں تو میں ثالثی کے لیے تیار ہوں‘۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش قبول کرلی تھی تاہم بھارت نے امریکی صدر کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں اگست کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مداخلت کے لیے تیار ہیں تاہم اس کا فیصلہ دونوں ممالک کے سربراہان نے کرنا ہے۔  بھارت نے دوسری مرتبہ بھی امریکی صدرکی ثالثی کی پیشکش مسترد کردی تھی۔

بعدازاں 26 اگست کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جی-7 کانفرنس کے موقع پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ایک علیحدہ ملاقات سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت باہمی طور پر مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتے ہیں لیکن ہم ان دونوں ممالک کی مدد کے لیے موجود ہیں۔

بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں۔  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

loading...