پولیس پر بلا جواز تنقید مسائل کا حل نہیں

بحیثیت قوم ہم حقیقت پسند،سنجیدہ،معاملہ فہم اورسچے ہونے کی بجائے کانوں کے کچے ہیں۔ ہمارے ہاں سچائی تک رسائی کارواج نہیں۔ہرکوئی عجلت میں ہے۔ہم نے پنجابی محاورہ'' کالیاں اگے ٹوئے''فراموش کردیا۔ ہرطرف بہتان، جھوٹ،دوہرے معیاراورمنافقت کاراج ہے۔

ہم فطری طورپر جذبات کی رومیں فیصلہ کرنے اور فوری دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے عادی ہیں۔ معاشرے میں منافرت، عدم برداشت،تشدد، حسد،تعصب، نفرت،صوبائیت،الزام اور انتقام عام ہے۔جو کسی بدی یابرائی سے روکے اور ہماری بہتری کیلئے کوئی نصیحت کرے وہ ہمیں زہر لگتا ہے۔محاورہ ''کتا کان لے گیا'' پاکستانیوں پر صادق آتا ہے۔اِدھراُدھر سے سنی سنائی باتوں کی تحقیق یاتصدیق کئے بغیر ہم پروپیگنڈا کرنے جبکہ دیرینہ تعلقات بگاڑنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایک دوسرے سے بدزبانی اوربدگمانی ہماراٹریڈمارک ہے۔

ہم تصویرکے دونوں رخ دیکھے اور پوراسچ منظرعام پرآنے کاانتظار کئے بغیرہرطرح کے جھوٹ پرفور ی ایمان لے آتے ہیں۔ ہم اپناکام درست انداز سے کریں نہ کریں لیکن دوسروں کے کام میں مداخلت کرنااورانہیں مفت مشورہ دینا ہماری اجتماعی عادت ہے۔ہم ٹی وی پربلے بازکوکھیلتادیکھ کراسے مشورے دے رہے ہوتے ہیں۔کبڈی دیکھتے ہوئے دائرے سے باہر بیٹھا جوان جوخودزندگی بھرمیدان میں نہیں اتراہوتا وہ بھی ''جاپھی''کوداؤ ضروربتاتاہے۔ ہمارے آرام اورسکون کیلئے پولیس آفیسراوراہلکار انتھک کام کرتے ہیں۔جوزیادہ اورمسلسل کام کرے گا یقیناکام کے بوجھ کے سبب اس سے غلطیاں بھی زیادہ سرزدہوں گی۔برطانیہ اورامریکا سمیت کسی ملک کی سکیورٹی فورسزغلطیوں سے پاک نہیں۔ ہماری پولیس کے مسائل اوروسائل میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔  میر ی رائے میں ہماری پولیس کودستیاب وسائل اوردرپیش مسائل کے تناظر میں اس ادارے کی مجموعی کارکردگی قابل قدر  ہے۔

پولیس آفیسراوراہلکار ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں،معاشرہ انہیں نفرت دے گاتویقینامعاشرے کو نفرت ملے گی اوراگرعزت دے گاتوبدلے میں عزت ملے گی۔ میں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرکہتا ہوں ہمارے معاشرے نے پولیس کونفرت کے سواکچھ نہیں دیا۔جس کسی نے ہماری پولیس کا برطانیہ یافرانس کی پولیس سے موازنہ کرناہواسے ہمارے اور ان کے معاشروں کے درمیان بھی تقابل کرناہوگا۔ پولیس قوانین سابق درویش صفت آئی جی پنجاب حاجی حبیب الرحمن یا ان کے پیشرو کسی آئی جی نے نہیں بنائے۔سروِنگ آئی جی کیپٹن (ر)عارف نوازخان یالاہور کے سمارٹ ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمدخان چاہیں بھی تو پولیس کے کسی قانون میں ترمیم نہیں کرسکتے۔

نیاقانون بنانایاکسی پرانے قانون کی نوک پلک سنوارنا پارلیمنٹرینز کاکام ہے لہٰذا  فرسودہ پولیس قوانین تبدیل نہ کرنے کاجواب ارباب اقتدارسے لیا جائے۔ پولیس والے تو کسی ربورٹ کی مانند ہیں،جس کاریموٹ ہرحکمران کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔پولیس کلچر میں اصلاحات کی ضرورت اوراہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاتاہم اس کیلئے سیاسی اشرافیہ سمیت معاشرے کے ہرفردکوبھی انفرادی اوراجتماعی سطح پراپنی اپنی اصلاح کرناہوگی۔  ہم نفرت،تعصب یاتشدد سے دوسروں اورخودکوتبدیل نہیں کرسکتے۔  پولیس پرتنقید کرتے ہوئے  اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔

 ایک قانون دان محض رانگ پارکنگسے روکنے پردوران ڈیوٹی باوردی خاتون اہلکار کوطمانچہ مارتا ہے۔ پھر  کچہریوں میں پولیس اہلکاروں کوداخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔ خاتون اہلکارفائزہ کوتھپڑمارنے کاواقعہ بیسیوں شہریوں نے دیکھا مگر ایف آئی آرمیں ملزم کی غلطی پرعدالت  نے ضمانت پر چھوڑ دیا۔متاثرہ خاتون اہلکارکو سنا نہیں گیا۔  قوم کی اس بیٹی نے شکوہ کیا ہے لیکن اس بیٹی پرتشدد کے خلاف کوئی  سوشل میڈیا مہم نہیں چلائی گئی  کیونکہ یہ پولیس اہلکار ہے۔فائزہ نے انصاف نہ ملنے اور دباؤ کے سبب ملازمت چھوڑنے کااعلان کیاجوشایدبعد میں واپس لے لیا۔  میں سمجھتاہوں اگر پنجاب پولیس کاادارہ اپنی اس فرض شناس اہلکار کی پشت پرکھڑانہ ہواتواس سے خواتین اہلکاروں کامورال گرجائے گا۔فائزہ انصاف کیلئے ماتحت عدالت گئیں مگرانہیں فیصلہ تھمادیاگیا۔تاہم فائزہ کااپنے ملزم کوہتھکڑی لگاکرعدالت میں پیش کرنا بلاشبہ ایک منفرداور دبنگ اقدام تھا، کسی باضمیرملزم کیلئے یہی سزا کافی ہے۔

میں سمجھتاہوں ایک باوردی اہلکار کونہیں ریاست کوطمانچہ ماراگیاہے۔ اس پر سخت ایکشن لیاجائے۔مختلف عدالتوں اوراحتجاجی مظاہروں میں پولیس اہلکاروں پرتشدد اوران کی وردی پھاڑنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر ان محافظوں کے حق میں کوئی سوشل میڈیاپرآوازنہیں اٹھاتا۔  جوسکیورٹی اہلکار شہریوں کی طرف آنیوالی گولیاں اپنے سینوں کی ڈھال سے روکتے ہیں الٹاان شہریوں سے انہیں گالیاں سننے کوملتی ہیں۔ ایک سانحہ پر پنجاب پولیس کوکٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے لیکن یہ نہیں سوچا جاتا کہ  لاہور  میں 311اورپنجاب بھر میں 1500 پولیس اہلکار ڈیوٹی کرتے ہوئے  شہید ہوچکے ہیں۔  اگرصلاح الدین کودانستہ قتل کیا گیا ہے تودنیا کی کوئی طاقت قاتل کونہیں بچاسکتی لیکن مقتول زندگی میں جو رقوم چوری کرتارہاان کی برآمدگی اورمتاثرین کوواپسی بھی  ضروری ہے۔اگر صلاح الدین پرتشددکیا گیا ہے توان اہلکاروں کے گناہ کی پاداش میں پنجاب پولیس کامیڈیاٹرائل جائزنہیں۔ اگر پولیس کاڈر ختم کردیا گیا تومعاشرہ جنگل بن جائے گا۔ہمیں اپنی پولیس کی خامیوں اور  خوبیوں ساتھ ساتھ پرکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ  شہریوں کو اپنی سماجی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔

loading...