مقبوضہ کشمیر میں محرم جلوس کی اجازت سے انکار، محاصرہ سخت کردیا گیا

  • سوموار 09 / ستمبر / 2019
  • 320

ایک ماہ سے لاک ڈاؤن کا شکار مقبوضہ کشمیر میں پابندی کو توڑتے ہوئے اہلِ تشیع مسلمانوں نے محرم الحرام کا جلوس نکالنے کی کوشش کی۔ تاہم حکام نے اسے منتشر کرکے سیکیورٹی مزید سخت کردی ہے۔

5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کشمیر میں فوجی محاصرہ نافذ کردیا گیا تھا جو اب تک جاری ہے۔ اتوار کے روز چند ایک مقامات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ نیٹ ورک کے سگلنز پائے گئے تاہم پوری وادی میں اب تک ہر قسم کی مواصلات بند ہے۔

پولیس نے صبح سویرے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانات کرنا شروع کردیے تھے کہ شہری گھروں سے نہ نکلیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔

مقبوضہ کشمیر میں 1989 میں نئی دہلی حکومت کے خلاف اٹھنے والی مسلح تحریک کے بعد سے محرم کے  زیادہ تر جلوسوں پر پابندی عائد رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ مذہبی جلوسوں کو بھارت مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

وادی میں موجود نامہ نگاروں نے اتوار کے روز 2 احتجاج  دیکھے لیکن شیعہ مظاہرین کو پولیس فوری طور پر گرفتار کرکے لے گئی۔ اس کے علاوہ عزاداروں کو چھڑیوں سے مارا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے 6 مزید مقامات پر اسی طرح کے مظاہرے ہوتے ہوئے دیکھے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز 4 مقامی صحافی ایک احتجاجی مظاہرے کی کوریج کرتے ہوئے  زخمی ہوگئے تھے۔ اس مظاہرہ میں 5 ہزار افراد شریک ہوئے۔ یہ احتجاج کشمیر میں لاک ڈاؤن کے بعد ہونے والا اسب سے بڑا اجتماع تھا۔

ایک صحافی نے بتایا کہ اس کے کیمرے کا لینس ٹوٹ گیا جبکہ ایک صحافی پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس کے نشانات اس کے جسم پر واضح تھے۔ حکام نے حالیہ دنوں میں سری نگر کے کچھ مقامات پر کچھ پابندیوں میں نرمی کی تھی لیکن جمعے کے روز سے ان میں دوبارہ سختی کردی گئی۔

اس بارے میں ایک صحافی کا کہنا تھا کہ اتوار کا محاصرہ 5 اگست کے بعد سے اب تک کا سب سے سخت محاصرہ تھا کیوں کہ جہاں پہلے رکاوٹوں پر 3 اہلکار تک تعینات ہوتے تھے اب وہاں 10 اہلکار موجود تھے۔

خیال ہے کہ بھارتی حکومت ان پابندیوں میں عاشورہ کے روز یعنی منگل کو مزید سختی کردے گی۔

loading...