ایک غریب شاعر کا خط

ہم لوگ جو تاریخ کی کتابوں میں رہتے ہیں ، پُرانی اصطلاحوں ، پیش پا اُفتادہ پیشین گوئیوں اور بے تعبیر خوابوں کے قیدی ہیں  ۔ ہم اس اساطیری جیل سے باہر نکل کر ارضی حقیقتوں کے آنگن میں اُترنے کا راستہ نہیں جانتے  چنانچہ ہم اپنے فکری مُغالطوں کے پتھروں سے ٹھوکریں کھا کر  تاریخ کی شاہراہ پر جا بجا اوندھے پڑے ہیں۔

 اور اپنی حالت کا درست ادراک کرنے کے بجائے ماضی کی حکمران قوتوں کو کوسنے دیتے ہیں اور اُنہیں اپنی صعوبتوں اور گمراہیوں کا ذمہ دار قرار دے کر  اپنی غیر ذمہ داری کے کفر  سے بچنا چاہتے ہیں ۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں نے تغیر و تبدل کے جو سبز باغ ہمیں دکھائے تھے ، وہ حقیقت میں اُجڑے ہوئے  باغ ہیں جن کی ویرانیوں میں نحوست کی گلہریاں کِکلی کھیلتی ہیں:

کِکلی کلیر دی

پگ میر وزیر دی

دوپٹہ اے لُگائی دا

فِٹے مونہہ تباہی دا

ہمارے کرکٹ مآب وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے سو دنوں میں نوکریوں اور مکانوں کے جو وعدے کیے تھے ، وہ وعدے اب دن رات  اُن کے تعاقب میں ہیں ۔ تِس پر مہنگائی کا سونامی مرے پر نوسو دُروں کے مترادف ہے ۔ چلیے اس ضمن میں ہم نئی حکومت کو تھوڑا سا وقت دے دیتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ حالات بتدریج بہتر ہو جائیں گے لیکن مختلف محکموں کی کارکردگی اور پولیس کے وردی پوش پشوؤں کا بد اخلاقی اور بد تمیزی پر مبنی رویہ عام آدمی کے لیے  جس طرح سوہانِ روح بنا ہوا ہے اس کو بدلنے پر تو رقم خرچ نہیں ہوتی ۔ اور اس سارے طوفانِ بد تمیزی کا جواب یہ نہیں کہ معیشت کو پچھلی حکومتوں نے خراب کیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے سال بھر میں کیا سنوارا ہے ۔ اور کون سے ایسے مثبت اقدامات ہیں جنہیں مثبت تبدیلی کے حق میں بطور مثال اور دلیل پیش کیا جا سکتا ہے ۔ کیا صرف نیب کی کارگزاری ہی وہ واحد کارنامہ ہے جو سر انجام پا رہا ہے اور پورے ملک کی تقدیر اسی سے وابستہ ہو کر رہ گئی ہے ۔

 اگر نیب نے کوئی بہت بڑا معرکہ مارا ہے اور بہت بڑی رقم کرپشن کاروں اور منی لانڈرنگ کے دیوتاؤں سے نکلوائی تو وہ کہاں ہے ، اُس کو کس مصرف میں لایا گیا ہے کیونکہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ قومی معیشت کے سیاہ و سفید سے آگاہ ہوں۔  لیکن یہ سب کچھ ستر پردوں کے پیچھے ہورہا ہے اور بے چارے عوام شیخ رشید ، فردوس عاشق اعوان ، فواد چودھری اور  فیاض چوہان کی لوریاں ، راگنیاں اور ملاحیاں سُن رہے ہیں ۔ چلئے مان لیا کہ ملکی معیشت کے یوسف کو کسی کنوئیں سے نکالنا ہے جو ایک بڑا مشکل کام ہے لیکن کیا ملکی اداروں اور محکموں کے اہل کاروں اور کار پردازوں کو اخلاقی تربیت دینے اور اُنہیں عوام سے نیکی کا برتاؤ کرنے کی ہدایت دینے میں بھی ڈالر ہی رکاوٹ ہیں؟

پرانی مذہبی دانش کے مطابق لوگ اپنی زبان کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور جب وہ بولتے ہیں تو پہچان لیے جاتے ہیں ۔ جی ہاں پاکستان پولیس جب بولتی ہے تو پہچان لی جاتی ہے کہ کسی بدتمیز ادارے کی غیر مہذب مخلوق ہے جنہیں وردی پہنا کر ہاتھ میں تشدد اور بربریت کی لاٹھی تھما دی گئی ہے ۔ ماں بہن کی گالیاں اور بیہودہ گوئی کون سے مذہب میں روا ہے ؟ اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ میرِ کارواں خود ننگا ہے اور اُس نے جو رختِ قیادت زیبِ تن کر رکھا ہے وہ کسی قائد کے شایانِ شان نہیں ہے ۔ اقبال نے کہا تھا:

نگاہ بلند ، سُخن دلنواز ، جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

جہاں تک نگاہ کی بلندی کا تعلق ہے میرِ کارواں مدینے کی ریاست کی رفعتوں کو تو دیکھتا  ہو گا مگر دلنواز سُخن اُس کے بس کی بات نہیں ۔ وہ ابھی تک کرکٹ کی دنیا میں رہتا ہے اور عالمی کپ جیتنے کے استعاروں میں بات کرتا ہے ۔ دوسری منفی عادت " میں میں" کی ہے کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا مگر یہ " میں " کون ہے ؟ "میں" ایک فردِ واحد کی انا کا  ایک انفرادی اظہار ہے جب کہ کسی کا مواخذہ کرنا ملکی قانون کا کام ہے جس کا محافظ میرِ کارواں ہے ۔ اورقانون کے محاٖفط کی اپنی ذاتی میں نہیں ہوتی اور  اگر اُس کو میں کا عارضہ لاحق ہا جائے تو مدینے کی ریاست کے بیانیے کی تردید ہو جاتی ہے کیونکہ مدینے کی ریاست میں حکمرانی کی روح عجز و انکسار ہے ۔ ہم سب اللہ کے عاجز اور مجبور بندے ہیں اور رب کا عاجز و مجبور بندہ واحد متکلم کی زبان نہیں بولتا ۔

مجھے تاریخ سے ایک اقتباس یاد آرہا ہے ۔ دہلی کے تخت پر غیاث الدین بلبن متمکن ہے ۔ بڑی جاہ و حشمت والا بادشاہ ۔ یہی زمانہ صوفی بزرگ بابا فرید الدین شکر گنج کا ہے جن سے بلبن عقیدت رکھتا ہے ۔ کوئی شخص بابا فرید کے پاس حاضر ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اُسے بادشاہ سے کسی معاملے میں نظرِ کرم کی ضرورت ہے ۔ وہ آپ سے عقیدت رکھتا ہے ۔ مجھے اُس کے نام خط لکھ دیجیے تاکہ میری مشکل آسان ہو ۔ بابا فرید کاغذ اور قلم لے کر بلبن کو لکھتے ہیں :

" اللہ کے ایک عاجز اور مجبور بندے فرید الدین مسعود کی جانب سے اللہ کے ایک عاجز اور مجبور بندے غیاث الدین بلبن کے نام ۔ میں حاملِ مکتوب ہذا کو آپ کے پاس بھجوا رہا ہوں ۔ اگر اس کی مدد کروگے تو خُدا سے صلہ پاؤ گے ، نہیں کرو گے تو بھی اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہو گے ۔ فرید الدین مسعود عفی عنہ "۔

میں جو نہ تینوں میں نہ تیروں میں ، نہ دانشوروں میں نہ صاحبانِ اختیار میں سے ہوں ، اللہ کے ایک عاجز اور مجبور بندے عمران خان سے درخواست کر رہا ہوں کہ  اس غریب قوم کو غربت اور مجبور ی کے گڑھے سے نکالو ، ظلم سہنے والوں کی دست گیری کرو اور اپنے سرکاری اہل کاروں اور مراعات یافتہ لوگوں کو لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دو اور پولیس کے اُن درندوں سے براہِ راست مخاطب ہو کر  اُنہیں مخلوقِ خدا سے رحم دلی سے پیش آنے کی تلقین کرو ورنہ مدینے کی ریاست کا نام لینا چھوڑ دو ، اسی میں ہم سب کی اور آپ کی بہتری ہے ۔ وما علینا الالبلاغ

loading...