تاریخ کی ایک سبق آموز کہانی

تاریخ میرا پسندیدہ مضمون رہا ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی مجھے تاریخ پڑھنے اور اس کے متعلق ڈوکیمنٹری دیکھنے کا شوق رہا ہے۔کالج کے دنوں میں ہم نے اسلامک ہسٹری گریجویشن میں لے رکھا تھا۔ جس میں ورلڈ ہسٹری، جنرل ہسٹری کے علاوہ اسلامی ہسٹری بھی شامل تھا۔

 اسی دلچسپی اور شوق نے مجھے بی اے آنرز کے اسلامک ہسٹری میں اعلیٰ نمبر  دلوائے۔ اسی بنا پر حکومتِ ہند کی دعوت پر مجھے الا زہر یونیورسٹی میں مزیداعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انٹرویو میں بلایا گیا۔جس میں ہم کامیاب نہ ہوسکے۔لیکن تاریخ جاننے اور اس کے شوق سے ہم لاپرواہ نہ ہوئے۔ دنیا بھر میں آج بھی تاریخ لکھنے اور جاننے کے لئے لاتعداد کتابیں دستیاب ہیں۔ جو دنیا بھر کی لائبریریوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ انٹر نیٹ کے ذریعہ بھی تاریخ کی جانکاری کے ہزاروں مضمون اور کتابیں پائی جاتی ہیں۔ تاریخ کی ان ہی کتابوں کے ذریعہ کئی اہم فلمیں بنائی گئی جسے آج بھی نسل در نسل دیکھا جاتا  ہے۔

برطانیہ میں ہر سال پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے حوالے سے کئی فلمیں بنائی گئی ہیں جسے ٹیلی ویژن اور سنیما  میں دکھایا گیا ہے۔ جس سے ان لوگوں کی جانکاری میں اضافہ ہوتا ہے جنہیں کتاب پڑھنے سے دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان فلموں کو اتنی خوبصورتی سے فلمایا جاتا ہے کہ کچھ پل کے لئے انسان جذبات اور سوچ میں غرق ہوجاتا ہے۔ تاہم کبھی کبھی ایسی فلموں کو دیکھ کر ایسا معلوم پڑتا ہے کہ اس سے ملک اور قومیت کا پروپگنڈا کیا جا رہا ہے۔

مجھے تاریخی فلمیں دیکھنے کا ہمیشہ شوق رہا ہے۔ خاص کر ’گاندھی‘ فلم مجھے آج بھی بہت پسند ہے۔ اس فلم کے بنانے والے معروف انگریزی فلم کے اداکار اور فلم ساز(Richard Attenborough) رچرڈ اٹنبراسے کون واقف نہیں ہے۔ گاندھی فلم ایک تاریخی اور بہترین فلم بنائی گئی تھی۔ اس کے اداکار، سیٹ اور کہانی کو جس طرح سے پیش کیا گیا تھا اسے دیکھ کر ہم ہندوستان کی آزادی کے زمانے میں کھو جاتے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے کردار کو بحسن و خوبی نبایا گیا تو وہیں دیگر اداکاروں نے بھی اپنی اداکاری سے لوگوں کا دل جیت لیا۔ تاہم ’گاندھی‘ فلم کی کہانی کو بہت سارے لوگوں نے غلط طور پر پیش کرنے کا بھی الزام لگا یا تھا۔

دراصل تاریخ کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرنے اور اس کی اصلیت کو بدلنے کا شک و شبہ ہوتا ہے۔ مثلاً تاریخ لکھنے والا کس ملک اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ اور ایسا ہوا بھی ہے جب کوئی تاریخ داں اپنی ذاتی فائدے اور عقیدے کی خاطر تاریخ کو توڑ موڑ کر لوگوں میں انتشار پھیلا دیتا ہے۔جس کی ایک عمدہ مثال ہندوستان کی’بابری مسجد‘ ہے۔ جو تاریخی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ بابر نے تعمیر کروائی تھی۔ لیکن بہت سے مورخین نے  مذہبی بنیاد اور عقیدے کی وجہ سے اسے رام کی جائے پیدائش بتا کر دو فرقوں میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

یوینورسٹی آف اوٹا امریکہ کے معروف مورخ پروفیسر بینجامین کوہین کی کتاب (Scandal in the Raj)اسکینڈل ان دی راج میں انہوں نے لکھا ہے کہ اپریل  1892میں ایک واقعہ ہندوستان کے دولت مند شہر حیدرآباد میں ہوا تھا۔ آٹھ صفحہ کا ایک پرچہ لوگوں میں بانٹا گیا۔ اس پرچے سے مہدی حسن اور ان ہندوستان میں جنمی برٹش بیوی الین ڈونیلی کی زندگی برباد ہو سکتی تھی۔

اس وقت ہندوستان پر برٹش راج تھا اور ایک ہندوستانی کو برٹش لڑکی سے عشق یا شادی کرنا ایک مشکل بات تھی۔اس کے علاوہ مذہب، ذات اور نسل کا بھی کافی بھید بھاؤ تھا جس سے بہت کم ایسی شادیاں ہوتی دِکھائی دیتی تھی۔ لیکن مہدی حسن اور الین کا درجہ کافی اعلیٰ تھا اور دونوں کو عام لوگوں سے مختلف سمجھا جاتا تھا۔ الین کا برٹش ہونا اور مہدی کا نظام سلطنت کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونا کافی معنی رکھتا تھا۔ ان دونوں کی اعلیٰ پہچان کی وجہ سے انہیں ملکہ وکٹوریہ سے ملنے کے لئے لندن بھی بلایا گیا تھا۔

مہدی حسن کی ترقی اور شہرت سے مقامی حیدرآبادی اور شمالی ہندوستان کے لوگوں میں ان کے خلاف جلن اور حسد پیدا ہؤا۔ مہدی حسن اپنی صلاحیت اور مقبولیت سے حیدرآباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور پھر بعد میں صوبہ کے ہوم سیکریٹری بھی مقرر کئے گئے۔مہدی حسن کی تقرری اور ترقی سے ان کے تنخواہ میں کافی اضافہ ہوا اور ان کا رہن سہن عام ہندوستانیوں سے کافی شاہانہ تھا۔ الین پردہ سے گریز کرنے لگی اور حیدرآباد کے سماجی اور ثقافتی مجلسوں میں شرکت کرنے لگیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ہندوستانیوں کو الین کی مقبولیت کھٹکنے لگی لیکن مہدی حسن اور الین اس کی پرواہ کئے بغیر اپنی زندگی کا لطف اٹھا رہے تھے۔

پرچہ کو لکھنے والے گمنام مصنف نے خاص کر الین کو نشانہ بنا یا تھا۔اس پرچے میں تین الزامات لکھے گئے تھے۔ پہلامہدی حسن کی الین سے شادی سے قبل اسے ایک طوائف بتایا گیا تھا۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ مہدی اور الین نے کبھی شادی ہی نہیں کی تھی۔ اور تیسرا الزام یہ تھا کہ مہدی نے اپنی ترقی اور اعلیٰ عہدے کے لئے الین کو حیدرآباد کے شاہی لوگوں کے ساتھ جنسی تعلقات کروائے۔

مہدی حسن اس پرچے سے اتنا دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے پرچہ چھاپنے والے ایس ایم مترا کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔  فریقین کے وکلاء برٹش تھے اور دونوں  نے اپنے گواہوں کو رشوت دے کر کیس کو جیتنے کی کوشش کی تھی۔ حیران کن  طور پر جج نے ایس ایم مترا کو رہا کر دیا اور کیس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکا۔ مہدی حسن کا کیس اتنا حساس اور اہم تھا کہ اس میں نظام حکومت، برٹش حکومت ہندوستان اور برٹش حکومت لندن ملوث تھیں کیونکہ نو ماہ چلنے والے اس کیس کی خبر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی۔

مہدی حسن انگریزوں کے کافی قریبی اور طرف دار مانے جاتے تھے۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کو ایک خطرناک پارٹی کہتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے انہیں برٹش حکومت نے برخاست کر دیا اور وہیں نظام حکومت نے بھی انہیں ترک کر دیا۔ آخر میں بطور ہوم سیکریٹری انہیں نظام حکومت سے بھی برخاست کر دیا گیا۔ اس کے بعد مہدی حسن کو کافی ذلیل و رسوا ہونا پرا اور انہیں پینشن اور معاوضہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

مہدی حسن 52سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ الین کے لئے کوئی  مالی  سرمایہ  نہ چھوڑ سکے۔ الین ڈھلتی عمر کے ساتھ کافی کمزور ہونے لگی اور ان کی حالت دن بدن خراب سے خراب تر رہنے لگی۔ الین اپنے آخری دنوں میں حیدرآباد نظام کے وزیر اعظم کو معاوضہ کے لئے خط لکھا۔ جس کے بعد الین کو کچھ مالی امداد حیدر آباد نظام سے ملی۔ لیکن طاعون کی بیماری نے الین کی جان لے لی۔

بینجامین کوہین کی اس تاریخی بات سے ہمیں مہدی حسن اور الین کے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئی۔ جس سے پتہ چلا کہ برٹش راج میں ایک ہندوستانی کو ایک انگریز خاتون سے شادی کرنے کے بعد کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اگر ہم آج بھی ہندوستان کے سماجی اور ثقافت کا جائزہ لیں تو ہمیں اب بھی بے طرح ایسی باتوں کا پتہ چلتا ہے جس سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ مہدی حسن اور الین کے رشتے کو اب بھی لوگ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ آئے دن اخباروں کے ذریعہ یا لوگوں کے ذریعہ اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سماج میں اب بھی مذہب، ذات، نسل، وغیرہ کی بنیاد پر نہ جانے کتنے مہدی حسن اور الین کا جینا دو بھر ہورہا ہے۔

تاریخ کے پنوّں کو الٹنے سے ایسے کئی واقعات کو پڑھنے کا موقعہ ملتا ہے جو ہمارے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہم اس دور سے اپنے دور کا موازنہ بھی کرتے ہیں۔ تبھی ہم کسی بات کو جاننے اور سمجھنے میں تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں۔ جس سے دنیا کی ہزاروں سال پرانی باتوں کو جاننے اور بتانے میں آسانیاں ہوتی ہیں۔

loading...