سابق لیگ اسپنر عبدالقادر انتقال کرگئے

  • ہفتہ 07 / ستمبر / 2019
  • 800

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر عبدالقادر 63  کی عمر میں انتقال کرگئے۔ گزشتہ روز انہیں دل کا شدید پرا تھا تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔

وزیراعظم اور پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے سابق عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے بارے میں کچھ باتیں شیئر کی ہیں۔

ٹوئٹس کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ عبدالقادر کے انتقال کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ میری دعائیں اور ہمدردی ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ عبدالقادر ذہین اور بہترین لیگ اسپنرز میں سے ایک تھے۔ وہ ڈریسنگ روم کی جان بھی تھے اور اپنی عقل و مزاح سے ٹیم کو محظوظ کرتے تھے۔

وزیراعظم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ عبدالقادر کے باؤلنگ کے اعداد و شمار ان کی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ اگر وہ آج اس جدید ڈی آر ایس سسٹم کے ساتھ کھیل رہے ہوتے، جہاں فرنٹ فُٹ پر بھی بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جاسکتا ہے تو عبدالقادر اتنی ہی وکٹیں حاصل کرتے جتنی عظیم شین وارن نے کیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز لیگ اسپنر عبدالقادر 6 ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 63 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کے بیٹے نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ عبدالقادر کو دل کا دورہ پڑا لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکے۔

عبدالقادر کے انتقال پر وزیراعظم کے علاوہ  پاکستان کرکٹ بورڈ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت ملکی اور غیرملکی سیاسی شخصیات نے بھی اظہار تعزیت کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ  نے سابق لیگ اسپنر کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پی سی بی عظیم عبدالقادر کے انتقال کی خبر پر غم زدہ ہے۔ بورڈ ان کے خاندان اور دوستوں سے گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے‘۔

لاہور میں 15 ستمبر 1955 کو پیدا ہونےو الے عبدالقادر نے 14 دسمبر 1977 کو انگلینڈ کے خلاف لاہور میں ہی ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا جبکہ ایک روزہ کرکٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم میں 11 جون 1983 کو ڈیبیو کیا تھا۔

عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ میچوں کی 111 اننگز میں 236 وکٹیں حاصل کی اور ایک اننگز میں 56 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کرنا ان کی ایک میچ میں بہترین کارکردگی تھی۔ انہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں 104 میچوں میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور اپنی 100 اننگز میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔

عظیم لیگ اسپنر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ لاہور میں دسمبر 1990 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا اسی طرح آخری ایک روزہ میچ 2 نومبر 1993 کو سری لنکا کے خلاف شارجہ میں کھیلا۔ عبدالقادر نے 2009 قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور ان کی منتخب ٹیم نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی چمپیئن بننے کا اعزازحاصل کیا تھا۔

عبدالقادر نے لیگ اسپن کے فن کو نئی جدت دی اور ان کی گیندوں پر ویون رچرڈز، گریگ چیپل، جیف بائیکاٹ اور سنیل گواسکر جیسے بیٹسمین مشکل میں دکھائی دیتے تھے۔ عبدالقادر چیف سلیکٹر بھی رہے اور لاہور میں کرکٹ اکیڈمی بھی چلاتے رہے۔ ان کے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان انڈر 19ٹیم کی نمائندگی کی، جبکہ ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل ان کے داماد ہیں۔

عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ اور 104 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کا شمار دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اسپنرز میں ہوتا تھا ۔عبدالقادر نے ٹیسٹ کرکٹ میں 236 اور ون ڈے میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔ شین وارن ، ہر بھجن سنگھ، لکشمن اور عمران طاہر اسپن گُرو کی المناک موت پر افسردہ تھے۔ عبدالقادر کو جب1982کے دورہ انگلینڈ میں عمران خان نے پاکستان ٹیم میں شامل کیا تو انگلش ماہرین اور کرکٹرز اس جادوگر کو دیکھ کر حیران رہ گئے انہیں مشرق کے جادوگر کا نام دیا گیا۔

وسیم اکرم کہتے ہیں کہ عبدالقادر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ شعیب اختر نے کہا کہ وہ نئی نسل میں اس فن کو زندہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ عبدالقادرکے بارے میں سرفراز احمد نے کہا کہ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے جانے سے ایک عہد اپنے اختتام پر پہنچا ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عابد علی اور عبدالقادر نے پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دی۔ عبدالقادر ورلڈ کلاس اسپنر کے ساتھ ساتھ سچے اور کھر ے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔

loading...