کشمیر :تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا یا کشمیریوں کی خود مختاری کا معاملہ؟

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے  آج یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کشمیریوں کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرنے کے علاوہ   یہ اعلان بھی کیا ہے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا  ’نامکمل ایجنڈا‘ ہے۔   اگرچہ  آرمی چیف پہلے بھی اس قسم کا  بیان دے چکے ہیں  لیکن یوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہنا بہت سی غلط فہمیاں  اور پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس وقت بھارت کے ساتھ  تصادم اور تنازعہ کی  صورت حال  موجود ہے اور مقبوضہ کشمیر  کی کثیر آبادی  کی نقل و حرکت اور دیگر بنیادی شہری سہولتیں  معطل  کرکے  بھارتی حکومت نے جبر کی  کیفیت پیدا کی  ہوئی ہے۔ ان حالات میں کشمیر کو پاکستان کا نامکمل ایجنڈا قرار دینے  سے  پاکستان  کی    قومی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کے  بارے میں  سوالات   پیدا ہوتے ہیں۔  بلکہ اس  مؤقف سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ  کشمیریوں سے پاکستان  کی محبت اور شیفتگی کی اصل وجہ در حقیقت اس کی یہ خواہش ہے کہ کشمیر کو کسی طرح  پاکستان کا حصہ بنا لیا جائے  تاکہ اسے بھارت پر جغرافیائی اور  اسٹریجک برتری حاصل ہوجائے۔    یہ بات محمد علی جناح سے منسوب اس اعلان   کی گونج ضرور ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے  لیکن اس دعویٰ سے کشمیری عوام کے بطور انسان اور مقبوضہ علاقے کے باشندوں کے طور پر حقوق کا معاملہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ قائداعظم   نے کس تناظر  میں کشمیر کو پاکستا ن کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن ہم اس وقت 1947 کی صورت حال  کی بجائے  2019 کے حالات میں زندہ ہیں۔ آج بہتر برس پہلے اختیار کئے گئے مؤقف کو من و عن بیان کرنے اور اس پر اصرار کرنے سے   لمحہ موجود میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی پوزیشن کو زک پہنچنے کا احتمال ہے۔  کشمیر کو پاکستان  کی تکمیل کا نامکمل ایجنڈا تو اسی صورت  قرار دیا جاسکتا تھا اگر قیام پاکستان کے معاہدہ  میں کشمیر کو پاکستان  کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا گیا ہوتا اور دعویٰ کیا جاتا کہ  بھارت  نے زور ذبردستی کرتے ہوئے ابھی تک اس معاہدہ کی پاسداری نہیں   کی۔  اس کے برعکس تاریخی حقیقت تو یہی  ہے کہ   بر صغیر کی تقسیم  کے معاہدہ میں  تمام ریاستوں  کے والیان، نوابوں یا راجاؤں کو یہ حق دیا گیا تھا  کہ وہ پاکستان  یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔   دیگر ریاستوں کی طرح   کشمیر کے راجہ کو بھی یہ حق حاصل تھا۔

کشمیر کے راجہ ہری  سنگھ نے  بھی  اسی استحقاق کے تحت   لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ذریعے بھارتی حکومت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا تھا اور بھارتی فوج کو پاکستان کی طرف سے ریاست پر یلغار کرنے والے قبائل کا مقابلہ کرنے کے لئے طلب کیا تھا۔   بلاشبہ یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ  ایک راجہ کو کس طرح ایک ایسی ریاست کے  مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق دیا جاسکتا ہے جس کی آبادی مسلمان اکثریت پر مبنی تھی۔  لیکن یہ سوال   اس وقت کی مسلم لیگی قیادت کو تقسیم  پر رضامند ہونے سے پہلے اٹھانا چاہئے تھا اور یہ واضح کرنا چاہئے تھا کہ   ریاستوں کے والی  یا نواب و راجہ  ریاست  کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت اپنی آبادی کے عقیدہ اور سیاسی مفادات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ کسی دستاویز سے یہ شہادت نہیں ملتی کہ ایسا  کوئی مطالبہ  سامنے لایا گیا تھا۔ انگریز نے جب  ہندوستان تقسیم کرکے برصغیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو مسلم لیگی قیادت نے  ’جو ملتا ہے غنیمت ہے ‘ کی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ کسی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ قائد اعظم یا مسلم لیگ کی قیادت نے  تقسیم کو  نا مکمل پاکستان قرار دیتے ہوئے  برطانوی راج کے آخری گورنر جنرل کو یہ مطالبہ پہنچایا ہو کہ وہ  ہندوستان کی تقسیم اور حدود کے تعین سے متفق نہیں  ہیں اور ان میں ترمیم و تبدیلی کے لئے جد و جہد جاری رکھی جائے گی۔

تحریک آزادی کے دوران   پیش آنے والی مشکلات اور ہندوستان  کی تقسیم  کے فیصلہ تک پہنچنے کے دوران   مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی کوشش کرنے والی قیادت کو  جن حالات و واقعات کا سامنا تھا ، ان پر بعد از  وقت  بات ضرور کی جاسکتی ہے لیکن   شاید کبھی بھی ان  سیاسی  دشواریوں کا صحیح اندازہ نہ لگایا جاسکے جو محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں کو پاکستان  کے حصول  میں  درپیش آئی  تھیں۔ ایسے میں متعدد چھوٹی بڑی غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی جن میں سے   ایک کشمیر کے معاملہ پر ابھرنے والا تنازعہ بھی ہے۔ انگریزوں کی طرف سے   کشمیر چونکہ پاکستان کے حوالے کرنے کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں  ہے ، اس لئے اسے تقسیم ہند یا تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا قرار دینا تاریخی واقعات  کی ترتیب میں  بھی درست مؤقف نہیں ہوسکتا۔

بدقسمتی سے 1947 سے 2019 تک کے سفر میں ایک پڑاؤ 1971 کا بھی آتا ہے جس میں پاکستان کی اکثریت نے اقلیتی حصے کی سیاسی بالادستی اور معاشی ناانصافی کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے  علیحدگی اختیار کرنے کا المناک فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت کے فوجی حکمران نے اپنی  عاقبت نااندیشی کی بنا پر نہ صرف مشرقی حصے کی سیاسی قیادت کے جائز سیاسی مطالبات پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اپنے ہی منعقد کروائے ہوئے 1970 کے انتخابی  نتائج  کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انتقال اقتدار نہیں کیا گیا کیوں کہ اس میں  جنرل (ر) یحیٰ خان  کو مستقبل کا صدر بننے کا موقع نہیں دیا جارہا تھا۔ اس وقت کی غلطیوں نے  نہ صرف ملک کو دو لخت کیا بلکہ  خود پاک فوج نے مشرقی حصہ  میں ’بغاوت‘ کو کچلنے کے لئے ظلم و ستم کی ایسی تاریخ رقم کی   جس کی وجہ سے  ان دونوں ملکوں  کے درمیان مستقل طور سے بد اعتمادی اور دوری کا رشتہ استوار ہوچکا ہے۔

اپنے مکمل ملک کی دو خود مختار اکائیوں میں تقسیم  کا بوجھ اٹھائے ہوئے  یہ قوم  اب یہ  دعویٰ کرتے عجیب لگے گی  کہ کشمیر  کو پاکستان میں شامل  کئے بغیر تصور پاکستان یا برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے قومی  ’عزت نفس‘ کے نقطہ نظر سے بھی اہم ہے کہ  کشمیری عوام کے حقوق اور بھارت کے ساتھ تنازعات حل کرنے کی بحث میں تقسیم ہند کے وقت طے کئے جانے والے امور  و معاملات  کا حوالہ دینے سے گریز کیا جائے۔ ورنہ یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ جو قوم خود اپنے ہی لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکی اور اپنے مشرقی حصہ  کو  اقتدار و اختیار میں برابر حق نہیں  دے سکی وہ کس منہ سے کشمیر ی عوام کے بنیادی حقوق اور خود مختاری کی بات کرسکتی ہے؟

اس وقت دنیا میں اگر کشمیر کا معاملہ زیر بحث ہے یا   عالمی میڈیا اور  انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے و تنظیمیں اس پر بات کرتی ہیں تو اس کی وجہ وزیر اعظم پاکستان  کی پرجوش بیانات یا پے در پے ٹوئٹ پیغامات نہیں  ہیں اور نہ ہی آرمی چیف کا  یہ اعلان کہ ’کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے‘  بلکہ نریندر مودی  حکومت کی غلط اور جابرانہ پالیسیوں کی وجہ سے وادی میں پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی صورت حال اور سیاسی  بے چینی ہے۔  پاکستان کو  اس وقت  عالمی حالات کے تناظر میں  اسی نکتہ پر توجہ مبذول کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا کشمیری عوام  کی زندگیوں کو آسودہ کرنے کے لئے  کرفیو  ختم کرے، بنیادی شہری سہولتیں بحال  کی جائیں اور کشمیری عوام کو باہمی مواصلت کی سہولتیں فراہم ہوں تاکہ  مقبوضہ کشمیر کے بارے میں نئی دہلی حکومت کے یک طرفہ اور غیر منصفانہ فیصلوں  پر کشمیریوں کی رائے سامنے آسکے۔

پاکستان کو  یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کو اگر کبھی کشمیر کے معاملہ پر کوئی رعایت دینے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے  تو وہ   صرف  اسی بنیاد پر ممکن ہو گا کہ کشمیری عوام کو ہی خود اپنی تقدیر، مستقبل اور خطے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس  واقعاتی حقیقت کا ادراک کرنے کے بعد پاکستان کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیری عوام  کو جب اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق تفویض ہوگا تو وہ اسے اپنی صوابدید کے مطابق اپنے فائدے  کے  لئے  استعمال کریں گے۔ یہ فیصلہ لازمی طور سے  کشمیر کو پاکستان بنانے  پر منتج نہیں ہوسکتا۔

اس تناظر میں پاکستان کا یہ اصرار بھی فرسودہ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار پائے گا کہ  اقوام متحدہ کی قراردادوں میں 70 برس پہلے چونکہ یہ قرار دیا گیا تھا کہ کشمیر ی  باشندے پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تو آج بھی  کشمیریوں کے حق آزادی کو اس ایک نکتہ تک محدود کیا جائے۔  اس دلیل کو نہ دنیا مانے گی اور نہ ہی کشمیری  عوام تسلیم کریں گے۔

loading...