طالبان، امریکہ معاہدے پر متعدد حلقوں کی تشویش، افغان صدر امریکہ جارہے ہیں

  • جمعہ 06 / ستمبر / 2019
  • 350

افغانستان میں حکام نے بتایا ہے کہ ملک کے صدر اشرف غنی سنیچر کو امریکہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں اور یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے بارے میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ایک ترجمان کے مطابق صدر غنی 13 رکنی وفد کے ساتھ جا رہے ہیں اور پیر کو ان کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گی۔  مجوزہ امن معاہدے کے مطابق طالبان کی طرف سے سکیورٹی کی ضمانت کے بدلے پانچ ہزار امریکی فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ طالبان کے ابھی افغانستان کی حکومت سے مذاکرات ہونے ہیں جبکہ افغانستان کی حکومت کو ابھی مجوزہ معاہدے کی کاپی بھی نہیں ملی۔

دریں اثناء افغانستان میں طالبان کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور مغربی افغانستان میں حکام کے مطابق فرح شہر میں ایک ایسے ہی تازہ ترین واقعے میں طالبان شدت پسندوں نے افغان فوج کے بھرتی مرکز کو آگ لگا دی ہے۔  ملک کی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں زمینی اور فضائی کارروائی کے ذریعے حملہ آوروں کو ہیچھے دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔

اس حملے سے ایک روز قبل ہی کابل میں ایک خودکش حملے میں دس لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے لیے جاری مذاکرات کے باوجود طالبان نے قندوز اور پل خمری پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی پشتو سروس کے نمائندے خدائے نور ناصر نے بتایا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان وفود کی سطح پر امن معاہدے کے مسودے پر ہونے والے اتفاق پر افغان حکومت نے ‘تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ افغان حکومت نے اس مسودے پر اپنا ردعمل  کیا ہے۔  افغانستان کے نائب صدر دوم سرور دانش کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مسودے میں طالبان کو ‘اسلامی امارت‘ کے نام سے لکھنے کا مقصد اُنہیں ایک حکومت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

‘طالبان کے لیے اسلامی امارت کا لفظ استعمال کرنا اُنہیں حکومت تسلیم کرنا ہے، جو افغانستان کے عوام کو کسی صورت قبول نہیں۔ یہ افغانستان کی خودمختاری کے خلاف اور غیر آئینی اقدام ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری خودمختاری چیلنج کرے۔‘ سرور دانش کے مطابق اُنہیں امن چاہیے، لیکن ایسا امن جس میں جمہوریت کو کوئی خطرہ پیش نہ ہو۔

اگرچہ سرور دانش نے امن معاہدے سے ‘جمہوریت کو درپیش خطرات‘ کی وجوہات نہیں بتائیں لیکن کابل میں حکومتی ذرائع کے مطابق افغان حکومت اب بھی چاہتی ہے، کہ پہلے صدارتی انتخابات ہو جائیں اور بعد میں امن معاہدے پر دستخط ہوں۔ اس سے پہلے امریکہ اور افغان حکومت دونوں اپنی ترجیحات کا ذکر بارہا کر چکے ہیں، جن میں امریکہ کی پہلی ترجیح امن معاہدہ، جبکہ افغان حکومت کی پہلی ترجیح ستمبر کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات ہیں۔

دوسری جانب امریکی جریدے ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ایسے معاہدے پر دستخط کریں جو طالبان کو ایک حکومت کے طور پر تسلیم کر لے۔  جریدے کے مطابق امن معاہدے کے مسودے پر افغان صدر اشرف غنی اور زلمے خلیل زاد کو اونچی آواز میں بحث کرتے ہوئے سنا گیا جہاں خلیل زاد نے افغان صدر کو بتایا کہ اُنہیں یہ ڈیل ماننی ہوگی کیونکہ وہ افغان جنگ ہار رہے ہیں۔

اُدھر افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے بھی بدھ کو  ٹوئٹر پر کہا تھا کہ افغان حکومت امن عمل کی حمایت کرتی ہے، لیکن امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے ‘امن معاہدے‘ پر اُنہیں تشویش ہے۔  اُن کا کہنا تھا ‘افغان حکومت قیام امن کے لیے ہر اُس اقدام کی حمایت کرتی ہے، جس کے بعد مستقل امن آ جائے اور جنگ ختم ہو۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے افغان حکومت کو یہ تشویش ہے کہ معاہدے کے بعد ممکنہ طور پر پیش آنے والے چیلنجز پر کیسے قابو پایا جائے گا۔‘

صدیق صدیقی کے مطابق جس طرح سابق امریکی سفارتکاروں اور سینیٹرز نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، افغان حکومت کو بھی تشویش ہے اور اس معاہدے کے بارے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر تشویش کے یہ بیانات ایسے وقت پر آ رہے ہیں، جب افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کابل میں ہی موجود ہیں اور وہ افغان حکومت کو ممکنہ امن معاہدے سے آگاہ کر رہے ہیں۔

یکم ستمبر کو دوحہ میں مذاکرات ختم ہونے کے فوراً بعد زلمے خلیل زاد کابل روانہ ہوئے اور اُنھوں نے اسی رات کو افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ کابل میں بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان صدر اور زلمے خلیل زاد کے درمیان دوسری ملاقات (جو دو ستمبر کی صبح ہوئی تھی) میں زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی کو امن مسودے کی کاپی دکھائی، لیکن اُن کے حوالے نہیں کی۔

واضح رہے کہ 3 ستمبر کو اٹلانٹک کونسل ریسرچ سنٹر کی ویب سائٹ پر امریکہ کے سابق سفارتکاروں اور سینیٹرز نے ایک مشترکہ آرٹیکل میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ان مذاکرات میں افغان حکومت کی شرکت اور مکمل امن معاہدے سے پہلے فوجی انخلا افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

سابق امریکی سفارتکاروں میں افغانستان میں پانچ سابق امریکی سفیر بھی شامل ہیں، جو 2001 سے 2014 تک مختلف دور میں کابل میں امریکی سفیر رہے۔ یہ سابق امریکی سفارتکار اور سینیٹرز اپنے مضمون میں امریکہ کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر بین الافغان مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور امریکہ کی طرف سے افغان حکومت کو تعاون حاصل نہ ہو تو افغانستان میں سیکورٹی کی صورتحال اب سے بھی زیادہ ابتر ہو گی۔

loading...