پاکستان کا مستقبل کون سی جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے؟

پاک فوج کے سربراہ  جنرل قمر جاوید باجوہ نے سندھ کے نوجوانوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کے روشن مستقبل کی امید قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا  کہ وہ سمندروں کا رخ پھیر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوچنا چاہئے کی جنرل قمر جاوید باجوہ کو جمہوریت اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ کیا انہیں لگتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے انہیں نوجوانوں کی ہمت  وشجاعت اور وفاداری و حب الوطنی کا ذکر کرتے ہوئے یقین دلوانا پڑا ہے کہ وہ  ملک کے مستقبل کو درست کرنے کے  لئے سینہ سپر ہوجائیں۔  فطری طور سے  نوجوانوں کے ساتھ گفتگو میں پاک فوج کے سربراہ نے  فوج کے طریقہ کار، نظام اور میرٹ کی مثال دینا ضروری سمجھا۔  تاہم اگر وہ اس تبصرے میں اس بات کا اضافہ کردیتے کہ ملک کے دیگر شعبے  بھی وفا شعاری اور محنت   کی مثال قائم کررہے ہیں۔ ان کا کردار بھی  ملکی ترقی اور اسے آگے  لے کر چلنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے تو  یہ تاثر تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی تھی کہ فوج خود کو ہی سب سے طاقتور اور مؤثر ادارہ سمجھتے ہوئے  ملک کے مفاد کا سب سے بڑا محافظ سمجھتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات  کہہ کراس کمی کو ضرور پورا کیا ہے کہ  ’اخلاقی  برتری  فوجی قوت سے  بڑی طاقت ہے‘۔  فوج کی سربراہی کے لئے  تین مزید برسوں کی توسیع پانے والے جنرل کو   البتہ یہ یقین دلوانا چاہئے کہ پاکستان کی فوج ہمیشہ اخلاقی برتری کی مثال قائم کرنے کی کوشش کرے گی کیوں کہ اسی طرح وہ فاتح اور قابل احترام ہو سکتی ہے۔

بدقسمتی سے ملک کی مختصر تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہوئے اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔  پاک فوج نے مسلسل ملک میں جمہوریت کو تاراج  کرنے اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو سماج اور سیاسی ترقی کی بنیاد بننے سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ بات کہی  بھی جاتی ہے اور تسلیم کروانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فوج ہی اس ملک کے لوگو ں   کی کھیون ہار ہے اور وہی ’قومی مفاد‘ کا تحفظ کرنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہے بلکہ اس کا تعین بھی خود  ہی کرنے کی مجاز ہے۔ جب  اس سلوگن کو سلیبس، جاں فشاں صحافیوں اور مصنفین کے ذریعے  قوم کے بچوں اور نوجوانوں کو ازبر کروانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے تو صرف یہی بات سامنے آتی ہے کہ  فوج کے پاس چونکہ طاقت ہے  لہذا وہ جب چاہے جمہور کی طاقت کو مسترد کرسکتی ہے یا عوام کے منتخب نمائیندوں کو اپنے  ایجنڈے کے مطابق کام کرنے  پر آمادہ کرسکتی ہے۔

 یہی نہیں مطالعہ پاکستان کے سلیبس سے ہٹ  کر اور سرکاری طور سے بیان کئے گئے نعروں سے لبریز تاریخ سے گریز کرتے ہوئے اگر ملک پر بیتے واقعات کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جائے جن کی گواہی دینے والی نسل ابھی زندہ ہے ۔۔۔  تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ فوج نے نسل در نسل محلاتی سازشوں ، سیاسی ایجنٹوں اور  ججوں  کو زیر کرنے کے لئے جاری کئے گئے   عبوری آئینی   احکامات(پی سی او) کے ذریعے  جمہوریت  کا تختہ الٹنے یا اسے  کنٹرول کرنے کے لئے  بار بار اقدامات کئے ہیں۔ جمہوریت کی بات کرنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر کمان پاک فوج نے  نہ صرف یہ کہ  کبھی ماضی کے ان ہتھکنڈوں  کو مسترد نہیں کیا بلکہ   جمہوریت کی بساط لپیٹنے والے اور آئین کو ردی کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والے اپنے سابقہ سربراہان  کو بعد از مرگ اور بعد از وقت بھی مکمل اعزاز اور احترام دیا جاتا ہے۔ کیا جنرل صاحب اس بوالعجبی  کی وضاحت کریں گے کہ اگر فوج ملک میں جمہوریت کو ہی تمام مسائل کا حل اور ترقی کا نسخہ سمجھتی ہے تو جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے اپنے ہی جرنیلوں کے بارے میں اس منظم اور اعلیٰ اقدار کے حامل ادارے نے ہمیشہ کیوں نرم گوشہ اختیار کئے رکھا ہے؟

زیادہ دور جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ 2007  کی عدلیہ بحالی تحریک  کے بعد  بمشکل اپنے عہدے اور اقتدار سے رخصت ہونے والے جنرل (ر) پرویز مشرف  کو ملک کے آئین، نظام انصاف اور اپنے گناہوں کی جوابدہی سے بچانے کے  لئے اس وقت کے فوجی سربراہ نے  منتخب سول حکومت کا بازو مروڑا اور عدالتوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔  یہی رویہ   آئین سے بغاوت کرنے والے  باقی سب فوجی جرنیلوں   کو عزت و احترام دینے کے  لئے روا رکھا گیا ہے۔ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ ملک کےنوجوانوں کو یہ یقین بھی دلوائیں گے کہ  جمہوریت کو منزل  بتانے   کے بعد اب  ان کا ادارہ اس منزل کو کھوٹا کرنے کا سبب بننے والے   سابقہ فوجی افسروں  کو  ملک و قوم کے علاوہ پاک فوج کے دامن پر سیاہ دھبہ قرار دے گا؟

جمہوریت کوئی سات حرفی منتر نہیں  ہے جسے پڑھ کر اسے پھونک دیا جائے تو قوم و ملک کے سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک نظام اور رویہ کا نام ہے۔ جن نسلوں  نے قوم و ملک کی ذمہ داری سنبھالنی ہے انہیں     جمہوری مزاج کی تربیت دینے کے لئے   ایسا ماحول بھی پیدا کرنا ہوگا جہاں عوام کی رائے کو اہمیت حاصل ہو۔ ان کے منتخب نمائیندوں کا جمعہ بازار نہ لگایا جائے اور نہ ہی  ووٹ لے کر اسمبلی اور سینیٹ میں  پہنچنے والے یہ  لوگ خود کو مفاد کے ترازو میں بھاری پلڑے  کی طرف  ڈالنے پر آمادہ و تیار رہیں۔   

گزشتہ برس کے شروع میں  سینیٹرز  کے انتخاب ، پھر  ’آزاد‘ منتخب ہونے والے سینیٹر صادق سنجرانی  کے چئیر مین بننے اور گزشتہ ماہ کے شروع میں سینیٹ کی اکثریت کے ’زبانی عدم اعتماد‘ کے بعد خفیہ رائے شماری میں تبدیل ہوتے نتائج  سے کون سی اور کس قسم کی جمہوریت کا نقشہ نوجوان نسل کو دکھایا گیا ہے؟ اور کیا اس طریقہ  کو دیکھنے اور اس پر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے والے درباری  مبصرین  کے کاندھوں پر ہی اس اخلاقی سربلندی کی عمارت تعمیر ہوگی  جو فوجی طاقت سے بھی زیادہ مؤثر اور کارآمد ہوسکتی ہے؟

جمہوریت  ڈسپلن اور میرٹ کا نام نہیں  ہے۔ یہ اختلاف کو  تسلیم کرنے اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کا نام ہے۔  جمہوریت میں فوج کا سربراہ قوم کے نوجوانوں کو  نہیں بتاتا کہ  اس ملک کا مستقبل  جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ جب نوجوانوں کو اپنی رائے رکھنے، معاملات کو اپنے انداز میں پرکھنے اور اس کے اظہار کا مناسب موقع فراہم کرنے کا ماحول دستیاب ہو گا تو جمہوریت کا پودا  سرسبز و شاداب ہونے لگے گا۔  اگر جمہوریت  ہی اس  ملک کا مستقبل ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس کا حال  غیر جمہوری  ہتھکنڈوں اور  جابرانہ  طریقوں  کا آئینہ دار بنا ہؤا ہے۔

 کوئی وجہ تو ہوگی کہ دشمن ملک  کی طرف  سے سامنے  آنے والے خطرے اور کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر آواز اٹھانے، حکمت عملی تیار کرنے اور حکومت کی رہنمائی کرنے کے لئے  منتخب پارلیمنٹ تو جزو معطل بنی ہوئی ہے  اور مجبوری کے عالم میں پاک فوج کے  ستارے سجائے  جرنیل،   منتخب حکومت کو راستہ  دکھانے کے لئے موجود رہتے ہیں۔    کیا وجہ ہے کہ   ملک کی  ساری اپوزیشن اور اس کے بیشتر لیڈر بدعنوان اور چور لٹیرے ہیں لیکن  حکومت کرنے والی پاٹی ایسے پارسا لوگوں کی جماعت بن چکی ہے جس کی بات سے اختلاف کرنا ملک کی سالمیت پر حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ تقدیس  کو اس کے اصل مقام سے   لوح محفوظ پر منتقل کرنے کا کارنامہ انجام  دینے والے کیا واقعی ملک میں جمہوریت   کے  ضامن ہوسکتےہیں؟

جس قوم  کے روزو شب گھٹن اور  کسمپرسی  کی تصویر پیش کرتے ہوں، جہاں آزاد لفظ لکھنے اور  بولنے کی آزادی سلب کی گئی ہو، جہاں سیاسی اختلاف پر  لیڈر جیلوں میں بند کئے جاتے ہوں اور جہاں  عدالتوں کو سیاسی و انتظامی امور طے کرنے کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہو ، اس میں جمہوریت کسی روشن نظام کا نہیں  بلکہ مفاد کی سیڑھی کا نام ہوگا جس پر  میرٹ، علم یا محنت کے ذریعے نہیں  بلکہ خوشامد،  تابعداری اور جھوٹ و مکر کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہی اوپر تک پہنچا جاسکتا ہے۔

loading...