اسلام ، پاکستان اور ہم عوام

( ایک کم علم مسلمان کا اہلِ علم سے سوال)

تمام آسمانی صحیفے اسرار و رموز کی آیتوں سے مزین ہیں لیکن یہ اسرار و رموز واضح احکامات اور پیغامات بھی ہیں۔ اِن علامتوں میں جنہیں آیات یا نشانیاں کہا جاتا ہے، ہمیشہ ایک ذو معنویت ہوتی ہےجس میں سکوت اور ارتعاش بیک وقت کارفرما ہوتے ہیں ۔

ایک حقیقی علامت جسے ہم آیت کہتے ہیں ، ہمیشہ رب کا اپنے بندوں کے نام ایک واضح پیغام ہوتا ہے جو لافانی دنیا سے فانی دنیا کی طرف آتا ہے ۔ تلاوت کے دوران فانی اور لافانی کے مابین ایک مسلسل رابطہ موجود ہوتا ہے اور ان آیتوں اور نشانیوں کے ذریعے اہلِ نظر اور اہلِ خبر کو پیغامات جاری کیے جاتے ہیں کہ ان کا بہترین مفہوم اخذ کرو ۔ یہ علامتیں ایک اعتبار سے ثواب اور عذاب کے استعارے ہوتے ہیں ۔

آسمانی کُتب میں جُملے نہیں آیتیں ، علامتیں اور نشانیاں ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ شیخو پورہ سے لاہور جاتے ہوئے سڑک پر میل کا پتھر نظر آئے جس پر لاہور 5 میل لکھا ہو  تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ میل اُس پتھر میں ہیں بلکہ یہ ایک سفر ہے جو پیدل یا سوار ہو کر کرنا ہوتا ہے اور سفر میں ان گنت  مسافر ، گاڑیاں ، ٹرک ، بسیں اور کاریں ہوتی ہیں جن سے بچتے بچاتے ، ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرتے اور ٹول ٹیکس ادا کرکے لاہور پہنچنا ہوتا ہے۔ اور راستے میں چالان کے امکانات بھی ہیں اور یہی معاملہ صراطِ مستقیم کے سفر کا ہوتا ہے۔ کیونکہ ظاہری اور باطنی معاملات پر یکساں قوانین کا اطلاق ہوتا ہے ۔ لیکن ہم میں اکثریت ایسے کم فہموں کی ہے جو میل کا پتھر پڑھ کر پاؤں توڑ کر وہیں بیٹھ رہتے ہیں کہ اس میل کے پتھر سے لاہور نکلے گا اور ہمارا جنم ہوگا۔ مگر پتھر سے لاہور نہیں نکلتا اور اس طرح لوگ کہیں کے نہیں رہتے ۔چنانچہ شاعری کی دنیا میں احتیاط کے فارمولے وضع کیے گئے ہیں تاکہ لوگ کچھ تو سیکھیں:

بایں کہ کعبہ نمایاں شود ز پا منشیں

کہ نیم گامِ جدائی ہزار فرسنگ است

اور ہم لوگ جو بہتر سال سے نعرے لگاتے ، ترانے اور نغمے گاتے اور پرچم لہراتے  پیدل چل رہے ہیں۔ ابھی تک اُس پاکستان تک نہیں پہنچ سکے جو ہمارے خوابوں کا جنت نظیر پاکستان تھا۔ چنانچہ ہم پتھروں پر لکھی تحریروں اور کتبوں میں دل کی تسلی کے لیے مسلمانوں کے مستقبل کے اشارات ڈھونڈتے ہیں اور  پرنٹ میڈیا ، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی پیشین گوئیوں کے جنگل میں گھرے رہتے ہیں۔ جہاں سے باہر نکلنے اور ارضی حقائق تک رسائی کا کوئی راستہ نہیں ملتا ۔ اور ایسا کرتے ہوئے ہم قرآنِ کریم کو چھوئے بغیر آگے نکل جاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وہ علمی خزانہ ہے جو تحریری صورت میں ہمارے پاس موجود ہے مگر ہم اُس کو مضبوطی سے تھامنے کے بجائے بھانت بھانت کی تفسیروں کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس نے فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دی ہے۔ اور لوگوں کو گروہوں میں بانٹ کر ملی وحدت کو زک پہنچائی ہے ۔

اسی طرح احادیث کا معاملہ ہے جس میں اصل اتھارٹی پیغمبرِ آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر ہمارے ایمان کی بنیاد وہ راوی ہیں جنہوں نے  احادیث مبارکہ  کو سینہ بہ سینہ سنا اور اور کہیں دو سو سال بعد  رقم کرنے کی روایت ڈالی جن کے مصدقہ اور مستند ہونے کی تحریری شہادت موجود نہیں ہے ۔ میں یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی فرمان یا بیان پر شک و شبہ کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ اس بات کی علمی ضمانت کیا ہے کسی حدیث کو دو سو سال بعد سُن کر آگے بیان کرنے والے کے الفاظ ہوبہو وہی تھے جو نبی  آخر الزماں  صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے ادا ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان سر آنکھوں پر ، مگر تاریخ گوا ہ ہے کہ مسلمانوں میں وہ لوگ بھی گزرے ہیں جن میں تین راشد خلفائ کے قاتل اور کربلا میں خانوادہ ئ رسول ؐ کے وہ دشمن بھی شامل ہیں جنہوں نے کربلا برپا کی تھی ۔

دو سو  سال کے زبانی روایت کے سفر میں ایک سینے سے چوتھے پانچویں تک منتقل ہونے والے وہ الفاظ جنہیں تحریر میں نہ لایا گیا ہو ، کوے کو سفید کرسکتے ہیں اور چیل کو کوئل قرار دے سکتے ہیں ۔ میرے مونہہ میں خاک  اور میرا قلم خاک چاٹے اگر میں فرمانِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے روگردانی پر مبنی کوئی ایک لفظ بھی لکھوں ۔ نہیں نہیں :

یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے

قراآن کریم جب اُترا تو دس کاتبانِ وحی ؓ کی جمعییت اُسے رقم کرتی رہی اور یہی وہ قانون ہے جو زبانی روایت کے بجائے تحریری گواہی کو مستند قرار دیتا ہے ۔ چنانچہ میرا سوال یہ ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اسما ئ الرجال کا علم سائینسی بنیادوں پر اتنا ثقہ ہے کہ اس کی بنا پر کسی حدیث پر موضوع ہونے کا شک کیا ہی نہیں جا سکتا حالانکہ بہت سی حدیثوں کو جمع کرنے والوں نے خود ہی موضوع قرار دے کر رد کر دیا؟ یہ ہے وہ سوال جو مجھے بے چین رکھتا ہے اور میں نہیں جان سکتا کہ جس دین پر ہم لوگ چل رہے ہیں ، وہ حقیقی معنوں میں دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے بھی یا نہیں ۔

موضوع حدیثوں کے ضمن میں ملا علی قاری کی ایک مختصر سی کتاب میں نے دیکھی ہے لیکن میرا اپنا من یہ سراغ دیتا ہے کہ جو لوگ کوئی ایسی حدیث پیش کریں جو قراآنِ حکیم کے واضح حکم کی تردید کرتی ہو وہ مستند کیسے ہو سکتی ہے ؟ سنن ابی داؤد کی بہتر فرقوں والی حدیث قرآن کے احکامات کی تردید کرتی ہے۔ کیونکہ قرآن فرقہ سازی کی اجازت نہیں دیتا اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم دیتا  ہے اور کہتا ہے کہ فرقوں میں تقسیم کر کے لڑوانا خُدا کی طرف سے سزا ہوا کرتی ہے ۔ مگر بھلا ہو اُن میڈیا کے دانشوروں اور محققوں کا  جن کو سننِ ابی داؤود کا درست تلفظ کرنا تو آتا نہیں مگر عالمِ اسلام کے مستقبل کے بارے میں فتویٰ دینا اُن کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ وہ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کر کے عام مسلمان کو  مخمصے اور دبدھا میں ڈال دیتے ہیں اور سننے والوں کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ مذہب ہے یا قدیم دیومالائی قصے کہانیاں جنہیں کتاب اللہ میں اساطیر الاولین کہا گیا ہے ۔

ایسے میں مجھے قرآن کا ایک حکم سب سے مرکزی اور بنیادی لگتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ( لما تقولون ما لا تفعلون) جس بات پر تم عمل پیرا نہیں، ہو اس کو زبان پر مت لاؤ اور ہم جو اپنی روز مرہ زندگی میں بد کلامی ، دروغ ، نا انصافی ، تشدد، رشوت ، کرپشن اور اسراف کے مجرم ہیں ، کس مونہہ سے اسلام کی بات کرتے ہیں کیونکہ اسلام کی بات اسلام پر عمل پیرا ہونے میں  ہے ، زبانی بحث مباحثے میں نہیں لیکن ہم گفتار کے غازی ہیں اور باتوں باتوں میں دلی کے لا ل قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہراتے رہتے ہیں جب کہ ہمارا نیک اعمال کا خروارہ خالی ہے۔

حال ہی میں سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر نریندر مودی کا ایک بھاشن وائرل ہوا ہے جس میں پاکستان کے عوام کو مخاطب کیا گیا کہ تمہارے ہزار سال جنگ کی دھمکیاں دینے والے لیڈر کیا ہوئے ۔ اب یہ بلاول زرداری کا فرض ہے کہ وہ اپنے نانا جی کے اس بیان کا شافی جواب دے اور تاریخ کا قرض چکائے ۔ اس طرح قوم کی عاقبت بھی سنور جائے گی اور نریندر مودی کو اس کی بات کا جواب مل جائے گا۔ ورنہ ہم رضاکارنہ قلم کاری کرنے والوں کے بس کی بات نہیں کہ وہ اعلیٰ سیاسی لیڈروں کی بات میں دخل بھی دیں ۔ اللہ اللہ خیر سلّا  ۔

loading...