پاکستان چھوڑتے وقت دل ٹوٹ رہا تھا: آسیہ بی بی

  • سوموار 02 / ستمبر / 2019
  • 640

توہین مذہب کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے بری ہونے والی آسیہ بی بی رہائی کے بعد کینیڈا منتقل ہو چکی ہیں جہاں وہ محفوظ مقام پر اہل خانہ کے ہمراہ مقیم ہیں۔

آسیہ بی بی کو پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں 2010 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ آٹھ برس تک جیل میں رہیں تاہم الزام ثابت نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے انہیں گزشتہ برس بری کردیا تھا۔ پاکستانی نژاد عیسائی خاتون آسیہ بی بی نے اپنی رہائی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی گئی کوششوں کی شکر گزار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے پاکستان میں توہینِ مذہب کے سخت قانون کے تحت بہت سے لوگ اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

آسیہ بی بی نے اتوار کو  برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کو ایک انٹرویو دیا۔ یہ ان کی رہائی کے بعد کسی بھی اخبار کو دیا گیا پہلا انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے آپ بیتی بیان کی ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں جیل میں رہ کر انہوں نے کیا محسوس کیا۔ آسیہ بی بی نے کہا کہ وہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت ملنے کے بعد مایوسی کا شکار ہوچکی تھیں۔

آسیہ بی بی کے بقول توہینِ مذہب کے جھوٹے الزام میں موت کی سزا ملنے کے بعد ان کی زندگی مکمّل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’میری ساری زندگی مشکلوں میں گزری، میرے بچوں کو بھی تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں۔ ان تمام واقعات نے میری زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے۔‘ آسیہ بی بی نے اپنی بریت پر پاکستان کی سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اور بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو شفاف ٹرائل کے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہت سے دوسرے کیسز بھی ہیں جن کے ملزمان (توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد) جیلوں میں قید ہیں۔ ان کے مقدمات کا فیصلہ بھی میرٹ پر ہونا چاہیے۔ دنیا ان لوگوں کی آواز بھی سنے۔ آسیہ بی بی نے کہا کہ ’میں پوری دنیا سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس مسئلے پر توجّہ دیں۔ کسی بھی شخص پر بغیر تفتیش اور ٹھوس ثبوتوں کے توہینِ مذہب کے الزامات لگا دینے کے اس مسئلے پر توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ "توہینِ مذہب کے قانون پر نظرِ ثانی کی جانی چاہیے اور اس قانون کے نفاذ پر شفاف تحقیقات کا کوئی طریقہ وضع کرنا چاہیے۔ ہمیں کسی بھی شخص کو بغیر ٹھوس ثبوتوں کے گناہ گار تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔" آسیہ بی بی نے جیل میں گزرے وقت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ "کبھی کبھی میں بہت مایوس ہوجاتی تھی اور پھر ہمت ہار جاتی تھی۔ میں یہ سوچتی تھی کہ میں کبھی جیل سے باہر نکل سکوں گی یا نہیں؟ آگے کیا ہوگا؟ کیا میں مجھے زندگی بھر یہیں رہنا پڑے گا؟"

جیل میں جب میری بیٹیاں مجھ سے ملنے آتی تھیں تو میں ان کے سامنے کبھی نہیں روتی تھی لیکن ان کے جانے کے بعد میں تنہائی میں بہت روتی تھی۔ میں سارا وقت صرف ان کے بارے میں ہی سوچتی رہتی تھی کہ وہ کیسے رہ رہی ہوں گی۔ آسیہ بی بی نے آٹھ سال جیل میں گزارے۔ ان پر توہینِ مذہب کا الزام جون 2009 میں لگایا گیا تھا۔

ایک سال بعد انہیں مقامی عدالت نے سزائے موت سنائی جبکہ ان کی اپیل پر لاہور ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کی سماعت کی اور انہیں بری کرکے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ وہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغمبرِ اسلام اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی تھیں۔

آسیہ اس الزام سے انکار کرتی رہی ہیں۔ وہ اپنے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے جیل میں ہی قید رہیں۔ سپریم کورٹ سے بریت اور رہائی ملنے کے بعد بھی آسیہ کی زندگی کو مسلسل خطرات لاحق تھے۔ یہ خدشہ تھا کہ کہیں کوئی مذہبی شدت پسند ان پر حملہ نہ کر دے۔ آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ سے بریت ملنے کے بعد بھی سات ماہ حفاظتی تحویل میں رکھا گیا۔ ان کی رہائی سے حکومت کو خطرہ تھا کہ کہیں مذہبی گروہ اشتعال میں نہ آجائیں۔

آسیہ بی بی نے آخر کار پاکستان چھوڑ دیا۔ اب اُن کے پاس اپنے اور بیٹیوں کے لیے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع موجود ہے۔ لیکن آسیہ پاکستان چھوڑنے پر بہت دلبرداشتہ تھیں۔ وہ اب کینیڈا میں مقیم ہیں لیکن وہ جلد کسی دوسرے یورپی ملک جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

آسیہ بی بی کو اپنے والد سے ملے بغیر ہی اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ اپنی رہائی سے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "جب میں اپنا ملک اپنے گھر والوں سے ملے بغیر چھوڑ کر جا رہی تھی تو میرا دل ٹوٹ رہا تھا۔ پاکستان میرا ملک ہے اور مجھے اپنی وطن اور اپنی زمین سے محبّت ہے۔"

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں تقریباً 77 افراد توہینِ مذہب کے قانون کے الزامات کے تحت قید ہیں۔ ان میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔ ان کے وکلأ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں جو ان کے مخالفین نے مختلف وجوہات کی بنا پر لگائے۔

پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے لیکن اب تک کسی فرد کو توہینِ مذہب کے قانون کے تحت پھانسی نہیں دی گئی۔ البتہ ماضی میں ایسے واقعات ہوچکے ہیں کہ جب توہینِ مذہب کے الزامات لگنے پر مشتعل ہجوم نے ملزم کو قتل کر دیا ہو۔

loading...