مقبوضہ کشمیر کی صورتحال: سرینگر میں ٹرانسپورٹ ناپید، دکانیں بند اور خوف کی فضا ہے

  • جمعرات 29 / اگست / 2019
  • 760

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں کرفیو کا آج 25واں دن ہے۔ سیکورٹی کم ہونے کے باوجود وادی میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند ہے۔

کشمیر کی صورتحال پر بی بی سی کے خصوصی پروگرام نیم روز میں گفتگو کرتے ہوئے نامہ نگار عامر پیرزادہ نے بتایا کہ بہت سے علاقوں میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم پرانے سری نگر میں سکیورٹی فورسز ابھی بھی تعینات ہیں۔

سڑکوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں اور ٹریفک کو چلنے کی اجازت ہے لیکن دکانیں اور پبلک ٹرانسپورٹ اب بھی بند ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق انھوں نے سرینگر ٹرانسپورٹ کے انچارچ سے ملاقات کی اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہ آنے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرانسپورٹ انچارچ نے بتایا کہ کسی بھی احتجاج کی صورت میں سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ زد میں آتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چار اگست کو ان کی گاڑیاں کشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو لے کر گئیں تھیں تاہم انہیں ابھی تک علم نہیں کہ ان کی بسیں کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر سے کشمیر کی مختلف ڈسٹرکٹ میں تقریباً 700 بسیں چلائی جاتی ہیں جن میں سے ان کے پاس صرف 100 بسوں کی معلومات ہیں جبکہ 600 کے بارے میں وہ نہیں جانتے معلومات کیونکہ ذرائع مواصلات پر پابندی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک اپنی بسوں کو سڑکوں پر نہیں لائیں گے جب تک حالات معمول پر نہں آ جاتے۔ نامہ نگار عامر پیرزادہ نے بتایا کہ انہوں نے کچھ تاجروں اور دکانداروں سے بھی ملاقات کی ہے اور پوچھا کہ وہ دکانیں کیوں نہیں کھول رہے۔ جس کے جواب میں دکانداروں نے کہا کہ حالات کہاں معمول پر ہیں، کیونکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ تو ابھی بھی بند ہیں۔

دکانداوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک سیاسی قائدین قید سے باہر نہیں آ جاتے تب تک کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکتا۔ سیاسی قائدین اور رہنماؤں کے انتظامیہ سے کسی معائدے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کے بارے میں عامر پیرزادہ نے بتایا کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ جب قید میں موجود سیاسی قائدین کو رہا کیا جائے گا تو پھر کیا ہو گا کیونکہ اس کے بعد افراتفری کے امکانات زیادہ ہیں۔

عامر پیرزادہ کے مطابق پہلے کشمیر میں حالات کشیدہ ہونے پر سیاسی قائدین کے زریعے حالات کو معمول پر لایا جاتا تھا لیکن اس بار تو سیاسی قائدین ہی قید میں ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم کہ حالات کہاں جا رہے ہیں، سب ڈرے ہوئے ہیں اور کوئی کسی قسم کو کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔

تعلیمی اداروں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نامہ نگار نے بتایا کہ حکومت نے سکولوں کو کھولنے کا حکم تو دیا تھا لیکن زمینی حقائق کے مطابق کوئی بھی سکول نہیں کھلا، کچھ سکول مکمل بند ہیں تو کسی سکول میں صرف اساتذہ ہیں۔ بچے سکول نہیں آ رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی والدین رسک نہیں لینا چاہتے۔ ہسپتالوں کے بارے میں عامر پیرزادہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے تک زیادہ تر ہسپتالوں میں کوئی لینڈ لائن کام نہیں کر رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذرائع مواصلات کی بحالی تک حالات کے معمعول پر آنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آنے والے 72 سالہ دکاندار محمد صدیق نے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ وہ اگست کی دوپہر سرینگر کی پرانی مسجد سے نماز پڑھ کر نکلے تو ایک انڈین فوجی نے تین بار پیلٹ گن چلائی اور وہ زخمی ہو گئے۔ محمد صدیق کے مطابق انڈین فوجی نے بغیر کسی لڑائی کے پیلٹ گن کے شیل فائر کیے، محمد صدیق کا کہنا تھا کہ اس وقت وہاں آٹھ یا نو افراد جن میں بچے بھی شامل تھے، موجود تھے۔

دوسری جانب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کی تہذیب، ان کی شناخت اور ان کے مذہب کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے معاملے کی سماعت اور اس پر ردعمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ مقامی لوگوں میں اس بارے میں ہلکا سا اطمینان اور امید موجود ہے لیکن خدشات بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ عدالت اس معاملے کو سننا چاہتی ہے لیکن اس کی سماعت پانچ رکنی بینچ اکتوبر میں کرے گا۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...