کشمیر تنازع سے برصغیر میں جوہری جنگ کے خدشات میں اضافہ ہؤا ہے

  • سوموار 26 / اگست / 2019
  • 840

ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کی حالیہ صورت حال جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے لیے چنگاری فراہم کرسکتی ہے۔

جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم، اسٹریٹ فور کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کشمیر تنازع کو 'اندرونی معاملہ' یا باہمی مسئلے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 16 اگست کو یہ تنازع جوہری سطح پر آن پہنچا تھا جب بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارت کی پہلے جوہری ہتھیاروں استعمال نہ کرنے کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل میں حالات کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ صورتحال حوصلہ افزا نہیں ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نیو یارک ٹائمز کے نمائندے کے مقبوضہ وادی کے حالیہ دورے میں ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی تھی۔ جب ان کی گاڑی اس کے قریب پہنچی تو چرواہا ان کی گاڑی کی کھڑکی کی جانب بڑھا اور کہا کہ ہم ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

رپورٹ میں سوال کیا گیا کہ دہائیوں قبل کشمیری عوام سے ان کی رائے جاننے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کبھی پورا نہیں ہوا، کیا ان سے کبھی سوال کیا جائے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟

بھارتی اور پاکستانی فوج دونوں کے پاس اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہیں جو دونوں جانب کے کمانڈرز میدان جنگ میں استعمال کرسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ' ایسا ہونے کی صورت میں امریکا کی جانب سے 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر کیے گئے جوہری حملے کے بعد پہلی مرتبہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوگا'۔

امریکی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'گزشتہ پاکستانی حکومتوں نے کشمیری باغیوں کی حمایت کی تھی تاہم موجودہ پاکستانی حکومت مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر سابقہ حکومتوں کی روایت پر قائم نہیں ہے'۔

رواں سال فروری میں پاک فوج نے بھارتی طیارہ مار گرایا تھا تاہم یکم مارچ کو اس کے پائلٹ ابھے نندن ورتمان کو بھارت کے حوالے کردیا گیا تھا۔ لیکن نریندر مودی نے اسلام آباد کے جذبہ خیر سگالی کا اعتراف نہیں کیا۔ اور نہ ہی ان کی حکومت کشمیر تنازع پر بات چیت کو تیار ہے۔

 

loading...