دوقومی نظریے کی بازگشت

ہم دو قومی نظریے کی اولاد ہیں ۔ ہم پاکستانی ہیں جو 14  اگست 1947 کو پیدا ہوئے اور 11 ستمبر1948 کو یتیم ہو گئے ۔ قائد اعظم اپنا نوزائیدہ بچہ کھوٹے سکوں کے حوالے کر کے راہی ء ملکِ عدم ہوئے اور  ہم فوج اور بیورو کریسی کے رحم و کرم پر گھٹنوں کے بل چلنے لگے ۔

 قائد اعظم کی وفات کا صدمہ بہت اذیت ناک تھا ۔ اُنہوں نے اپنی تقریروں میں پاکستان کا جو نقشہ بنایاتھا وہ ابھی عملی جامہ  پہن نہیں پایا تھا کہ وہ چل بسے ۔ اس سانحہ ء جانکاہ پر طرح طرح کے زبانی اور تحریری ردِ عمل کا اظہار ہوا مگر خان پور کے پنجابی مہاجر منیر نیازی کے مونہہ سے بے ساختگی میں وہ جملہ نکلا جس میں اس سانحے پر دلوں پر گزرنے والے رنج و الم کا سارا زہر نُچڑ کر یکجا ہو گیا تھا ۔ منیر نے کہا :

کھوجے پُتر یار کس کے

پاکستان بنایا اور کھسکے

قائد اعظم کے انتقال کے بعد اُن کی مسلم لیگ کے ٹائپ رائٹر لیاقت علی خان بھی راولپنڈی کے اُس باغ میں شہید  کر دیے گئے جو اب اُنہی کے نام سے موسوم ہے  اور پھر اُس کے بعد پاکستان موقعہ پرستوں اور سیاسی طالع آزماؤں کا تختہ ء مشق بن کر رہ گیا ۔ پھر عدلیہ ، ، بیورو کریسی اور فوج نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے اور پاکستان ان سیاسی ٹیموں کے درمیان فُٹ فال بن کر رہ گیا ۔ ان غیر سیاسی ٹیموں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت تھا کہ بے چاری جمہوریت دُم دبا کر بھاگ نکلی اور بھاگ کر  تندوروں سے ملحق ایندھن ذخیرہ کرنے والے ڈھاروں اور باورچی خانوں میں جا چھپی ۔

 تب سے اب تک ہم نے بہتر سال میں بھانت بھانت کی جمہوریتیں دیکھی ہیں جو اسلام کا چوغہ پہن کر پاکستانیوں میں کرپشن تقسیم کرتی رہی ہیں اور ملک کو ایک منصفانہ معاشی نظام دینے کے بجائے پاکستان کو  آئی ایم ایف کے ہاں گروی رکھ کر اپنی اپنی جمہوریت کی ڈفلیاں بجاتی  رہی ہیں ۔ پاکستان آئی ایم ایف کا کئی دہائیوں سے قیدی ہے ۔ اور اس وقت ملکی معیشت مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ، ایسے میں کشمیر سے دوقومی نظریے کے احیا کی ندا آئی ہے کہ اگر کشمیر کے لیڈروں نے ابتدا ہی میں دوقومی نظریے کی صداقت کا ادراک کر لیا ہوتا تو کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا تاہم اس سلسلے میں جتنی جماعتیں ہیں اُتنی ہی باتیں ہیں ۔

دوقومی نظریے کی بنا پر پاکستان وجود میں آیا تو  برِ صغیر میں جگہ جگہ بکھری مسلمانوں کی ریاستیں عجیب ارضی منظر پیش کر رہی تھیں ۔ چنانچہ جموں سے کشمیر اور جونا گڑھ سےحیدر آباد دکن تک بکھری ہوئی مسلمان آبادیاں  کہ رہی تھی کہ اُتنے ہی مسلمان بھارت میں رہ گئے ہیں جتنے پاکستان میں ہیں ۔ گویا نظریے کا اطلاق پچاس فیصد ممکن ہوا تھا ۔ پھر پچیس سال کے سفر کے بعد مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان کو خیر باد کہا اور بنگلہ دیش بن گیا ۔ گویا دوقومی نظریے کی عملی تشکیل کی ایک نئی صورت ابھر کر سامنے آئی تھی ۔

ایسے میں جو سوال سب سے زیادہ طاقت ور تھا ، وہ یہ تھا کہ اگر برِ صغیر کے سارے مسلمان یک جا ہوتے تو  وہ کتنی بڑی اور فیصلہ کُن طاقت ہوتے ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ پاکستان میں بھی ہم پاکستانی کسی وحدت آشنا ملی رشتے میں منسلک نہیں ہیں ۔ ہمارے صوبائی تعصبات اتنے طاقت ور ہیں کہ ہم مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنا کر بھی  ان تعصبات سے گلو خلاصی نہیں کر پائے ۔ ہم پہلے پنجابی ، سندھی ، پٹھان اور بلوچ ہیں اور بعد میں پاکستانی ہیں اور جب ہم بنگلہ دیشی اور بھارتی مسلمانوں کو  دو قومی نظریاتی تناظر میں دیکھتے ہیں تو کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

اس وقت ہم کشمیر کی صورتِ حال پر حالتِ جنگ میں ہیں ۔ ففتھ جنریشن میڈیا جنگ جاری ہے ۔ سوشل میڈیا اپنے مورچوں پر لڑ رہا ہے ، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا  سیاست دانوں اور اینکروں کی زبان سے ہذیان میں مبتلا ہے اور طرح طرح کی تحریریں اور تصویریں جنم لے رہی ہیں جن سے فکری اُلجھاؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کا  ہر عام آدمی اور ہرسمندر پار پاکستانی اپنی اپنی جگہ ایک ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے  اور کوئی نہیں جانتا کہ اس صورتِ حال کو کسی مثبت سمت میں لے جا کر ملک کو کس طرح امن ، ترقی اور خوش حالی  کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتیں نیب کے خلاف اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اور کوئی ایسا سیاسی  آدمی دور دور تک نظر نہیں آتا جسے پاکستان سے اس طرح محبت ہو جیسی وہ اپنی سگی اولاد سے کرتا ہے ۔ پاکستان میں سیاسی بیانیہ اب سیاست سے نکل کر کھیل کی اصطلاحات میں پناہ گزیں ہے ۔ لیکن  سیاست میں  لوگوں کی روزی روٹی ، لباس ، گھر ، سکول اور طبی سہولتوں  کو اولیت حاصل ہے اور یہ حکمرانوں کی  پہلی سیاسی ترجیح ہے جب کہ  کھیلوں کی حیثیت ثانوی ہے ۔ حقیقی کھیل تو وہ ہوتے ہیں جنہیں بچے گھروں کے آنگنوں میں یا گلی محلوں میں بچوں سے مل کر کھلتے ہیں ۔ کرکٹ ، فٹ بال ، سکویش ، ٹینس اور گولف تو کھاتے پیتے متمول طبقوں  کے چونچلے ہیں جو اب سیاست کی طرح کمرشلائز ہو چکے ہیں اور کھیل سے زیادہ کاروبار بن چکے ہیں جن پر سٹّے بازی تک ہوتی ہے ۔

ہمارا موجودہ وزیرِ اعظم سیاست میں کھیل کی اصطلاحات رائج کرنے کا بڑا لمبا تجربہ رکھتا ہے ۔ وہ امریکہ سے ٹرمپ سے مل کر لوٹا تو ایسے خوش ہوا جیسے اُس  نے کرکٹ کے کپتان کے طور پر ورلڈ کپ جیتا ہو ، لیکن ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے ورلڈ کپ کوئی خوشی نہیں لاتا کیونکہ وہ رات کی روٹی کی فکر میں ہوتے ہیں۔ اور بھوک سے زیادہ بڑا مسئلہ کوئی نہیں کیونکہ یہ  انفرادی بقا کا مسئلہ ہے ۔ اور المیہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کھیلوں کی دنیا کا آدمی ہے جس نے فلاحی کام بھی کیے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں ہر شخص کے پاؤں بلا تخصیص مذہبی فرقہ و سیاسی وابستگی اُس کیچڑ میں دھنسے ہیں جسے کرپشن کہتے ہیں ۔

کرپشن لاقانونیت کی ناجائز اولاد ہے جسے ہم نے اسمبلیوں میں بٹھا رکھا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ تبدیلی آگئی ہے مگر یہ تبدیلی کیا ہے کوئی نہیں جانتا ۔ ایسے میں ہم حالات کے رحم و کرم پر ہیں اور ہم جو بہتر سالوں میں اپنے معاشی پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکے ، اب بھی کھڑے ہوتے نظر نہیں آتے ۔ اب یہ فیصلہ تقدیر کے قاضی نے لکھنا جو یہی ہو سکتا ہے :

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

loading...