گرین لینڈ میں ایسا کیا ہے جو امریکہ اسے خریدنا چاہتا ہے؟

  • جمعرات 22 / اگست / 2019
  • 750

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جزیرہ 'گرین لینڈ' خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ڈنمارک نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جزیرہ برائے فروخت نہیں ہے۔

شمالی بحر اوقیانوس اور بحر قطب شمالی کے درمیان واقع اس جزیرے کے حوالے سے بیان بازی کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک کا دورہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ بحر منجمد شمالی میں جیسے جیسے برف کی تہیں پگھل رہی ہیں اس خطے کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈنمارک کا یہ خود مختار جزیرہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ اور اس کی پانچ اہم ترین خصوصیات یہ ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس جزیرے کا نام 'گرین لینڈ' (سرسبز زمین) ہے لیکن حقیقت میں اس علاقے کا 85 فیصد رقبہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ گرین لینڈ 1953 تک ڈنمارک کی کالونی تھا جس کے بعد اسے باقاعدہ طور پر ڈنمارک کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1979 میں اسے ڈنمارک ہی کے زیر انتظام نیم خود مختار حیثیت دے دی گئی تھی۔ لیکن اب بھی اس کی معیشت کا  دار و مدار ڈنمارک پر ہی ہے۔ گرین لینڈ کی آبادی 55 ہزار افراد پر مشتمل ہے جن میں سے 17 ہزار دنیا کے اِس سب سے بڑے جزیرے کے دارالحکومت نووک میں  آباد ہیں۔

جنگ عظیم دوم سے ہی گرین لینڈ امریکہ کے دفاع کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔ یہاں سے نازی جرمنی کے جہاز اور آبدوزوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی تھی۔ امریکی فضائیہ نے 1943 میں گرین لینڈ کے ساحلی علاقے تھولے میں اپنا ایئر بیس بنایا تھا۔ اس بیس سے سرد جنگ کے زمانے میں روس کی نگرانی کی جاتی تھی۔ اب یہ فوجی اڈہ نیٹو کے زیر انتظام ہے جہاں 600 افراد کا عملہ تعینات ہے۔ یہاں سے سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور اسٹریٹجک میزائل سسٹمز کی نگرانی کی جاتی ہے۔

جیسے جیسے قطب شمالی میں برف پگھل رہی ہے اور ممکنہ بحری راستے بن رہے ہیں، اس خطے میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ روس اس خطے میں کافی متحرک ہے جبکہ اس کا اس علاقے میں کسی زمینی خطے پر دعویٰ بھی نہیں ہے۔ اسی طرح چین بھی اس علاقے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ چین کے جہاز قطب شمالی کے بحری راستوں سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے۔ چین نے آرکٹک خطے کے ذریعے تجارت کے فروغ 'پولر سلک روٹ' کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

بیجنگ نے 2004 میں گرین لینڈ میں تحقیق کے لیے سائنٹیفک مشن بھیجا تھا جبکہ ایک چینی کمپنی یہاں کان کنی کا اجازت نامہ بھی حاصل کر چکی ہے۔ گزشتہ برس چین کے ایک گروپ نے گرین لینڈ میں تین ایئر پورٹ بنانے کی بھی پیشکش کی تھی۔ اس گروپ کو چینی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ اس پیشکش کے بعد ڈنمارک اور امریکہ بھی چونکنے ہو گئے تھے۔ تاہم گرین لینڈ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی کیونکہ ڈنمارک اور امریکہ نے گرین لینڈ کو مدد کی یقین دہانی کرائی تھی۔

زمین کا یہ بڑا سا قطعہ آرکٹک کے برف کے پگھلنے کی وجہ سے سمندر کی صورت اختیار کر رہا ہے اور اس جزیرے کو باقی دنیا کے مقابلے میں عالمی حدت کا دُگنا سامنا ہے۔ ورلڈ میٹرو لوجسٹ آرگنائزیشن کے مطابق گرین لینڈ کے گرد پانی کی سطح سالانہ تین اعشاریہ تین ملی میٹر بلند ہو رہی ہے۔ اس جزیرے میں پانی کی سطح میں 1993 سے 2004 کے مقابلے میں 2004 اور 2015 کے درمیان بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اور یہاں سمندر کی سطح میں 25 سے 30 فی صد اضافہ نوٹ کیا گیا۔

گرین لینڈ میں برف کی پرتوں کے پگلنے کی رفتار میں 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو 20 سال قبل کے مقابلے میں پانچ فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر گرین لینڈ کی تمام برف کی پرتیں پگھل جائیں تو اس سے پانی کی سطح میں 23 فٹ تک اضافہ ہو جائے گا۔

ایک جانب گرین لینڈ کی برف پانی میں تبدیل ہو رہی ہے تو دوسری جانب یہاں کچھ قدرتی خزانے بھی پوشیدہ ہیں۔ اس خطے میں تیل، گیس اور معدنیات کے بڑے ذخائر ہیں جبکہ سمندری حیات یعنی مچھلیاں، کیکڑے اور دیگر بھی یہاں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ گرین لینڈ کی زمین میں سونا، یورینیم اور قیمتی پتھر بھی موجود ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے یہاں موجود لوہا، المونیم، تانبے، پلاٹینیم، ٹیٹینیم اور دیگر دھاتوں کے ذخائر توجہ کا مرکز ہو سکتے ہیں۔

اس خطے میں پگھلے ہوئے گلیشیئرز کی تہوں میں ایسی مٹی اور پتھر ہو سکتے ہیں جو کہ خشک خطوں جیسے افریقہ اور جنوبی امریکہ میں بطور کھاد استعمال کیے جا سکیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ خریدنے کی بات امریکہ کی جانب سے پہلی بار نہیں کی گئی اس سے قبل بھی ایسا ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ سو سال قبل 1867 میں بھی امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اس جزیرے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے 1946 میں 10 کروڑ ڈالر کے سونے اور الاسکا کے کچھ علاقوں کے بدلے گرین لینڈ لینے کی پیشکش کی تھی۔

صدر ٹرمپ کو ہی اس پورے معاملے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ڈنمارک اس سے قبل واشنگٹن کو اپنی زمین فروخت کر چکا ہے۔ 1916 میں ڈنمارک کا ویسٹ انڈیز دو کروڑ ڈالرز سے زائد سونے کے عوض فروخت کیا گیا تھا۔ اب یہ خطہ یو ایس ورجن آئی لینڈ کہلاتا ہے۔

(بشکریہ: وائس آف امریکہ)

loading...