ایشیا پیسیفک گروپ نے انسداد منی لانڈرنگ پر پاکستان کی جائزہ رپورٹ منظور کرلی

  • بدھ 21 / اگست / 2019
  • 370

وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) برائے منی لانڈرنگ نے پاکستان کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر پیش کردہ تیسری جائزہ رپورٹ منظور کرلی ہے۔

وزارت خزانہ کے ایک اعلامیے کے مطابق فروری 2018 سے اکتوبر 2018 کے دوران حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے اقدامات کی تفصیلی باہمی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک اے پی جی گروپ کا 22 واں سالانہ اجلاس آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں 18 اگست سے ہورہا ہے۔

اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کی، جہاں پاکستان کی تیسری باہمی جائزہ رپورٹ کو پیش کیا گیا، جسے ایشیا پیسیفک گروپ نے منظور کرلیا۔ خیال رہے کہ پاکستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی اس 'گرے لسٹ' سے نکلنےکے لیے یہ اقدامات اٹھا رہا ہے، جس میں اسے اگست 2018 میں ڈالا گیا تھا۔

اگرچہ اجلاس دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر ایف اے ٹی ایف کی  شرائط پر پاکستان کی کارکردگی سے براہ راست تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن اس کی جائزہ رپورٹ گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کی پوزیشن پر اثر ڈال سکتی ہے۔ 

پاکستانی وفد نے اے پی جی کو اپنے فریم ورک کی بہتری کے لیے  کیے گئے حالیہ  اقدامات اور ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر کامیابی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریف کیا۔ بحث کے دوران  انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی کوششوں میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق دوران اجلاس پاکستان نے دوطرفہ ملاقات میں دیگر رکن ممالک کو بریف کیا۔ علاوہ ازیں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے فنانشل انٹیلی جنس کے تبادلہ خیال کے لیے چین کے اینٹی منی لانڈرنگ مانیٹرینگ اور انالیسز سینٹر کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے۔

قبل ازیں ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایشیا پیسیفک گروپ مالیاتی اور انشورنس کے تمام شعبوں میں نظام کی بہتری پر پاکستان کی ترقی کا 5 سالہ باہمی جائزہ لے رہا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ اے پی جی میں جمع کروائی تھی۔

وزارت خزانہ کےعہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ اے پی جی کی جانب سے تقریباً 2 سال پر محیط جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو مکمل ہوجائے گا اور اس سلسلے میں حکومتوں کو ٹیکنالوجیز، رائج طریقہ کار اور جدید ترین تکینیک میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر مستقبل کے اہداف دیے جاتے ہیں۔

اے پی جی کا باہمی جائزے کا اگلا دور تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں 5 ستمبر کو ہوگا۔ اس میں ایف اے ٹی ایف کے منصوبوں اور ورکنگ گروپ کے 13 سے 18 اکتوبر کو پیرس میں طے شدہ اجلاس میں پاکستان کے لیے کیے جانے والے حتمی جائزہ لیا جائےگا۔

loading...