بھارتی جارحیت کا خطرہ ہے: شاہ محمود قریشی

  • ہفتہ 17 / اگست / 2019
  • 390

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو حیارن کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جارحیت کر سکتا ہے۔

خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارتی عزائم سے آگاہ کر رہے ہیں اور قوم مکمل طور پر جارحیت سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں گزشتہ روز کے اس بہت بڑے ایونٹ کا ذکر ہوا جس سے بھارت حیران رہ گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 دہائیوں بعد اس معاملے کو اٹھایا گیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کیا گیا جو بہت ہی حوصلہ افزا نشست تھے۔   بھارت کی بھرپور کوشش کے باوجود یہ اجلاس پاکستان کی کامیابی ہے۔

اجلاس کے دوران ہماری قانونی اور سفارتی حکمت عملی مرتب کرنے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں تمام اراکین نے مفید مشورے دیے ہیں۔  ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر پاکستان کی دیگر عالمی طاقتوں سے روابط نہ ہوتے تو اجلاس منعقد نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اجلاس منعقد نہ ہونے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں جانے سے متعلق وزیرخارجہ نے کہا کہ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی بات ہوئی ہے۔ وہاں جانے کے محرکات پر گفتگو ہوگی۔ ابھی یہ پہلا اجلاس ہے چیزوں کو میز پر لایا جارہا ہے۔ دنیا میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگرکیا جائے گا۔  دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ان میں کشمیر سے متعلق ایک ترجمان بھی رکھا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزارت خارجہ میں کشمیر سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس سے متعلق وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ سیل کشمیر کے امور پر کڑی نظر رکھے گا۔  شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہمیں ہندوستان سے آوازیں آرہی ہیں کہ مودی نے نہرو کے بھارت کو دفن کردیا اور ایسا ہی بھارت دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت ڈوول ڈاکٹرائن پر عمل کر رہا ہے جس کے تین کردار ہیں۔ ان میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول شامل  ہیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے اب بھارت میں بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ انہوں خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ تاہم قوم تیار رہے، ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کسی بھی طرح کا مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو قوم کی مدد سے پاک فوج منہ توڑ جواب دے گی۔  

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری کارروائیاں پاکستان کی مدد سے کی جارہی ہیں۔ تاہم خدشات ہیں کہ بھارت پلوامہ جیسی کارروائی کرسکتا ہے جس کی بنیاد بنا کر وہ پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی عسکری کارروائی ہوتی ہے تو وہ ان کی ناکامی ہوگی۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارت مظالم اب دنیا کی نظر میں آچکے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان کی سرزمین سے اگر پلوامہ جیسی کارروائی ہوتی ہے تو یہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن پاکستان ایسے پروپگینڈے کو مسترد کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب سے عسکری کارروائیاں کی جارہی ہیں۔  ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ کسی زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ اس پر دنیا کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

آج وزیر اعظم کی ہدایت پر بنائی گئی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے برائے امور خارجہ کے چیئرمین مشاہد حسین سید، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سید فخر امام، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، ممبران خصوصی کمیٹی، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر سول و عسکری قیادت شریک ہوئی۔

loading...