پاکستان کی بھارتی جوہری پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی مذمت

  • ہفتہ 17 / اگست / 2019
  • 460

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے بھارت کی جوہری ہتھیاروں کو پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی (این ایف یو) کو تبدیل کرنے کے اشارے کو غیر ذمہ دارانہ اور بدقسمتی قرار دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بھارتی وزیر دفاع کے بیان کا لب لباب اور وقت انتہائی غلط اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویے کا عکاس ہے‘۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان نے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی بھارتی پالیسی کو مزید آشکار کردیا ہے جس پر پاکستان نے کبھی اعتبار نہیں کیا۔

خیال رہے کہ راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد دونوں حریف ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیشِ نظر ایک خط کے ذریعے بھارتی 'این ایف یو' پالیسی میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں کو ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنادیا ہے۔

خط میں بھارتی وزیر دفاع نے لکھا تھا کہ ’بھارت اب تک جوہری ہتھیاروں کو پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔ تاہم مستقبل میں کیا ہوگا اس کا انحصار حالات پر ہے‘۔ واضح رہے کہ این ایف یو پالیسی کا مطلب وہ عہد ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کرتی ہے کہ ان کا استعمال صرف جوہری حملے کے ردِعمل کے طور پر کیا جائے گا۔ تاہم پاکستان کو ہمیشہ بھارت کی این ایف یو پالیسی کے حوالے سے شکوک و شبہات رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان شکوک و شبہات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب 2003 میں بھارت نے این ایف یو سے متعلق نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں 2 حکم امتناع شامل کر لیے تھے جس کے مطابق بھارت، پوری دنیا میں کہیں بھی اس کے مفادات پر بڑے حملے یا کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شرط سے جوہری ہتھیاروں کو پہلے نہ استعمال کرنے کی پالسی غیر موثر ہو چکی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’این ایف یو ناقابل اعتبار ہے اور اسے اہمیت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک لحاظ سے تحمل کی پیشکش کو دہرایا اور کم سے کم قابل یقین دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔

اس بارے میں جوہری ہتھیاروں کے ماہر اور اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینئر فیلو محمد علی کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے اس قسم کا امکان ظاہر کیا گیا ہو۔ بھارتی این ایف یو پالیسی میں ممکنہ تبدیلی پر کچھ عرصے سے کام ہو رہا ہے۔

loading...