محکوم پاکستان میں آزادی کشمیر کی بلند بانگ باتیں

اہل پاکستان نے آج 73 واں یوم آزادی منایا۔ اس بار حکومت نے اس دن کو اہل  کشمیر کے ساتھ یوم  یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا لہذا ملک بھر میں بلکہ ملک سے باہر جہا ں جہاں پاکستانی باشندوں  موجود ہیں ، اس روز کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ان تقاریب میں  کشمیر کی آزادی  اور مقبوضہ وادی  میں بھارتی  مظالم کا خاص طور سے ذکر کیا گیا۔

ان میں سب سے بلند آہنگ آواز وزیر اعظم  عمران خان کی تھی  جنہوں  نے اس موقع پر  آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیا۔   انہوں نے  ایک طرف  یہ اطلاع فراہم کی  بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے اور واضح کیا کہ   پاکستان،  بھارت  کو  اینٹ کا جواب  پتھرسے  دے  گا۔  انہوں نے دنیا بھر میں کشمیر کا سفیر بننے اور کشمیر کاز کو سامنے لانے کا عندیہ بھی  دیا۔ عمران خان کا خیال ہے کہ  نریندر مودی کی حکومت  نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آخری پتہ کھیل لیا ہے جو اس کی اسٹریٹجک غلطی ہے۔ اب کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔ انہوں نے مودی اور ان کی جماعت کے انتہا پسندانہ ہندو  نظریات کو بھی شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور متنبہ کیا کہ کشمیر کے بعد یہ ہندو انتہا پسندی  پاکستان کا رخ کرسکتی ہے۔ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے  لئے تیار رہنا چاہئے۔  انہوں نے کہا  کہ ’مودی میں آپ کو بتادوں کہ ہم آپ کے خلاف آخر تک جائیں گے۔ آپ پاکستان کو سبق سکھانے کا کہتے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم آپ کو سبق سکھائیں گے‘۔

وزیر اعظم کا خطاب پرجوش  ضرور تھا لیکن پر مغز نہیں تھا۔ ان کی باتوں سے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ وہ بھارت کی انتہا پسندی سے دنیا کو متنبہ کررہے تھے یا بھارتی قیادت کو عقل کے ناخن  لینے اور پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات سے گریز کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ وہ پوری دنیا سے شکایت کررہے تھے کہ وہ  کشمیر میں  بھارتی جبر کے خلاف  آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے  یا یہ اعلان کررہے تھے کہ اب عالمی رائے عامہ کو  بھارت  کی کشمیر پالیسی کے خلاف تیار کیا جائے گا۔   انہوں نے  کہا کہ ’اگر اس علاقے میں جنگ ہوتی ہے تو عالمی طاقتیں اور ادارے اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ کیوں کہ وہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادیں نافذ کروانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی آواز سننی چاہئے جو اقوام متحدہ سے یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ بھارت کے خلاف اقدام کرے گا کیوں کہ بھارت نے ایک کروڑ کشمیریوں کو قیدی بنا رکھا ہے‘۔  عمران خان یہ  دعویٰ کرتے ہوئے  دنیا کو   دھمکی دے رہے تھے یا اس سے تعاون  اور مدد طلب کررہے تھے؟

دو روز پہلے  عمران خان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  اقوام متحدہ اور مسلم امہ کے بارے میں  واضح کرچکے ہیں کہ  پاکستان  سلامتی کونسل میں کشمیر کا معاملہ اٹھانے کی کوشش تو کررہا ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کون سا ملک بھارت کے خلاف قرارداد کو ویٹو کردے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہاں کوئی پھولوں کے  ہار لے کر نہیں کھڑا ہے ۔ اس لئے پاکستانیوں کو احمقوں  کی جنت میں نہیں رہنا چاہئے ۔ مسلم امہ کے بارے میں  شاہ محمود قریشی کا یہ فرمانا تھا  کہ’ ان کے مفادات  ایک ارب سے زائد آبادی والے بھارت کے ساتھ  وابستہ ہیں۔ انہوں نے وہاں کثیر سرمایہ کاری کی ہوئی ہے‘۔    پانچ اگست کو بھارتی  حکومت کے اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی پابندیوں کے خلاف ڈیڑھ ارب نفوس پر مشتمل   ’مسلم امہ‘ سمیت دنیا بھر میں کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ پاکستانی لیڈروں کی باتیں خود اپنی ہی سماعت سے ٹکرا کر واپس آرہی ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم نہ  جانے اقوام متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے کون سی امہ کی باتیں  کرتے ہیں۔

وزیر اعظم یا حکومت پاکستان کو تو ابھی تک یہ بھی  علم نہیں ہے کہ وہ  اقوام  متحدہ کی جن  قراردادوں کی دہائی دیتے ہوئے ، ان پر عمل کرنے کا جو مطالبہ کررہے ہیں  وہ کس کے حق کی تکمیل کا معاملہ ہے؟ کیا یہ مطالبہ کشمیریوں کے حق خود اختیاری کے لئے کیا  جارہا ہے؟  یا اس مطالبہ کا مدعا  یہ ہے  جو دسترس بھارت کو اس وقت مقبوضہ کشمیر پر حاصل ہے ، وہ در حقیقت پاکستان کو حاصل ہونی چاہئے کیوں وہاں پر اتفاق سے مسلمان اکثریت میں  ہیں۔  اگر اس دعوے کو درست مان لیا جائے  تو کشمیریوں کے نقطہ نظر سے وہ بھارت کی  غلامی  سے پاکستان کی  ’محکومی‘ میں منتقل ہو کر کون سی آزادی سے مستفیض ہوسکیں گے؟

یہ  مطالبہ   اگر اس اصول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ کسی بھی خطے کے لوگوں کو ہی  اپنے علاقے کے بارے میں فیصلہ کرنے  کا حق حاصل ہے تو  پاکستان اس بات کا جواب کب  دے گا کہ کشمیر کا جو حصہ اس کے زیر انتظام ہے اور جس کی اسمبلی میں کھڑے ہوکر عمران خان نے آج نریندر مودی  کوکشمیریوں پر فیصلے  مسلط کرنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے  للکارا ہے، اس خطے کے لوگوں اور اس اسمبلی کو کتنی آزادی حاصل ہے؟

پاکستان آج تک  یہ واضح کرنے میں ناکام رہا ہے کہ جب  کشمیر ی عوام کے حق کی بات کی  جاتی ہے تو وہ مسلمانوں  کی حق تلفی کی بات کررہا ہوتا ہے یا جموں وکشمیر کے نام سے موسوم پورے خطے میں آباد کشمیریوں کے حق خود اختیاری کی بات کرتا ہے۔ اگر  اس علاقے کے لوگوں کی مرضی کے مطابق کشمیر کے نظم حکومت کی بات کی  جاتی  ہے تو     اسے کشمیریوں  کی حق تلفی کی بجائے  مسلمانوں کی حق تلفی  سے کیوں معنون کیا جاتا ہے؟ عمران خان کے پاس ان سوالوں کے کوئی جواب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے جو لب و لہجہ  اختیار کیا  اور جو طرز خطابت اپنایا ہے ،  اس سے بھارت کی صحت یا عالمی رائے پر تو کوئی اثر  مرتب نہیں ہو گا لیکن عمران خان کو امید ہے کہ اپنے ملک میں انہیں ’دبنگ، بے خوف اور نڈر  لیڈر‘ کی شہرت حاصل ہوجائے گی۔ داخلی ضروریات اور سیاست کے لئے جوش خطابت دکھانے والا لیڈر کشمیریوں  کا اچھا وکیل ثابت نہیں ہوسکتا۔

یوم آزادی  پاکستان کوکشمیریوں  کے ساتھ یک جہتی   کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس  فیصلہ کی روشنی  میں وزیر اعظم سمیت سب قومی سیاسی و عسکری لیڈروں نے  ’ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہنے  ‘ کا اعلان کیا ہے۔ کیا گزشتہ ستر بہتر سال سے اسی قسم کے اعلان ہر قومی لیڈر اور فوج کا ہر سربراہ   وقتاً فوقتاً جاری نہیں کرتا رہا۔ ان 70 برسوں  میں   دیے گئے بیانات کو جمع کیا جائے تو کئی ٹن وزنی دستاویز تیار ہوسکتی ہے لیکن عملی سیاسی حقیقت حال میں ان کا جائزہ لیاجائے تو ان کی حیثیت پر کاہ سے بھی کمتر ہوگی۔   حقیقت میں ان بیانات کی بھی وہی حیثیت ہے جوبقول  جنرل قمر جاوید باجوہ    کشمیریوں  کے خصوصی حقوق   ختم کرنے  کے لئے  بھارتی صدر کے جاری کردہ فرمان  کی ہے۔ یعنی وہ  محض کاغذ کا ایک پرزہ ہے۔  کیا کبھی  پاکستانی لیڈر یہ غور کرپائیں گے کہ  اس کی وجہ کیا ہے۔ کیوں  ان کی باتیں،  ان کے عملی اقدامات اور پالیسی  کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان 70 برس گزرنے کے بعد بھی اقوام متحدہ کی ان ہی قراردادوں کی دہائی دے رہا  ہے  جو بھارت ہی کی درخواست پر منظور کی گئی تھیں؟

یوم آزادی پر اگر اپنے وطن میں آزادی   اور انسانوں  کی  حق  تلفی  پر نگاہ  دوڑا لی جائے  تو یہ دعویٰ سراب ثابت ہو گا کہ پاکستان کے لوگوں کو آزادی میسر ہے۔  وہ تو غربت  اور لاچاری  کے ہاتھوں  محکومی کی زندگی گزار رہے ہیں۔  جب وہ اپنی حالت بدلنے  کی بات کرتے ہیں تو چند نعرے اور  وعدے انہیں تھما دیے جاتے ہیں۔ وہ نعرے لگا لگا کر تھک جاتے ہیں  لیکن وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے۔ کشمیر کی آزادی بھی ان نعروں میں سے ہی ایک ایسا  نعرہ ہے جس کی بنیاد پر ان سے وہ وسائل بھی چھینے جاتے رہے ہیں جو قومی ترقی اور انسانوں کی ضرورتوں  پر صرف کرنے کی ضرورت تھی۔

بھارت کے زیر  قبضہ ایک خاص علاقے کی آزادی کا مطالبہ اور وہاں انسانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم و جبر کا قصہ کرنے سے پہلے کیا کوئی  یہ سوچنے کی کوشش کرتا ہے کہ بلوچ عوام روز اول سے کون سا مطالبہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے  ناراض ہیں۔ پشتون تحفظ  تحریک کا  ایسا کیا قصور ہے  کہ اس  کے لیڈروں کی  زباں بندی کی جاتی ہے۔سندھ  کے لوگ کن معاملات پر مرکز  اور اس حوالے سے پنجاب سے ناراض رہتے ہیں۔ کون سا علاقہ ہے جو حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے خوش ہے اور یہ اعلان کرتا ہے  کہ  مرکز دیانت داری سے ان کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور  ان کے حصے  کے وسائل انہیں فراہم کئے جاتے ہیں؟

ملک میں جمہوری حکومت ہے لیکن وہ کسی سیاسی مخالف کو  بنیادی آزادیاں دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کا ہر سابقہ لیڈر کرپٹ اور اقتدار تک پہنچنے والا ہر سیاست دان دودھ کا نہایا ثابت ہوتا  ہے۔ وزیر اعظم عمران خان خود عالمی فورمز پر  سابقہ پاکستانی لیڈروں کو بدعنوان اور ملک دشمن قرار دے چکے ہیں۔ سابق صدر، وزرائے اعظم ، اسمبلی کے اسپیکر، قومی اسمبلی کے ارکان کو قید میں ڈال کر  انصاف کا ڈول ڈالنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔  لیکن کسی کو یہ سوچنے کی  مہلت نہیں ہے کہ دنیا  ایک ایسے ملک کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی جس کے سب سابقہ لیڈر ’چور‘ تھے ۔ اور اس حکومت کو کیا نام دیا جاتا ہوگا جو اپنی دیانت ثابت کرنے کے لئے  سیاسی مخالفین کو بدیانت اور لٹیرا ثابت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

ہر جمہوریت پسند اور انسان دوست کشمیر کی آزادی  کا  حامی ہے لیکن    ذہنی، فکری ، معاشی، سیاسی اور معاشی طور سے محکوم قوم کس طرح کسی دوسری قوم کو آزاد کروانے کا سبب بن سکتی ہے؟

loading...