مسئلہ ِکشمیر: جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے

سڈنی کے جس علاقے میں، میں مقیم ہوں ا س میں لبنان اور عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔  اس علاقے (گرین ول) میں واقع مسجد النور میں دُنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نماز اد کرتی ہے۔

اس مسجد کی انتظامیہ عربوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اس مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینے کی لیے مختلف علما  کو موقع دیا جاتا ہے۔ اس جمعتہ المبارک میں جس عالم نے خطبہ پیش کیا ان کا تعلق  لبنان سے تھا۔ انہوں نے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا  کہ ’اُمّت مسلمہ کس طرح عید کی خوشیاں منا سکتی ہے جب کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر بہیمانہ ظلم جاری ہیں۔ انہیں جانوروں کی طرح گھروں میں  قید کر دیا گیا ہے۔ ان کی ہر قسم کی آزادی سلب کر لی گئی ہے۔ حتّی کہ ان کی جان، مال اور عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں ظلم کا شکار مسلمانوں کی حالت زار ہمارے سامنے ہے۔ کیا ہمیں خاموش تماشائی بنے رہنا چائیے اور ان مظلوموں کو نظر انداز کر کے خوشیاں منانا چائیے‘۔

  خطبے کے دوران سینکڑوں نمازیوں کے چہروں پر درد و الم کی کیفیت تھی۔ وہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کا دُکھ محسوس کر رہے تھے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کلمہ گو اپنے مسلمان بہن بھائی کی تکلیف نظر انداز کر دے۔جس طرح پاکستانی مسلمان فلسطین اور روہنگیا  کے مسلمانوں کا درد رکھتے ہیں، مجھے یقین ہے دُنیا بھر کے مسلمان کشمیریوں کا دُکھ بھی ویسے ہی محسوس کرتے ہیں۔وہ ان مظلوموں کے لیے دُعائیں مانگتے ہیں۔لیکن ان عام مسلمانوں کا احساسِ رنج اوران کی آوازنہ تو مظلوموں تک پہنچتی ہے اور نہ دُنیا تک اس کی رسائی ہے۔کیونکہ یہ کام ان کی حکومتوں کا ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات کو متعلقہ فریق اور عالمی پلیٹ فارم تک پہنچائیں۔

جمہوریت کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ حکومتوں کو عوام کے جذبات کا خیال رکھنا پڑتا ہے جیسا کہ ترکی کے صدر طیب اردوان نے کشمیریوں کے حق میں واضح بیان دے کر اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔جمہوری حکومتیں ایسا کوئی کام کرنے سے اجتناب کرتی ہیں جو عوامی جذبات کے منافی ہو۔ بدقسمتی سے بیشتر مسلمان ملکوں میں جمہوریت نہیں ہے لہذا وہ کشمیر کے مسئلے کو عوامی جذبات اور اسلامی اخوّت کے جذبے سے نہیں بلکہ تجارتی اور معاشی نقطہ ِ نظر سے دیکھتے ہیں۔بیشتر مسلمان ملکوں میں بادشاہت قائم ہے۔ وہاں کی حکومتیں، حتّی کہ بادشاہ اور اس کے خاندان کے بے شمار افراد بھارت سمیت متعدد ملکوں سے تجارتی اور معاشی روابط ہیں۔ کشمیر، فلسطین یا دوسرے مظلوم مسلمانوں سے جذبہِ ہمدردی اور ان کی اخلاقی، سفارتی اور مالی اعانت سے زیادہ اُنہیں اپنا معاشی مفاد عزیز ہے۔ کسی مسلمان ملک کو پاکستان میں اپنا مفاد نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب ایک اُبھرتی ہو ئی معیشت بھارت سے ان کو بہت سا تجارتی اور معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔لہذا وہ دیدہ و دانستہ مسئلہ  ِ کشمیر اور اس کی مظلوم عوام کی طرف سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ایسے میں ان حکومتوں سے کسی بڑی اور واضح اعانت اور ہمدردی کی توقع عبث ہے۔ کوششیں جاری رکھنا بہرحال ضروری ہے۔ کیونکہ کچھ نہ کرنے سے  کچھ کرنابہرحال بہتر ہے۔

دوسری اور سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ پاکستان معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ اگر ایسا ہوجائے تو  اپنی  جٖغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اقوامِ عالم میں وہ وہی اہمیت اختیار کر سکتا ہے جو قیام ِ پاکستان کے پہلے چند عشروں کے دوران اسے حاصل تھی۔ وہ وقت بھی تھا جب پاکستان امریکہ جیسے ملک کو  dictation  دینے کی پوزیشن میں تھا۔ جب وہ سیٹو، سنٹو اور آر سی ڈی جیسی اہم بین الاقوامی تنظیموں کا انتہائی اہم رکن تھا۔ جب چین کی خارجہ پالیسی مرتب کرتا تھا۔ جب سعودی عرب، یو اے ای دیگر کئی اسلامی ممالک کا سرپرست اور مربی تھا۔ جب آپ کے صدر کا استقبال امریکہ میں صدر اور اس کی تمام کابینہ کرتی تھی۔ جب سبز پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا میں عزت و توقیر تھی۔ اب ہم جس معاشی صورتِ حال سے دوچار ہیں اس میں تو دوست ملک بھی مدد کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ان حالات میں دنیا سے ہمدردی اور سیاسی اعانت حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ لہذا معیشت کی بہتری ان مسائل کی کنجی ہے۔

کشمیر کے مسئلے میں مسلمان ملکوں کی اعانت حاصل کرنے کا  ایک طریقہ یہ بھی ہے (جس پر آج تک توجہ نہیں دی گئی)کہ ان ملکوں کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔ مسلمان ممالک کے عوام کو کشمیریوں سے پوری ہمدردی ہے۔ وہ ان کے دکھ درد پر کڑھتے ہیں۔ امّتِ مسلمہ کی  اس عوامی ہمدردی اور ان کے دکھ کو اپنی طاقت بنانے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے عوام کے یہ جذبات ان کے حکمرانوں کو سوچنے اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیں۔اس مسئلے میں ان ملکوں میں رہنے والے پاکستانی، ہمارے سفارت کار اور علما خصوصی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جس طرح تبلیغی جماعت والے تبلیغ کے لیے ملکوں ملکوں جاتے ہیں  اس طرح ہمارے علما اسلامی ممالک میں جائیں۔ وہاں کے عوام اور خصوصاََ علما سے ملیں اور کشمیر کے مظلوم عوام کی حالتِ زار سے انہیں آگاہ کریں۔

 ذرا سوچیں اگر پینتالیس مسلمان ملکوں میں علما  جمعے کے خطبے میں کشمیری مسلمانوں کو درپیش تکالیف سے نمازیوں کو آگاہ کریں۔خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی سمیت دنیا کی بڑی بڑی مسجدوں میں ان مظلوموں کے لیے دُعا  مانگی جائے تو کتنے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کو اس مسئلے سے نہ صرف آگاہی حاصل ہو گی بلکہ ان کی ہمدردیاں بھی حاصل ہوں گی۔ہو سکتا ہے ان مقدس مقامات میں مانگی جانے والی دُعا ئیں ہی رنگ لے آئیں اور باری تعالیٰ ان مظلوموں کے مسائل حل کر دے کیونکہ اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ وہ کبھی بھی اور کسی کی بھی سن سکتا ہے۔عوامی رابطوں کے اس عمل سے پاکستان او ردیگر اسلامی ممالک کے عوام کے درمیان اسلامی اخوّت و محبت مزید پروان چڑھے گی۔ جس کا فائدہ پاکستان سمیت تمام اُمّتِ مُسلمہ کو ہو گا۔

 آخری تجویز یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان اور کشمیری عوام کی پیٹھ میں جس طرح چھرا گھونپا ہے اور کشمیر یوں کی ستر سالہ جدوجہد، لاکھوں جانوں کی قربانیوں اور سب سے بڑھ کر کشمیریوں کے جذبات کے ساتھ جو بے رحمانہ کھیل کھیلا ہے ا س کے جواب میں پاکستان کی طرف سے جارحانہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے وزیرِ خارجہ کا موجودہ رویّہ انتہائی مدافعانہ ہے جو  ناکافی ہے۔ اس کے لیے وزیرِاعظم عمران خان کو خود میدان میں اُترنا پڑے گا۔ ان کی تقاریر فی البدیہہ، انداز موثر اور شخصیت کرشماتی ہے۔ بین الاقوامی دنیاان کی بات سنتی اور اثر لیتی ہے۔ وہ اہم ممالک میں جاکر ملاقاتیں کریں، انٹرویو دیں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کریں۔ اس طرح اپنی ان صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دُنیا کو اس اہم انسانی مسئلے کی طرف متوجہ کریں۔ آخر کب تک ہم امن کا راگ الاپتے رہیں گے۔ اب تو پانی سر بلند ہو چکا ہے۔ اب بھی کچھ نہیں کریں گے تو شاید ہمیشہ کے لیے دیر ہو جائے اور اب تک کی ساری قربانیاں ضائع جائیں۔

loading...