ملک بھر میں یوم آزادی کی تقریبات، کشمیریوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی

  • بدھ 14 / اگست / 2019
  • 610

پاکستانی عوام آج 14 اگست 2019 کو اپنا 73 واں یوم آزادی انتہائی جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

پرچم کشائی کی مرکزی تقریب اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منقعد ہوئی جس میں صدر مملکت عارف علوی نے پرچم لہرایا۔ تقریب میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سمیت پارلیمنٹ کے دیگر اراکین، ملک کی سول اور اعلیٰ فوجی قیادت، غیر ملکی سفیر اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت پر یوم آزادی کی مناسبت سے سبز ہلالی پرچم لہرا گیا۔ پرچم کشائی کی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور دیگر معزز ججز شریک تھے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیراعلی سردار عثمان بزدار نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی۔ دونوں عہدیداروں نے مفکر پاکستان علامہ اقبال کے مزار پر حاضری بھی دی۔ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب نے علامہ اقبال کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

لاہور ہائی کورٹ میں یوم آزادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے دیگر ججز کے ہمراہ عدالت عالیہ کی عمارت پر پرچم لہرایا۔

اس کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوئیں جس میں ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ پشاور میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات نے پرچم لہرایا۔  کوئٹہ میں پرچم کشائی کی تقریب بلوچستان اسمبلی کے سبزہ زار میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پرچم لہرایا۔

بھارت کے شہر نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن میں یوم آزادی کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب کا انعقاد کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔ نئی دہلی میں تعینات قائم مقام ہائی کمشنر سید حیدر شاہ نے پاکستان کا پرچم لہرایا اور تقریب کے شرکا کو یوم آزادی کے حوالے سے مبارک باد پیش کی۔

دنیا کے دیگر ممالک میں قائم سفارت خانوں اور قونصلیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں۔

پاکستانی اپنے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشیمر کے طور پر منا رہے ہیں۔ دن کا آغاز مساجد میں نماز فجر کے بعد وطن عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعاؤں سے ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بھارتی غلامی سے نجات کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں، کوئٹہ، کراچی، لاہور اور پشاور سمیت گلگت اور مظفر آباد میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

loading...