تنازعہ کشمیر: سرحد کے دونوں طرف کوئی سچ دیکھنا اور سننا نہیں چاہتا

مقبوضہ کشمیر میں  نقل و حرکت اور مواصلاتی رابطوں پر مکمل پابندیوں کے دس روز مکمل ہونے والے ہیں  لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے  فوری طور پر ریلیف مہیا کرنے کے لئے کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس دوران پاکستان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنے اس بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ پاکستانیوں کو  مسئلہ کشمیر کے آسان حل کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ یہ مشکل اور صبر آزما جد و جہد ہے۔

نئی دہلی میں سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے کانگرسی لیڈر  تحسین پونا والا کی درخواست پر سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی کردی ہے اور کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو حالات پر قابو پانے کے لئے  مزید وقت درکار ہے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس  ارون مشرا نے درخواست گزار کی وکیل  مانیکا گروسوامی  کی اس  دلیل سے اتفاق نہیں کیا  کہ ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ عدالت اسپتالوں کی سہولت بحال کرنے اور اسکول کھولنے کا حکم دے‘۔  جسٹس مشرا کا کہنا تھا کہ ’صورت حال بہت حساس ہے ۔ اگر کوئی حکم دینے  سے کل کوئی بڑا سانحہ  رونما ہوجاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا‘ ۔  اٹارنی جنرل  کے کے وینو گوپال نے   عدالت کو یقین دہانی کروائی  کہ’ کشمیر میں حالات  دھیرے دھیرے بہتر ہورہے ہیں۔ حکومت انسانی حقوق کا تحفط یقینی بنانے کی پوری کوشش کرے گی‘۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے سماعت دو ہفتے  کے لئے مؤخر کردی۔ بھارتی    حکومت کے بعد سپریم کورٹ بھی    خود پیدا کئے ہوئے حالات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کررہی ہے لیکن تاریخ کے سامنے  سب کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے 15 ملین کشمیریوں پر 4 اگست سے عائد کی گئی پابندیوں  کو ختم کرنے کا  کوئی حکم جاری کرنے سے انکار، بھارتی  نظام  کی  سفاکی کا ایک اور پہلو سامنے لاتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ  کشمیر اور مسلمان اقلیت کے حقوق کے بارے میں اٹھائے گئے معاملات  پر رائے زنی یا مداخلت کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔ حالانکہ جب اہم سیاسی  فورمز پر انتہاپسند ہندو جماعت کا تسلط ہے تو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پر اقلیتی باشندوں کے حقوق کا تحفظ کرنے  کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے ابھی تک شق 370 اور کشمیری شہریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت  بھی مؤخر کی ہوئی ہے۔ حالانکہ  اس آئینی شق  کو ایک صدارتی حکم  کے تحت منسوخ کیا گیا ہے ۔ اور حکومت نے ایک عام قانونی بل کے ذریعے  کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں بانٹنے اور وہاں کے شہریوں کے حقوق محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متعدد قانون دان یہ سوال اٹھا چکے ہیں  کہ یہ شقات  آئین کے مروجہ طریقہ کے مطابق ختم  نہیں کی گئیں۔  یہ طریقہ   آئین  کی  خلاف ورزی کے مترادف  ہے اور اس سے ملک کا جمہوری نظام متاثر ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ ابھی تک   اس   شکایت پر غور کرنے سے انکار کررہی  ہے  کہ کسی خطے  میں آباد ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو گھروں میں بند کرکے اور ان سے رابطہ کے تمام طریقوں کو مسدود کرکے  کوئی بھی حکومت کیسے  ان کے بارے میں ایسے فیصلے کرسکتی ہے جو انہیں  قبول نہیں ہیں۔  

حالیہ فیصلوں کے بعد کشمیری عوام  اور ان کے لیڈر یہ واضح کرچکے ہیں  کہ ملک کے سیاسی ادارے،  ان کے حقوق کو غصب کرنے کا سبب بنے ہیں اور ریاست کو تقسیم کرنے اور   شہریوں کے خصوصی حقوق ختم کرنے  کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ مودی سرکار البتہ فوجی طاقت کے زور پر  یہ فیصلہ مسلط کرنے اور کشمیریوں  کی  خواہشات کو مسترد کرنے  کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ عدالت نے مودی حکومت کو مزید دو ہفتے کی  مہلت دی ہے کہ وہ  اس دوران حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرلے۔ حالانکہ کشمیر میں مسلط کیا جانے والا لاک ڈاؤن  ہی دراصل مسئلہ  کی جڑ ہے۔ یہ بات معمولی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے  کہ  اگر نئی دہلی حکومت کو کشمیری عوام کے چھوٹے سے گروہ کی جانب سے بھی سیاسی حمایت کا یقین ہوتا تو ریاست میں اس قدر سخت پابندیاں  عائد کرنے کی کوشش  نہ کی جاتی۔   کشمیر کے حالات اس قدر سنگین ہیں  کہ  حکومت   مقبوضہ وادی کے علاوہ  ہندو اکثریتی علاقے جموں  میں بھی ہر قسم  کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے پر مجبور ہوچکی ہے۔

بھارت میں سامنے آنے والے حالات یہ واضح کرتے ہیں  کہ سیاست دان ہی نہیں بلکہ   جج بھی  معاملات کو سمجھنے اور  کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے سے  گریز کو ہی مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں کی پابندیوں اور  صورت حال کے بارے مسلسل جھوٹ بولنے سے  یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا اور کشمیریوں کو نئے سیاسی انتظام اور  کم تر شہری درجے کو تسلیم  کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔  مقبوضہ کشمیر  ایک ارب  تیس کروڑ آبادی کے ملک میں  مسلمان آبادی والی واحد ریاست  ہے۔  اسے تقسیم کرکے دراصل  اس علاقے کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کا خواب پورا کرنے کے علاوہ ایک ایسے علاقے کو ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں مسلمان اکثریت سے فیصلے  کرنے کا اختیار چھینا جارہا ہے۔  بھارت کی کوئی حکومت   آسانی سے  یہ مقصد حاصل نہیں کرپائے گا۔ اعتماد سازی کی بجائے کشمیری عوام کو یہ پیغام دیاگیا ہے کہ  انہیں فیصلوں میں شریک کرنے کی بجائے ان پر فیصلے مسلط  کئے جائیں گے۔ اس انسانیت کش اور غیر جمہوری طرز عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بے چینی  اور ناراضگی کی ہلاکت خیزی کا اندازہ کرنا بھی ممکن  نہیں  ہے۔ لیکن بھارتی حکومت کے علاوہ سپریم  کورٹ بھی  یہ  نوشتہ دیوار  پڑھنے سے انکار کررہی ہے۔

بھارت کی طرح  پاکستان میں بھی کشمیر اور بھارت  کے حوالے سے غیر حقیقت پسندانہ  سوچ عام ہے۔ 5 اگست کے فیصلہ کے بعد سے  پاکستان میں مسلسل جنگ جوئی اور ہر قیمت پر کشمیریوں کو ان کا حق لے کر دینے کی  بات زور شور سے کی جارہی ہے۔  گزشتہ روز پہلی بار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے  متنبہ کیا تھا کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں بلکہ اس موقع پر مسلح تصادم کی صورت میں بھارت کو  کشمیر کی صورت حال اور وہاں روا رکھے جانے والے مظالم سے  توجہ  منتقل کرنے کا موقع مل جائے گا۔   پاکستان کو ایسا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے۔  گزشتہ روز ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آزاد کشمیر کے دورہ کے دوران یہ تلخ حقیقت تسلیم کی ہے کہ  کشمیریوں  کے حقوق کے لئے ناسازگار ماحول میں سخت جد و جہد کی ضرورت ہوگی۔  پاکستان اس معاملہ کو اگرچہ سلامتی کونسل میں لے جانے کی کوشش کررہا ہے  لیکن وہاں مستقل ارکان میں سے کوئی بھی  بھارت کے خلاف قرارداد کو ویٹو کرسکتا ہے۔

موجودہ صورت حال میں یہ ایک دیانتدارانہ  بیان ہے۔ اسی طرح وزیر خارجہ کے اس بیان سے بھی انکار ممکن نہیں  ہے  کہ ’ ہم امہ اور اسلام کی بات تو کرتے ہیں مگر امہ کے محافظوں نے وہاں  بہت سی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔  وہاں ان کے مفادات ہیں ‘۔ شاہ محمود قریشی کی  یہ بات بھی درست ہے کہ بھارت  ایک  ارب 30 کروڑ   آبادی کا بڑا ملک ہے جس سے دنیا کے بیشتر ملکوں  کے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔  پاکستانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور حکومت کی کم ہمتی   قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ حقائق کی درست تصویر کو سمجھنے اور اس کے مطابق  حکمت عملی تیار  کرنا دانشمندی کا تقاضہ ہوتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کے بیان میں اس حقیقت پسندی کا مظاہرہ تو کیا گیا ہے لیکن  حکومت  مقبوضہ کشمیر میں تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا سامنا کرنے کے لئے  کوئی مناسب اور ٹھوس پالیسی سامنے لانے  میں کامیاب نہیں ہوئی۔ حتی کہ  گزشتہ ہفتہ کے دوران   پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قراردا د کے مسودہ پر بھی قبل از وقت اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت  محسوس نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم کسی تیاری کے بغیر پارلیمنٹ میں آئے اور پالیسی بیان دینے کی بجائے ایک جذباتی تقریر میں  عام لوگوں کے دلوں میں  بھارت پر کامیابی  حاصل کرنے کی نئی امنگ اور امید پیدا کرکے چلے گئے۔ اب  ان کے وزیر خارجہ عوام سے   کشمیر کے معاملہ میں صبر سے کام لینے اور طویل جد و جہد  کا مشورہ دے رہے ہیں۔

پاکستانی عوام اسی وقت حقیقی تصویر دیکھنے اور کشمیر یا بھارت کے بارے میں اپنا طرز عمل تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں گے  جب حکومت اپنی خارجہ پالیسی کو حقیقت پسندانہ بنائے گی اور  ایسی جذباتی کیفیت پیدا کرنے سے گریز کرے گی جس میں  کشمیر پر قبضہ کی غیر حقیقی امیدوں  کے چراغ روشن نہ ہوں۔ اس مقصد کے لئے  سب سے پہلے اپنی حدود اور کمزوریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ عرب ممالک پر   مالی مفادات کے  لئے بھارت کی حمایت کا الزام لگانے یا طعنہ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ان توقعات کو ختم کرنے سے  راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے جن  کی وجہ سے پاکستانی حکومت اور عوام  ہر دوست ملک سے غیر ضروری امیدیں وابستہ کرنے لگتے ہیں۔  جس طرح اس وقت چین شاہ محمود قریشی کی تمام  امیدوں کا مرکز بنا ہؤا ہے۔

حکومت   پاپولر نعروں  کی اسیر ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی تقریریں  اس کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ ایسے میں شاہ محمود قریشی عوام  سے کیسے صبر کرنے اور سچائی کو سمجھنے کی امید کرسکتے ہیں۔   شاہ محمود قریشی اگر ملک کی خارجہ   اور کشمیر پالیسی کو   قومی سلامتی کمیٹی  کے دائرہ کار سے  قومی اسمبلی میں لانے کا اہتمام کرسکیں تو یہی حقیقت پسندانہ  راستے پر پہلا قدم ثابت ہوگا۔ اگر یہ ممکن نہیں  ہے تو مزید سات دہائیاں  گزرنے کے  بعد کوئی نیا شاہ محمود قریشی لوگوں کو حقیقت پسند ہونے کا مشورہ دے رہا ہوگا۔

loading...