یہ درست ہے کہ پاکستان میں صحافت آزاد ہے

غور سے پڑھیے۔ وزیر اعظم عمران خان کی دلی خواہش ہے کہ پاکستانی صحافی حکومت کی نااہلیوں اور عوام دشمن پالیسیوں کو بلاخوف تنقید کا نشانہ بنائیں۔ ان کے ساتھ کھڑے تمام ادارے بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ عوام دشمن رویوں کی نشان دہی کی جائے۔

پاکستانی میڈیا ہر اس جگہ جائے جہاں دکھوں کے مارے لوگ انصاف کی تلاش میں ہیں۔ وہ ہسپتال جو بےکس اور زخم خوردہ شہریوں سے بھرے ہوئے ہیں، وہ عدالتیں جہاں سے انصاف کم اور ظلم زیادہ ملتا ہے، وہ کاروبار جو تباہ ہو رہے ہیں، وہ جیلیں جو سیاسی قیدیوں کا مسکن بنا دی گئیں ہیں۔ عمران خان کی حکومت اور ہماری ریاست یہ امید کرتی ہے کہ ہم سب کاٹ دار رپورٹنگ کے ذریعے یہ بدترین اور تلخ حقائق بغیر کسی خوف و خطر سامنے لائیں تاکہ رائے عامہ کھوکھلے نعروں اور مختلف قسم کی دغا بازیوں سے متاثر ہونے کے بجائے حقیقت شناسی پر مبنی ہو۔

یقین رکھیں وزیر اعظم عمران اور ان کی تمام مددگار قوتیں صدق دل سے میڈیا کی آزادی پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ سب طاقتور لوگ چاہتے ہیں کہ دھونس، دھاندلی اور فراڈ کے چہرے پر سے قانون کی تہوں کو یکسر اتار دیا جائے۔ اگر یہ سب کچھ حقائق میسر نہ ہونے کی وجہ سے نہ ہو پائے تو پھر رائے اور تجزیے کے وار کر کے جھوٹ کے عفریت کو اتنا گھائل کر دیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہ رہ سکے۔ یہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ ہم آزادی رائے کے بنیادی حق کو کلی طور پر بروئے کار لائیں اور اپنی جان پر کھیلتے ہوئے اس ذمہ داری کو نبھائیں۔ بےشک پاکستان کے وزیر اعظم اور ہماری نظام حکومت پر شدید ترین تنقید کرنے والوں اور عوام کے حقوق کو کچلنے والی پالیسیوں اور رویوں کی نشاندہی کرنے والوں کو قومی اعزازات سے بھی نواز سکتے ہیں۔ یقیناً پاکستان میں آزاد صحافت کی جتنی گنجائش اس وقت ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔

مگر ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ اس تمام تنقید کا ہدف بھارت کی حکومت کو ہونا چاہیے اور آزادی رائے کا استعمال صرف کشمیر میں نریندر مودی کی گھناؤنی واردات پر مرکوز ہونا چاہیے۔ ریاستی جبر حکومتی خباثتیں، بنیادی حقوق سے کھلواڑ یعنی وہ تمام قابل مذمت اقدامات جو دہلی نے کشمیر میں پالیسی کی صورت میں مسلط کیے ہیں ان کو کھلی تنقید کی زد میں لانے کی مکمل چھوٹ ہے۔

آزاد صحافت کا اندرونی معاملات پر اطلاق بہرحال ممنوع ہے۔ یہاں پر بڑھتے ہوئے قرضوں، دنیا بھر کی بدترین سٹاک مارکیٹ کی تہمت، معاشی زوال اور مرکز سے لے کر پنجاب تک اور پنجاب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی آخری حد تک ناقص حکومتی کارکردگی اور ان جیسی تمام خبریں آزاد صحافت کے دائرے سے باہر ہونی چاہیں۔ اس پر بحث نہیں کرنی کہ ہر نامکمل جملے میں دو مرتبہ ریاست مدینہ کا مکمل حوالہ دینے والا وزیر اعظم اپنی ذاتی رہائش گاہ پر سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں رہتے ہوئے کیسے سادہ زندگی کا پیروکار بنا ہوا ہے۔ ہر اہم عہدے پر دوستی یاری کے ذریعے متعین افراد کیسے میرٹ کی اعلیٰ مثال بن سکتے ہیں۔

آزاد صحافت یہ نہ پوچھے کہ جب نریندر مودی کشمیر میں واردات کرنے کی تیاری کر رہا تھا تو اس وقت اس کو گلے لگا کر دوستی کی پینگیں بڑھانے اور امن کی یک طرفہ فاختاؤں کو آسمان پر اڑانے کی پالیسی کی بنیاد کیا تھی۔ جس دن نریندر مودی نے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی ریاست میں ضم کرنے کا ڈرامہ رچایا اس دن ہم کلسٹر بموں کی چار دن پرانی خبر کو بنیاد بنا کر خود کو اصل معاملے سے دور کیوں رکھے ہوئے تھے۔ آزاد تجزیہ اس امر کا احاطہ نہ کرنے کہ بھارت کی اتنی بڑی مذموم کاوش کے جواب میں ہم نے صرف ہائی کمشنر کی واپسی اور تجارت کی وقتی پابندی پر ہی اکتفا کیوں کیا؟

کوئی یہ سوال نہ اٹھائے کہ وہ تمام سفارتی مہمان جن کی گاڑیاں چلانے کا شرف وزیر اعظم نے خود کو بخشا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اتنے اہم موڑ پر ہماری مدد کے لیے دو چار سیدھے جملے کیوں نہیں بول رہے؟

آزاد صحافی کو اپنی آواز دبا کے رکھنی ہے اور یہ نہیں پوچھنا کہ وہ تمام عہدے دار جو جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی کثیر الملکی فوجی اتحاد کی سربراہی کو پاکستان کے لیے غیبی کرشمہ قرار دیتے تھے، اب کیوں وضاحت نہیں کرتے کہ جناب راحیل شریف مکمل طور پر خاموش کیوں ہیں؟

آزادی صحافت کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ کیسے احتساب کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ کوئی ان محرکات کی نشاندہی نہ کرے جو مریم نواز شریف کی گرفتاری کی اصل بنیاد ہیں۔ کوئی یہ نہ بتائے کہ اگر نواز شریف اور مریم نواز آج ملک سے جانے پر راضی ہو جائیں تو اگلے تین سال میں ان کو پاکستانی منصفین سے ہر قسم کی چھوٹ مل سکتی ہے۔ بہترین صحافت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہونے والی مستقل اور منظم سازش کی نشاندہی نہ کرے جس کے ذریعے ان کو عدلیہ سے نکالنے کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔

کوئی آزاد تجزیہ کار ان کی عدالت میں درخواست کے حصے پڑھ کر نہ سنائے۔ کوئی زبان ان کے فیصلوں کے حوالے نہ دے جو قانون کے مطابق تو تھے لیکن انتظامی طور پر یکسر ناقابل قبول ہونے کی وجہ سے اب ان پر پتھراؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ آزاد صحافی یہ نہ بتائیں کہ سیاسی مخالفین کی جائیدادوں کی قرقیاں، ان کے خاندانوں کی زندگیوں کی تباہی، ان کے مکانات کو مسمار کرنے کی پالیسی احتساب پر نہیں ذاتی خواہشات اور اپنی نوکری کو پکا کرنے کی ایک مسلسل جہدوجہد ہے۔

آزاد صحافت اور بے باک تجزیہ صرف کشمیر پر درکار ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم بھارت کے رپورٹرز کی کشمیر میں مظالم پر خبروں پر ان کو شاباش دیں اور ان کے تجزیوں کے حوالے ثبوت کے طور پر پیش کریں تو کوئی حرج نہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے این ڈی ٹی وی اور بھارت کے دوسرے ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے پاکستان کے اندر بطور حوالہ صرف اس وقت استعمال ہوتے تھے جب یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا کہ بھارت کا میڈیا کتنا دو نمبر ہے اور کیسے جھوٹ کی ترجمانی کرتا ہے۔ مگر آج کل نریندر مودی کی کشمیر پر اپنائی گئی تباہ کن پالیسی سے متعلق بھارتی میڈیا میں لکھی گئی ہر تنقیدی سطر، کشمیر سے حاصل کیا ہوا ہر بےکس کشمیری کا بیان اور مظالم کی ہر تصویر ہمارے ہاں بہترین صحافت کے معیار کے طور پر پیش ہوتی ہے۔

اب بھارت کے میڈیا میں ہر وہ صحافی جو کشمیر کے حقائق کسی نہ کسی طور بیان کر رہا ہے اچھی صحافت کا علمبردار سمجھا جا رہا ہے۔ عمران خان کی حکومت اور اس کے بنانے والے آزاد صحافت کو اس گھوڑے کی طرح سمجھتے ہیں جس پر اپنی مرضی کے وقت کاٹھی ڈال کر اپنی منشا کی دوڑ میں بھگایا جا سکتا ہے۔ ان کے تصور میں آزاد صحافت کا کام ان کو شیشہ دکھانا نہیں ہے بلکہ ان کی اطاعت کرتے ہوئے محدود پیمانے پر مخصوص اوقات اور حالات میں ان کے متعین شدہ اہداف کا حصول ہے۔

جس آزاد صحافت کو اپنے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں اور جس کے اظہار کو ملک سے غداری سے تشبیہ دی جاتی ہے اب  اسی کو استعمال کر کے ہم کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہ رہے ہیں۔ جس کو ملک کے اندر لعنت کہتے ہیں اس کو بارڈر کے پار نعمت مانتے ہیں۔ لیکن کشمیر سے متعلق آزاد صحافت میں بھی ایک خاموش شرط موجود ہے اور وہ یہ کہ توجہ صرف نریندر مودی کی خونخواریوں پر ہو اور ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جس سے جنگ کا امکان بڑھ جائے۔ یعنی صحافی تنقید میں جہادی ہو اور تدبیر میں بالکل حکومت جیسا۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ)

loading...