امریکہ میں گرین کارڈ کا حصول مشکل ہوجائے گا، نئی پابندیاں عائد

  • منگل 13 / اگست / 2019
  • 930

امریکی حکومت امیگریشن قوانین میں تبدیلیاں کرتے ہوئے گرین کرڈ کا حصول مشکل بنا رہی ہے۔ نئے قوانین کے تھٹ سرکاری فلاحی امدادی پروگراموں اور متعدد دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اب امریکہ  میں مستقل طور سے رہنے کی اجازت حاصل نہیں کرسکیں گے۔

امریکی قانون کے تحت تارکین وطن گرین کارڈ ملنے کے کم از کم پانچ سال کے بعد حکومت کی جانب سے فراہم کردہ عوامی مفاد کے پروگراموں مثلاً میڈی کیڈ، فوڈ اسٹمپس اور گھروں کی معاونت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوتے ہیں۔ یہ اقدامات پیر کے روز امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے اعلان میں سامنے آئے ہیں، جس کا مقصد امریکہ آنے والے تارکین کی تعداد کم کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر عملدرآمد  ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پالیسی پیر کے روز فیڈرل رجسٹرز ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے جو دو مہینوں میں نافذ ہو جائے گی۔ اس پالیسی میں امریکہ میں مستقل سکونت یعنی گرین گارڈ اور شہریت حاصل کرنے کے لیے نئے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ان تارکین وطن کی تعداد محدود کرنا چاہتی ہے جو امریکی ٹیکس گزاروں کے فراہم کردہ فنڈز کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد کا تعلق وسطی امریکی ملکوں سے ہوتا ہے جو سرحد عبور کر کے امریکہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ان کی بجائے ایسے افراد کو امریکہ کی امیگریشن دینے کی حوصلہ افزائی کی جائے جو اعلیٰ مہارت رکھتے ہیں اور صاحب حیثیت ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ امکان یہ ہے کہ نئے امیگریشن قانون کے تحت گرین کارڈ کے حصول کی درخواستوں کی پراسسنگ میں، مالی حیثیت، تعلیم، عمر اور انگریزی زبان کی مہارت کو اہمیت دی جائے گی۔

یوایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے قائم مقام ڈائریکٹر کن کوچنالی نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کا ادارہ امیگریشن قانون کی صراحت کررہا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ امیگریشن سسٹم میں طریقہ کار کی نئی بندشیں شامل کرنے کے علاوہ میکسیکو کی سرحد پر  دیوار تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  تاکہ امریکہ داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ  پناہ حاصل کرنے کے نظام کو بھی مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔  قانونی دستاویزات نہ رکھنے والوں کو پکڑنے اور ملک بدر کرنے کے لیے حکومت کے اختیارات میں توسیع کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے نتیجے میں امریکہ میں خاندان کی بنیاد پر امیگریشن کی تعداد میں ڈارمائی حد تک کمی ہو سکتی ہے۔  امیگریشن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ نئے قانون کے خلاف فوری طور پر بڑی تعداد میں مقدمات دائر ہوں گے۔

loading...