بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر پر فوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا

  • منگل 13 / اگست / 2019
  • 510

بھارتی  سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک آؤٹ کے خلاف درخوستوں کی سماعت کرتے ہوئے  فوری طور پر کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی صورتحال حساس ہے اس لیے حالات معمول پر آنے تک انتطار کرنا چاہيے۔ کانگریس کے رہنما تحسین پونے والا نے اپنی  پٹیشن میں استدعا کی تھی کہ ریاست کشمیر میں نافذ کرفیو، ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ کی معطلی اور ٹی وی چینلز کی بندش ختم کی جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیری سیاسی قیادت مثلاً سابق وزرا اعلی کشمیر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو رہا کیے جانے کے علاوہ انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پیدا ہونی والی صورتحال پر کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ ملک  کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کے رکن تحسین پونے والا کی جانب سے دائر اس درخواست کی سماعت جسٹس ارون مشرا، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس اجے رستوگی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق انڈین سپریم کورٹ نے اس بارے میں آج کوئی حکم نہیں دیا اور اس معاملے کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ مقامی اخبار کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں کشمیر میں عائد پابندیوں کے حوالے سے جمع کروائی گئی درخواست پر عدالت اعظمیٰ نے فوری سماعت کرنے سے انکار کر دیا اور درخواست گزار سے کہا وہ فوری سماعت کے لیے اپنی پٹیشن رجسٹرار کو جمع کروائے۔ عدالت ان کی درخواست پر غور کرے گی۔

یاد رہے کہ فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کی وجہ سے عام افراد اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ اس سے قبل جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی انڈین حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے خلاف انڈین سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔

یہ درخواست لوک سبھا کے دو اراکین محمد اکبر لون اور سابق جسٹس حسنین مسعودی نے جمع کروائی تھی جس میں انڈین پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون سازی اور اس کے نتیجے میں صدر سے جاری کردہ احکامات کو'غیر آئینی، کالعدم اور غیر فعل' قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

loading...