مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی پر چین کا اظہارتشویش

  • منگل 13 / اگست / 2019
  • 280

چینی وزیرخارجہ وانگ ژی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان  کے مطابق چینی وزیر خارجہ سے ان کے بھارتی ہم منصب سبھرامنیم جے شنکر نے ملاقات کی۔ اس دوران وانگ ژی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت تنازع کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے والے کسی بھی یک طرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی کے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے متنازع علاقے کی حیثیت بدل جائے گی اور اس کے نتیجے میں خطے میں صورتحال کشیدہ ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں گے اور علاقائی امن اور استحکام کی مجموعی صورتحال کی مشترکہ طور پر حفاظت کریں گے۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے چین کے سرحدی علاقوں کو اپنی حدود میں شامل کرنے کے اقدام نے چینی خودمختاری اور مفادات کو چیلنج کیا۔ یہ عمل دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے تحفظ، امن و سلامتی پر دو طرفہ معاہدوں کے برعکس ہے اور اس پر شدید تحفظات ہیں۔

چینی وزیرخارجہ نے امید ظاہر کی کہ بھارت باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے اقدام کرے گا۔ اور چین بھارت تعلقات کی مجموعی صورتحال میں بے جا مداخلت سے گریز کیا جائے گا۔

بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر نے اپنے ملک کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی آئینی ترمیم سے پاک بھارت جنگ بندی کے معاملہ سمیت بھارت-ؤچین سرحد کی کنٹرول لائن میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی امید ہے اور وہ علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کو تیار تھے۔

انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ بھارت مشاورت کے ذریعے چین کے ساتھ سرحدی معاملے کو مکمل طور پر حل کرنے کے عمل کو جاری رکھنے پر رضا مند ہے اور وہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ہوئے اتفاق رائے کی پاسداری کرے گا۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر چین کا تین روزہ دورہ کررہے ہیں۔ یہ دورہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی بھارت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت تبدیل کی ہے جبکہ چین کے ساتھ واقع لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے 'گلوبل ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد چینی دفتر خارجہ سے جاری وانگ ژی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امید ہے بھارت اور پاکستان تنازعات کو پر امن طور پر حل کر لیں گے۔

وزنگ ژی کا مزید کہنا تھا کہ چین کو کشمیر کی موجودہ صورت حال اور بھارت و پاکستان میں بڑھتے تناؤ پر تشویش ہے جبکہ نئی دہلی کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے سے متنازع علاقے جموں کشمیر کا 'اسٹیٹس کو' بھی تبدیل ہو گا جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت نے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا ہے یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر امن اور استحکام برقرار رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے اقدام کو چین درست نہیں گردانتا جبکہ اس سے بیجنگ کے زیر انتظام خطے یا اس سے ملحقہ علاقوں کے حوالے سے تبدیلی آئے گی۔

loading...